آئی ایم ایف کی رپورٹ…لمحہ فکریہ
بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا جس کا نتیجہ شرح نمو میں مزید کمی کی صورت میں سامنے آیا۔
پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی بھی معاشی صورت حال بہتر بنانے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ فوٹو: فائل
آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں انتباہ کیا ہے کہ پاکستان سنگین معاشی بحران سے دوچار ہے اور 6.7 ارب ڈالر کے قرضے کے باوجود آیندہ برس شرح نمو مزید کم اور معاشی صورت حال بدتر ہو سکتی ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حکومت کو سنگین معاشی بدحالی' توانائی بحران اور امن وامان کی بگڑتی صورت حال سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے ان چیلنجز کو حل کرنے کے وعدے پر اقتدار حاصل کیا اور برسراقتدار آنے کے بعد اقتصادی اصلاحات کا پروگرام پیش کیا جس کا آئی ایم ایف کی رپورٹ میں خیرمقدم کیا گیا ہے۔ موجودہ مسائل اس قدر گمبھیر اور پیچیدہ ہیں کہ حکومت کے لیے فوری طور پر ان پر قابو پانا ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ توانائی بحران کے باعث صنعتی' تجارتی اور زرعی شعبہ کمزور ہونے سے سرمایہ کاری کا عمل بھی متاثر ہوا ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران توانائی بحران' پٹرول' بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بتدریج اضافے سے جنم لینے والی غیریقینی صورت حال نے معاشی مسائل میں اضافہ کیا ۔
پیداواری لاگت بڑھنے سے صنعت کار اپنے متعدد صنعتی یونٹ بند کرنے پر مجبور ہو گیا۔ بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا جس کا نتیجہ شرح نمو میں مزید کمی کی صورت میں سامنے آیا۔ ان برسوں کے دوران اقتصادی کارکردگی خراب ہونے سے ادائیگیوں کا توازن بھی بگڑا اور عالمی سطح پر پاکستان کا اقتصادی حوالے سے اچھا تاثر پیدا نہیں ہوا۔ اگرچہ حکومت نے معاشی مسائل حل کرنے کے لیے اصلاحات کے پروگرام کا اعلان کیا ہے مگر اس کے ثمرات آنے میں ایک وقت لگے گا' فوری طور پر معاشی منظرنامے میں بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے اور یہ مسائل رواں سال بھی یوں ہی موجود رہیں گے۔ رپورٹ کے مطابق گیس اور بجلی کی شدید قلت' جرائم کی بدترین صورت حال' طالبان کی عسکریت پسندی نے ترقی کی راہ کو روکا اور پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی۔ دہشت گردی کے عفریت نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سابق حکومت میں دہشت گردوں نے اپنی منظم کارروائیوں کی بدولت حکومتی اداروں کو نشانہ بنا کر خوف کی فضا قائم کر دی۔
حکومت تمام تر دعوؤں کے باوجود دہشت گردوں سے نمٹنے میں ناکام رہی' سلامتی کی ابتر صورت حال نے معاشی بحران کو مزید بڑھا دیا۔ملکی سرمایہ کار بھی اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو گیا۔ رپورٹ میں ظاہر کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو صرف تین فیصد رہی جب کہ ملک کو غربت سے نکالنے کے لیے سات فیصد شرح نمو درکار ہے۔ معاشی صورت حال اس قدر پیچیدہ اور گمبھیر ہے کہ شرح نمو میں اس سال بھی اضافے کی کوئی توقع نہیں بلکہ اس میں مزید کمی کے اشاریے ہویدا ہیں۔لہٰذا اس سال بھی غربت میں اضافہ ہونے سے حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئی ایم ایف نے معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی مگر ملکی معاشی صورت حال میں بہتری کے آثار نمایاں نہ ہونے پر اس نے اس میں کمی کرتے ہوئے شرح نمو 2.5 فیصد مقرر کی ہے بشرطیکہ حکومت کی جانب سے ضروری اصلاحات لاگو کی جائیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی بھی معاشی صورت حال بہتر بنانے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے حکومت کو سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت کو ٹیکس وصولیوں میں بھی ناکامی کا سامنا ہے۔ 