وفاق کا تعاون جاری رہا تو کراچی میں امن قائم کر کے رہیں گے قائم علی شاہ
گرفتاریوں پرکسی کواعتراض ہے توعدالتوں سے رجوع کرے، وزیراعلیٰ سندھ،سیمینارسے خطاب
کراچی کے معاملے پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،گرفتاریوں پرکسی کواعتراض ہے توعدالتوں سے رجوع کرے، وزیراعلیٰ سندھ،سیمینارسے خطاب. فوٹو: فائل
وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کہاہے کہ کراچی میں امن وامان کے معاملے پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
ہم کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ جرائم پیشہ افرادکیخلاف کارروائی کررہے ہیں،عدالتیں آزادہیں ، اگرکسی کوگرفتاریوں پراعتراض ہے تووہ عدالت سے رجوع کرے،اگر وفاق کا تعاون جاری رہا تو کراچی میں امن قائم کرکے رہیں گے،کراچی کے نوجوانوں سے بھی میں یہ وعدہ کرتاہوں کہ جو کام پچھلے 5سالوں میں نہیں ہوسکا،وہ ہم اب کرکے دکھائیں گے اورانھیں مایوس نہیں کرنگے،پی آئی اے اوردیگراداروں کی نجکاری کیخلاف میں مشترکہ مفادات کی کونسل میں معاملہ اٹھاؤں گا،وزیراعظم کے گڈانی کے کول پاور پلانٹس سے پہلے ہم کیٹی بندرمیں کول پاورپلانٹ چلا کردکھائیں گے۔جمعے کومقامی ہوٹل میں پیپلز پار ٹی کراچی ڈویژن کے زیراہتمام منعقدہ سیمینارسے خطاب کررہے تھے۔
سیمینار کاموضوع صدر آصف علی زرداری کے پانچ سال ''پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور ارتقاپراس کے اثرات''تھا۔سیمینار سے پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات قمرزمان کائرہ،مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری جنرل سینیٹررضاربانی،عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختواکے صدرسینیٹر افراسیاب خٹک،ممتازصحافی اوردانشورامتیازعالم،پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر عبدالقادر پٹیل،سیکریٹری جنرل نجمی عالم اوردیگرنے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پرصوبائی وزیر روبینہ قائمخانی ،سینیٹر سعیدغنی ، سینیٹر شاہی سید ، تاج حیدر ، وزیراعلیٰ سندھ کے معاونین خصوصی وقار مہدی، راشد ربانی ، صدیق ابو بھائی ، امتیاز عالم، وجاہت مسعود ، اصغر ندیم سید ، پیپلز پارٹی کے صوبائی وزرا، عہدیداروں، رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن سے متعلق کہا کہ جرائم پیشہ افرادکے خلاف کارروائی کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اوروفاقی حکومت بھی سندھ حکومت سے بھرپورتعاون کررہی ہے اوریہ تعاون جاری رہاتوہم اپنے مقاصدحاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
انھوں نے واضح کیاکہ ٹارگٹڈآپریشن بلا تفریق کیاجا رہا ہے ہم کسی فردیاپارٹی کے خلاف نہیں دہشتگرد اورجرائم پیشہ افراد کوتلاش کر کے ان کا صفایاکیا جائے گا،ہم چاہتے ہیں کہ سب کے ساتھ انصاف ہواگرکسی کواعتراض ہے تو عدالتیں آزادہیں،دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سب سے مشاورت اوراتفاق رائے کے بعدشروع کیاتھا، امن و امان کے قیام میں کسی قسم کاسمجھوتہ نہیں ہوگا،کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے کیلیے سب کا تعاون ضروری ہے ،پی آئی اے کی نجکاری کامعاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھایاجائے گا اورہم وہی مؤقف اختیار کریں گے جو ورکرزکے مفادمیں ہوگا، آصف علی زرداری نے اپنی سیاسی بصیرت اورویژن سے مخالفین کوبھی سیاست کے گر سکھائے ۔
انھوں نے مشکل حالات میں نہ صرف پیپلزپارٹی بلکہ ملک کو بھی سنبھالا اور جمہوریت کے فروغ میں مثالی کردار اداکیا ، مخالفین بھی آصف زرداری کی دور اندیشی کے قائل ہیں۔سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر سخت تنقیدکی اورکہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے سسٹم کوڈی ریل کرنے کی کوشش کی تھی،لیکن (ن)لیگ کی یہ سازش اس لیے کامیاب نہیں ہوئی کہ پہلے جہاں سازشیں جنم لیتی تھیں،وہاں آصف زرداری خودموجود تھے، آصف علی زرداری نے وفاق کو مضبوط کیا،جس کا ثبوت یہ ہے کہ آصف علی زرداری 18 ویں ترمیم نہ کرتے تو آج نواز شریف وزیراعظم نہ ہوتے۔ سنیٹررضاربانی نے کہاکہ پیپلز پارٹی آج بھی روٹی کپڑااور مکان کے نعرے پرقائم ہے، کارکنان میں ناراضی ہوسکتی ہے لیکن جب بھی پارٹی پرکڑاوقت آیا توپارٹی کے جیالوں نے ہمیشہ پارٹی کا پرچم تھامے رکھا۔
