ووٹرز کے انگوٹھے کے نشان کی تصدیق روکنے کا حکم
سندھ ہائیکورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے الیکشن ٹریبونل سکھر کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا
سندھ ہائیکورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے الیکشن ٹریبونل سکھر کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا. فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی اعجاز حسین جکھرانی کی درخواست پر نوٹس اور حکم امتناع جاری کرتے ہوئے الیکشن ٹریبونل سکھر کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا ہے۔
درخواست گزار اعجاز حسین جاکھرانی نے عابد زبیری ایڈووکیٹ کے توسط سے مسلم لیگی سابق اسپیکر قومی اسمبلی الہی بخش سومرواور دیگر 15 کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ این اے 208جیکب آباد سے انتخابات میں ان سب امیدواروں نے حصہ لیا، درخواست گزار نے 51025ووٹ حاصل کیے جبکہ قریبی حریف الہی بخش سومرو نے 45801ووٹ حاصل کیے ، ان دونوں کے درمیان 5224ووٹوں کا فرق تھا اس لیے ریٹرننگ افسر نے درخواست گزار کو کامیاب قراردیدیا تاہم الہی بخش سومرو نے ان کے خلاف الیکشن کمیشن کو شکایت کی اور دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔
درخواست گزار کے مطابق حلقے کے دیگر امیدواروں میں سے کسی اور نے انتخابی عمل کے خلاف کوئی شکایت نہیں کی، ان کی شکایت کو الیکشن ٹریبونل سکھر بھیج دیا گیا،اس شکایت کی سماعت کے دوران الیکشن ٹریبونل سکھر نے 29اگست کو حلقے کے 69پولنگ اسٹیشنوں کے ڈالے گئے ووٹوں کی تصدیق کے لیے نادرا کو ووٹرز کے شناختی کارڈز اورانتخابی دستاویز پر انگوٹھوں کی نشانات کی تصدیق کا حکم دیدیا جوکہ غیر آئینی و غیر قانونی ہے ، اسے کالعدم قراردیا جائے۔ فاضل بینچ نے ابتدائی دلائل کی سماعت کے بعد ڈپٹی اٹارنی جنرل اور حلقے کے تمام امیدواروں کو 19ستمبر کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے حکم پر عملدرآمد روکنے کی ہدایت کی ہے۔
درخواست گزار اعجاز حسین جاکھرانی نے عابد زبیری ایڈووکیٹ کے توسط سے مسلم لیگی سابق اسپیکر قومی اسمبلی الہی بخش سومرواور دیگر 15 کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ این اے 208جیکب آباد سے انتخابات میں ان سب امیدواروں نے حصہ لیا، درخواست گزار نے 51025ووٹ حاصل کیے جبکہ قریبی حریف الہی بخش سومرو نے 45801ووٹ حاصل کیے ، ان دونوں کے درمیان 5224ووٹوں کا فرق تھا اس لیے ریٹرننگ افسر نے درخواست گزار کو کامیاب قراردیدیا تاہم الہی بخش سومرو نے ان کے خلاف الیکشن کمیشن کو شکایت کی اور دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔
درخواست گزار کے مطابق حلقے کے دیگر امیدواروں میں سے کسی اور نے انتخابی عمل کے خلاف کوئی شکایت نہیں کی، ان کی شکایت کو الیکشن ٹریبونل سکھر بھیج دیا گیا،اس شکایت کی سماعت کے دوران الیکشن ٹریبونل سکھر نے 29اگست کو حلقے کے 69پولنگ اسٹیشنوں کے ڈالے گئے ووٹوں کی تصدیق کے لیے نادرا کو ووٹرز کے شناختی کارڈز اورانتخابی دستاویز پر انگوٹھوں کی نشانات کی تصدیق کا حکم دیدیا جوکہ غیر آئینی و غیر قانونی ہے ، اسے کالعدم قراردیا جائے۔ فاضل بینچ نے ابتدائی دلائل کی سماعت کے بعد ڈپٹی اٹارنی جنرل اور حلقے کے تمام امیدواروں کو 19ستمبر کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے حکم پر عملدرآمد روکنے کی ہدایت کی ہے۔