پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ایس ایچ او شاہ پورچاکر اور لیاقت کھوسو کویکم اکتوبرکوپیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

لیاقت کھوسو پر قتل، اقدام قتل اور ڈکیتی کے سنگین مقدمات درج ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ میں راہوکی تھانے کے علی محمد مغل، ڈی ایس پی ٹنڈوالہیار ذوالفقار شاہ اور سی آئی اے انچارج حیدرآباد اسلم لانگھا کی سیکنڈ ایڈیشنل سیشن جج سانگھڑکی جانب سے لیاقت کھوسوکی درخواست پرشاہ پورچاکر پولیس کو کیس داخل کر نے کیخلاف اپیل داخل کی ہے۔


عدالت عالیہ نے اپیل کی سماعت پر ماتحت عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ایس ایچ او شاہ پورچاکر اور لیاقت کھوسو کویکم اکتوبرکوپیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں داخل کی جانیوالی اپیل میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ لیاقت کھوسو پر قتل، اقدام قتل اور ڈکیتی کے سنگین مقدمات درج ہیں، لیکن لیاقت کھوسو نے پولیس کو ہراساںکرنے اور بچنے کیلیے سیکنڈ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے شاہ پورچاکر پولیس کو کیس داخل کرنیکا حکم حاصل کیا، درخواست میں عدالت عالیہ سے اپیل کی ہے کہ ماتحت عدالت کا کیس داخل کرنیکا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔

 
Load Next Story