20 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 12لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں' 82 فیصد سیلز ٹیکس صرف سو کمپنیوں سے حاصل ہوتا ہے۔ بڑے بڑے جاگیردار' سردار اور بااثر افراد ٹیکس دائرے سے باہر ہیں جب کہ ان کا شمار ملکی وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے والے افراد میں ہوتا ہے۔ حکومت کو ان تمام شعبوں پر جو اب تک ٹیکس دائرے سے باہر ہیں' ٹیکس لگانا ہو گا۔ اگر حکومت کسی وجہ سے اپنے ٹیکس بیس میں اضافہ نہیں کر پاتی تو مالی خسارہ بڑھنے سے حکومت کو اپنے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام پر عملدرآمد میں دشواری پیش آ سکتی ہے جس کا حاصل ملکی معاشی شرح نمو میں مزید کمی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ کرنسی کی گرتی ہوئی قیمت سے بھی حکومت کو ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کا مالیاتی خسارہ کم کرنے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانے کے لیے 6.7 ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری تو دی ہے اور 540 ملین ڈالر کی پہلی قسط ادا بھی کر دی ہے مگر ساتھ ساتھ شرح نمو میں مزید کمی کی پیش گوئی بھی کی ہے۔ حکومت نے توانائی بحران کو حل کرنے کے لیے اسے اپنی اولین ترجیحات میں رکھا ہے مگر اس کو حل کرنے میں ایک عرصہ درکار ہے جس کا اظہار حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی کیا جا رہا ہے۔ امن وامن کا مسئلہ اس قدر سنگین ہے کہ حکومت کو اپنے وسائل اور قوت کا ایک بڑا حصہ اس پر قابو پانے کے لیے صرف کرنا پڑے گا۔ اس مسئلے کو حل کرنے میں کئی دشواریاں حائل ہیں جنھیں فوری طور پر قابو میں لانا مشکل امر ہے۔ اب حکومت کو معاشی نمو کی شرح بہتر بنانے کے لیے فوری طور پر ٹیکس نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ جن شعبوں کو ٹیکس چھوٹ دی جا رہی ہے اسے ختم کر کے ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا۔ بااثر سیاسی افراد اور امراء کو بھی ٹیکس دینے پر مجبور کرنا ہو گا۔ دوسری جانب ٹیکس چوری کے عنصر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ٹیکس چوری سرکاری عمال کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں' حکومت کو اس پر بھی توجہ دینا ہو گی۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جس میں فوری طور پر معاشی تبدیلی کی کوئی خوشخبری نہیں سنائی گئی۔
پیداواری لاگت بڑھنے سے صنعت کار اپنے متعدد صنعتی یونٹ بند کرنے پر مجبور ہو گیا۔ بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا جس کا نتیجہ شرح نمو میں مزید کمی کی صورت میں سامنے آیا۔ ان برسوں کے دوران اقتصادی کارکردگی خراب ہونے سے ادائیگیوں کا توازن بھی بگڑا اور عالمی سطح پر پاکستان کا اقتصادی حوالے سے اچھا تاثر پیدا نہیں ہوا۔ اگرچہ حکومت نے معاشی مسائل حل کرنے کے لیے اصلاحات کے پروگرام کا اعلان کیا ہے مگر اس کے ثمرات آنے میں ایک وقت لگے گا' فوری طور پر معاشی منظرنامے میں بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے اور یہ مسائل رواں سال بھی یوں ہی موجود رہیں گے۔ رپورٹ کے مطابق گیس اور بجلی کی شدید قلت' جرائم کی بدترین صورت حال' طالبان کی عسکریت پسندی نے ترقی کی راہ کو روکا اور پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی۔ دہشت گردی کے عفریت نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سابق حکومت میں دہشت گردوں نے اپنی منظم کارروائیوں کی بدولت حکومتی اداروں کو نشانہ بنا کر خوف کی فضا قائم کر دی۔
