ڈرون حملوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کی تیاری

ادھر امریکا کے پالیسی ساز ڈرون حملے بند کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ عالمی برادری کی اکثریت ڈرون حملوں پر تحفظات رکھتی ہے۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس کی سفارشات کی روشنی میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں اور اس سلسلے میں جنیوا اور نیویارک میں پاکستانی سفارتی مشنز کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چوہدری نے گزشتہ روز اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا ہے کہ ڈرون طیاروں کے استعمال پر امریکا کے ساتھ پاکستان کا کوئی معاہدہ نہیں ہے اور یہ حملے ہماری علاقائی سالمیت اور خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں۔ ڈرون حملے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی قوتوں کے خلاف غیر سود مند ثابت ہو رہے ہیں۔

قبل ازیں یہ تاثر وسیع پیمانے پر موجود تھا کہ پاکستانی حکومت کی اجازت سے فاٹا میں ڈرون حملے ہو رہے ہیں تاہم اب موجودہ حکومت نے کھل کر واضح کر دیا ہے کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکا کے ساتھ کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ موجود نہیں ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے بارے میں پاکستان امریکا سے متعدد بار احتجاج کر چکا ہے لیکن امریکا کی ڈرون پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے' اب پاکستان نے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس بارے میں عالمی برادری نے بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ عالمی برادری کی اکثریت ڈرون حملوں پر تحفظات رکھتی ہے' گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون پاکستان آئے تھے' انھوں نے بھی ڈرون حملوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔


ادھر امریکا کے پالیسی ساز ڈرون حملے بند کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اب اگر پاکستان اقوام متحدہ میں جاتا ہے تو یہ معاملہ جنرل اسمبلی میں جائے گا' یہاں رائے شماری پر فیصلہ ہو گا۔ قرائن یہی ہیں کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اکثریت پاکستانی مؤقف کی تائید کرے گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر امریکا جنرل اسمبلی کی قرارداد پر عمل نہیں کرتا تو پاکستان اگلا قدم کیا اٹھائے گا۔ اصولی طور پر یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جائے گا۔

یہاں حتمی فیصلہ تب ہی ممکن ہے جب ویٹو پاورز متفقہ طور پر راضی ہوں۔ اگر سلامتی کونسل میں امریکا نے ویٹو پاور استعمال کی تو ڈرون حملوں کا معاملہ وہیں لٹک جائے گا۔امریکا کی اب تک کی پالیسی سے یہی لگتا ہے کہ وہ ڈرون حملوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اگر امریکا نے اپنی ڈرون پالیسی جاری رکھی اور سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق استعمال کیا تواس صورت میں پاکستان کیا مؤقف اختیار کرے گا یا کیا اقدام اٹھائے گا، اس کے بارے میں بھی حکومت نے یقینی طور پر کوئی نہ کوئی لائحہ عمل سوچ رکھا ہو گا، بہرحال وفاقی حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس میں ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد کا آغاز کیا ہے تو یہ ایک اچھی پیشرفت کہی جا سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، اس کا انتظار کرنا پڑے گا۔
Load Next Story