امریکی صدر ٹرمپ کے نسل پرستانہ ٹویٹس
صدر ٹرمپ کے کچھ ٹویٹ تو خاصے مزاحیہ ہوتے ہیں لیکن کچھ بہت خطرناک بھی ہوتے ہیں جو طوفان برپا کر سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے کچھ ٹویٹ تو خاصے مزاحیہ ہوتے ہیں لیکن کچھ بہت خطرناک بھی ہوتے ہیں جو طوفان برپا کر سکتے ہیں۔ فوٹو : فائل
جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس میں قدم رنجا فرمایا ہے تو ان کا کوئی ایک دن بھی پھیکا اور غیر دلچسپ نہیں گزرا۔ وہائٹ ہاؤس میں ان کا سب سے پسندیدہ ہتھیار ''ٹویٹ'' ہے جس کے وار وہ اپنے مخالفین کے علاوہ دوسروں پر بھی بے دریغ کرتے رہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے کچھ ٹویٹ تو خاصے مزاحیہ ہوتے ہیں لیکن کچھ بہت خطرناک بھی ہوتے ہیں جو طوفان برپا کر سکتے ہیں۔ صدر کے چبھتے ہوئے ٹویٹ ان کے سیاسی حریفوں کے علاوہ میڈیا کے خلاف بھی ہوتے ہیں۔
ان ٹویٹس میں صدر ٹرمپ غیر ملکی ریاستوں کو دھمکیاں بھی دیتے ہیں اور ان سے چھیڑ چھاڑ بھی کرتے ہیں، گویا اس اعتبار سے موصوف اپنی سفارتی ذمے داریاں بھی ٹویٹ کے ذریعے آسانی سے ادا کر رہے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے مشکل یہ آن پڑی ہے کہ دنیا کی اکلوتی سپرپاور کا صدر آخر یہ بات سنجیدگی سے کر رہا ہے یا محض تفن طبع کے لیے ایسا کہہ رہا ہے یا بلف مار رہا ہے ، یہ بلف دراصل تاش کے کھیل کی ایک اصطلاح ہے جب ایک کھلاڑی اپنے مدمقابل کو غچہ دینے کے لیے جعلی چال چل رہا ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے حالیہ ٹویٹس میں امریکا کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کی طرف سے امریکی کانگریس کی خاتون رکن نے صدر ٹرمپ پر نسلی فرقہ پرستی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ سفید فاموں کی حمایت کے لیے تمام حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ رنگدار نسل کے لوگوں کی خواہ مخواہ تحقیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ سیاہ فام اور لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والے لوگ واپس اپنے آبائی علاقوں میں چلے جائیں، امریکا میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
لیکن صدر کے ان ریمارکس کا اکثریتی طور پر بہت برا منایا گیا ہے اور اس پر بہت شور بھی مچا۔ دریں اثناء فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے خود پر نسلی امتیاز کے الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے مخالفین خواہ مخواہ بات کو بڑھا چڑھا کر استعمال کرتے ہیں ورنہ وہ تو ہر نسل و قوم کی مساوات کے قائل ہیں اس حقیقت کا ثبوت ان کے اوول آفس کے ملازمین کا جائزہ لے کر لگایا جا سکتا ہے جن میں ہر رنگ و نسل کے لوگ شامل ہیں گویا ان پر نسل پرستی کے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
لیکن صدر ٹرمپ نے اس اختتام ہفتہ پر یکے بعد دیگرے جو ٹویٹ کیے ہیں ان میں چار قانون سازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان اراکین کانگریس میں ایک ہسپانوی نژاد، دوسرا صومالیہ کا، تیسرا عرب اور چوتھا افریقی امریکن ہے ۔ ٹرمپ نے ان چاروں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کی جان چھوڑ دیں اور واپس اپنے اپنے ملکوں کو چلے جائیں۔ ڈیموکریٹک قانون سازوں نے ٹرمپ کے ٹویٹس پر اعتراض کرتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔
صدر ٹرمپ کے کچھ ٹویٹ تو خاصے مزاحیہ ہوتے ہیں لیکن کچھ بہت خطرناک بھی ہوتے ہیں جو طوفان برپا کر سکتے ہیں۔ صدر کے چبھتے ہوئے ٹویٹ ان کے سیاسی حریفوں کے علاوہ میڈیا کے خلاف بھی ہوتے ہیں۔
ان ٹویٹس میں صدر ٹرمپ غیر ملکی ریاستوں کو دھمکیاں بھی دیتے ہیں اور ان سے چھیڑ چھاڑ بھی کرتے ہیں، گویا اس اعتبار سے موصوف اپنی سفارتی ذمے داریاں بھی ٹویٹ کے ذریعے آسانی سے ادا کر رہے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے مشکل یہ آن پڑی ہے کہ دنیا کی اکلوتی سپرپاور کا صدر آخر یہ بات سنجیدگی سے کر رہا ہے یا محض تفن طبع کے لیے ایسا کہہ رہا ہے یا بلف مار رہا ہے ، یہ بلف دراصل تاش کے کھیل کی ایک اصطلاح ہے جب ایک کھلاڑی اپنے مدمقابل کو غچہ دینے کے لیے جعلی چال چل رہا ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے حالیہ ٹویٹس میں امریکا کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کی طرف سے امریکی کانگریس کی خاتون رکن نے صدر ٹرمپ پر نسلی فرقہ پرستی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ سفید فاموں کی حمایت کے لیے تمام حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ رنگدار نسل کے لوگوں کی خواہ مخواہ تحقیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ سیاہ فام اور لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والے لوگ واپس اپنے آبائی علاقوں میں چلے جائیں، امریکا میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
لیکن صدر کے ان ریمارکس کا اکثریتی طور پر بہت برا منایا گیا ہے اور اس پر بہت شور بھی مچا۔ دریں اثناء فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے خود پر نسلی امتیاز کے الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے مخالفین خواہ مخواہ بات کو بڑھا چڑھا کر استعمال کرتے ہیں ورنہ وہ تو ہر نسل و قوم کی مساوات کے قائل ہیں اس حقیقت کا ثبوت ان کے اوول آفس کے ملازمین کا جائزہ لے کر لگایا جا سکتا ہے جن میں ہر رنگ و نسل کے لوگ شامل ہیں گویا ان پر نسل پرستی کے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
لیکن صدر ٹرمپ نے اس اختتام ہفتہ پر یکے بعد دیگرے جو ٹویٹ کیے ہیں ان میں چار قانون سازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان اراکین کانگریس میں ایک ہسپانوی نژاد، دوسرا صومالیہ کا، تیسرا عرب اور چوتھا افریقی امریکن ہے ۔ ٹرمپ نے ان چاروں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کی جان چھوڑ دیں اور واپس اپنے اپنے ملکوں کو چلے جائیں۔ ڈیموکریٹک قانون سازوں نے ٹرمپ کے ٹویٹس پر اعتراض کرتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