مقبوضہ کشمیر میں نوجوان کی شہادت پر مظاہرے بھارتی فورسز کی خواتین اور بچوں پر بھی فائرنگ

واقعہ کیخلاف حریت کانفرنس کی کال پر وادی بھر میں ہڑتال، نظام زندگی مفلوج رہا۔

شوپیاں میں نوجوان کی شہادت کے خلاف کشمیریوں کا کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے دفتر کی جانب مارچ منتشر کرنے کیلیے شیلنگ کی جارہی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

ISLAMABAD:
مقبوضہ کشمیر کے قصبہ شوپیاں میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ایک اور بے گناہ کشمیری شہید ضلع بھر میں تشدد پھر بھڑک اٹھا، جھڑپیں، مظاہرے، قابض فورسز نے خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوگئے جبکہ ضلع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

جبکہ قابض انتظامیہ نے میر واعظ اور دیگر حریت رہنمائوں کو گھر وںمیں نظر بند کر دیا جبکہ میر واعظ کو پریس کانفرنس کرنے سے بھی روک دیا گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق جنوبی قصبہ شوپیاں میں تشدد کی لہر دوبارہ اس وقت بھڑک اٹھی جب سی آر پی ایف اہلکاروں نے بدھ کی شام بغیر کسی وجہ کے بس ڈرائیور نوجوان رفیق احمد راتھر کو گولیاں مار کر شہید کردیا جس کیخلاف گزشتہ روز ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج شروع کردیا اس دوران سیکیورٹی فورسز نے اپنی بربریت جاری رکھتے ہوئے آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ شروع کر دی جسکے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔




کٹھ پتلی انتظامیہ نے تشدد اور مظاہروں کو روکنے کیلیے ایک بار پھر شوپیاں، کولگام ، پلوامہ میں دوبارہ کرفیو نافذ کردیا تاہم کرفیو کے باوجود کئی مقامات پر مظاہرے کیے گئے، مشتعل مظاہرین نے سیکیورٹی فورسز پر پتھرائو کیا جبکہ ڈی سی او آفس شوپیاں کا گھیرائو کرلیا۔ ادھر حریت قائدین کی جانب سے واقعے کیخلاف ہڑتال کی اپیل پر وادی بھر میں کاروباری مراکز تعلیمی ادارے بند اور نظام زندگی مفلوج رہا۔ دوسری جانب جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیراہتمام شوپیاں میں جاری بھارتی جارحیت کیخلاف آج لال چوک سرینگر میں احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ یاسین ملک نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دھرنے میں شرکت کرکے دنیا کو بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی نسل کشی کا بھرپور پیغام پہنچائیں۔
Load Next Story