ہم کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ جرائم پیشہ افرادکیخلاف کارروائی کررہے ہیں،عدالتیں آزادہیں ، اگرکسی کوگرفتاریوں پراعتراض ہے تووہ عدالت سے رجوع کرے،اگر وفاق کا تعاون جاری رہا تو کراچی میں امن قائم کرکے رہیں گے،کراچی کے نوجوانوں سے بھی میں یہ وعدہ کرتاہوں کہ جو کام پچھلے 5سالوں میں نہیں ہوسکا،وہ ہم اب کرکے دکھائیں گے اورانھیں مایوس نہیں کرنگے،پی آئی اے اوردیگراداروں کی نجکاری کیخلاف میں مشترکہ مفادات کی کونسل میں معاملہ اٹھاؤں گا،وزیراعظم کے گڈانی کے کول پاور پلانٹس سے پہلے ہم کیٹی بندرمیں کول پاورپلانٹ چلا کردکھائیں گے۔جمعے کومقامی ہوٹل میں پیپلز پار ٹی کراچی ڈویژن کے زیراہتمام منعقدہ سیمینارسے خطاب کررہے تھے۔
سیمینار کاموضوع صدر آصف علی زرداری کے پانچ سال ''پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور ارتقاپراس کے اثرات''تھا۔سیمینار سے پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات قمرزمان کائرہ،مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری جنرل سینیٹررضاربانی،عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختواکے صدرسینیٹر افراسیاب خٹک،ممتازصحافی اوردانشورامتیازعالم،پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر عبدالقادر پٹیل،سیکریٹری جنرل نجمی عالم اوردیگرنے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پرصوبائی وزیر روبینہ قائمخانی ،سینیٹر سعیدغنی ، سینیٹر شاہی سید ، تاج حیدر ، وزیراعلیٰ سندھ کے معاونین خصوصی وقار مہدی، راشد ربانی ، صدیق ابو بھائی ، امتیاز عالم، وجاہت مسعود ، اصغر ندیم سید ، پیپلز پارٹی کے صوبائی وزرا، عہدیداروں، رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن سے متعلق کہا کہ جرائم پیشہ افرادکے خلاف کارروائی کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اوروفاقی حکومت بھی سندھ حکومت سے بھرپورتعاون کررہی ہے اوریہ تعاون جاری رہاتوہم اپنے مقاصدحاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
انھوں نے واضح کیاکہ ٹارگٹڈآپریشن بلا تفریق کیاجا رہا ہے ہم کسی فردیاپارٹی کے خلاف نہیں دہشتگرد اورجرائم پیشہ افراد کوتلاش کر کے ان کا صفایاکیا جائے گا،ہم چاہتے ہیں کہ سب کے ساتھ انصاف ہواگرکسی کواعتراض ہے تو عدالتیں آزادہیں،دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سب سے مشاورت اوراتفاق رائے کے بعدشروع کیاتھا، امن و امان کے قیام میں کسی قسم کاسمجھوتہ نہیں ہوگا،کراچی کو امن کا گہوارہ بنانے کیلیے سب کا تعاون ضروری ہے ،پی آئی اے کی نجکاری کامعاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھایاجائے گا اورہم وہی مؤقف اختیار کریں گے جو ورکرزکے مفادمیں ہوگا، آصف علی زرداری نے اپنی سیاسی بصیرت اورویژن سے مخالفین کوبھی سیاست کے گر سکھائے ۔
انھوں نے مشکل حالات میں نہ صرف پیپلزپارٹی بلکہ ملک کو بھی سنبھالا اور جمہوریت کے فروغ میں مثالی کردار اداکیا ، مخالفین بھی آصف زرداری کی دور اندیشی کے قائل ہیں۔سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر سخت تنقیدکی اورکہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے سسٹم کوڈی ریل کرنے کی کوشش کی تھی،لیکن (ن)لیگ کی یہ سازش اس لیے کامیاب نہیں ہوئی کہ پہلے جہاں سازشیں جنم لیتی تھیں،وہاں آصف زرداری خودموجود تھے، آصف علی زرداری نے وفاق کو مضبوط کیا،جس کا ثبوت یہ ہے کہ آصف علی زرداری 18 ویں ترمیم نہ کرتے تو آج نواز شریف وزیراعظم نہ ہوتے۔ سنیٹررضاربانی نے کہاکہ پیپلز پارٹی آج بھی روٹی کپڑااور مکان کے نعرے پرقائم ہے، کارکنان میں ناراضی ہوسکتی ہے لیکن جب بھی پارٹی پرکڑاوقت آیا توپارٹی کے جیالوں نے ہمیشہ پارٹی کا پرچم تھامے رکھا۔