حکومت تمام تر دعوؤں کے باوجود دہشت گردوں سے نمٹنے میں ناکام رہی' سلامتی کی ابتر صورت حال نے معاشی بحران کو مزید بڑھا دیا۔ملکی سرمایہ کار بھی اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو گیا۔ رپورٹ میں ظاہر کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو صرف تین فیصد رہی جب کہ ملک کو غربت سے نکالنے کے لیے سات فیصد شرح نمو درکار ہے۔ معاشی صورت حال اس قدر پیچیدہ اور گمبھیر ہے کہ شرح نمو میں اس سال بھی اضافے کی کوئی توقع نہیں بلکہ اس میں مزید کمی کے اشاریے ہویدا ہیں۔لہٰذا اس سال بھی غربت میں اضافہ ہونے سے حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئی ایم ایف نے معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی مگر ملکی معاشی صورت حال میں بہتری کے آثار نمایاں نہ ہونے پر اس نے اس میں کمی کرتے ہوئے شرح نمو 2.5 فیصد مقرر کی ہے بشرطیکہ حکومت کی جانب سے ضروری اصلاحات لاگو کی جائیں۔
پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی بھی معاشی صورت حال بہتر بنانے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے حکومت کو سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت کو ٹیکس وصولیوں میں بھی ناکامی کا سامنا ہے۔ 20 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 12لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں' 82 فیصد سیلز ٹیکس صرف سو کمپنیوں سے حاصل ہوتا ہے۔ بڑے بڑے جاگیردار' سردار اور بااثر افراد ٹیکس دائرے سے باہر ہیں جب کہ ان کا شمار ملکی وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے والے افراد میں ہوتا ہے۔ حکومت کو ان تمام شعبوں پر جو اب تک ٹیکس دائرے سے باہر ہیں' ٹیکس لگانا ہو گا۔ اگر حکومت کسی وجہ سے اپنے ٹیکس بیس میں اضافہ نہیں کر پاتی تو مالی خسارہ بڑھنے سے حکومت کو اپنے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام پر عملدرآمد میں دشواری پیش آ سکتی ہے جس کا حاصل ملکی معاشی شرح نمو میں مزید کمی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ کرنسی کی گرتی ہوئی قیمت سے بھی حکومت کو ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کا مالیاتی خسارہ کم کرنے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانے کے لیے 6.7 ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری تو دی ہے اور 540 ملین ڈالر کی پہلی قسط ادا بھی کر دی ہے مگر ساتھ ساتھ شرح نمو میں مزید کمی کی پیش گوئی بھی کی ہے۔ حکومت نے توانائی بحران کو حل کرنے کے لیے اسے اپنی اولین ترجیحات میں رکھا ہے مگر اس کو حل کرنے میں ایک عرصہ درکار ہے جس کا اظہار حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی کیا جا رہا ہے۔ امن وامن کا مسئلہ اس قدر سنگین ہے کہ حکومت کو اپنے وسائل اور قوت کا ایک بڑا حصہ اس پر قابو پانے کے لیے صرف کرنا پڑے گا۔ اس مسئلے کو حل کرنے میں کئی دشواریاں حائل ہیں جنھیں فوری طور پر قابو میں لانا مشکل امر ہے۔ اب حکومت کو معاشی نمو کی شرح بہتر بنانے کے لیے فوری طور پر ٹیکس نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔ جن شعبوں کو ٹیکس چھوٹ دی جا رہی ہے اسے ختم کر کے ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا۔ بااثر سیاسی افراد اور امراء کو بھی ٹیکس دینے پر مجبور کرنا ہو گا۔ دوسری جانب ٹیکس چوری کے عنصر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ٹیکس چوری سرکاری عمال کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں' حکومت کو اس پر بھی توجہ دینا ہو گی۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جس میں فوری طور پر معاشی تبدیلی کی کوئی خوشخبری نہیں سنائی گئی۔