کپتان کے تقرر کی آئی سی سی کو اطلاع دینا لازم
سلواوور ریٹ میں سزا سے بچنے کیلیے اچانک تبدیلی جیسے مسائل سے نمٹا جا سکے گا
میٹنگ میں اسپیشلسٹ تھرڈ امپائرز متعارف کرائے جانے کی تجویز بھی پیش ہوگی۔ فوٹو: رائٹرز/فائل
آئی سی سی ایگزیکٹیو بورڈ کا 2 روزہ اجلاس پیر اور منگل کو دبئی میں منعقد ہوگا، اس موقع پر پلیئنگ کنڈیشنز کا ازسرنو جائزہ لینے کا امکان ہے۔
رکن بورڈز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ تینوں فارمیٹس کیلیے اپنے کپتان نامزد کرنے کی باضابطہ طور پر پہلے کونسل کو اطلاع دیں، اس سے سلو اوور ریٹ میں سزا سے بچنے کیلیے اچانک قائدکی تبدیلی جیسے مسائل سے بچا جا سکے گا، واضح رہے کہ گذشتہ دنوں سابق سری لنکن مہیلا جے وردنے نے اوور ریٹ کی سزا سے بچنے کے لیے اپنی جگہ قیادت کمار سنگاکارا کو سونپ دی اور خود میچ میں بطور بیٹسمین حصہ لیا تھا۔
ذرائع کے مطابق منظوری کی صورت میں یہ قانون یکم اکتوبر سے نافذ ہوجائے گا، جس کے مطابق ہر ممبر بورڈ کو پابند کیا جائیگا کہ وہ اپنے کپتان کو نامزد کرنے کی اطلاع لازمی طور پر آئی سی سی کو دے، اگر کپتان متعلقہ ہوم سیریز میں حصہ نہیں لے تو ہوم بورڈ کو لازمی طور پر سیریز کیلیے متبادل قائد بھی نامزد کرنا ہوگا۔
اگر کوئی کپتان میچ میں عام پلیئر کی حیثیت سے بھی حصہ لے تب بھی اس پر اوور ریٹ کی خلاف ورزی پر ضابطہ اخلاق نافذ ہوگا۔ بیٹسمین کو موسم اور کم روشنی کے سبب کھیل جاری رکھنے میں دشواری ہونے پر میچ میں تعطل کو ''اسٹاپج ٹائم'' شمارکیا جائیگا، میچ کو 25 یاکم اوورز تک محدود کیے جانے کی صورت میں ہر ٹیم کو صرف ایک نئی گیند ملے گی، اگر خراب موسم کی وجہ سے کم اوورز تک محدود کیے جانے والے مقابلے میں میچ اس دن مکمل نہیں ہوپاتا تو اگلے ریزرو ڈے میں بھی وہیں سے شروع خیال ہوگا جہاں سلسلہ ٹوٹا ہوگا۔
حالیہ ایشز سیریز میں ٹی وی امپائرنگ کے غیرمعیاری فیصلوں نے ٹی وی آفیشلز کے کردار کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے، اس لیے اجلاس میں اسپیشلسٹ تھرڈ امپائرز متعارف کرائے جانے کی تجویز پیش کی جائے گی، انگلش بورڈ حالیہ نتائج کے بعد ٹی وی امپائرز کے معیار کو بہتر بنانے کیلیے خاص ٹریننگ پروگرام کی تجویز دے گا، سردست آئی سی سی ایلیٹ پینل میں شامل 12 آفیشلز کو ہی بدل بدل کر اس پوزیشن پر آزمایا جاتا ہے، آسٹریلوی اور انگلش بورڈز سمجھتے ہیں کہ ایل بی ڈبلیو پر ریفرل لیے جانے کے لیے امپائرز 'کال' دیں، اس سے ٹیموں کے اننگز میں 2 ریویوز متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔
رکن بورڈز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ تینوں فارمیٹس کیلیے اپنے کپتان نامزد کرنے کی باضابطہ طور پر پہلے کونسل کو اطلاع دیں، اس سے سلو اوور ریٹ میں سزا سے بچنے کیلیے اچانک قائدکی تبدیلی جیسے مسائل سے بچا جا سکے گا، واضح رہے کہ گذشتہ دنوں سابق سری لنکن مہیلا جے وردنے نے اوور ریٹ کی سزا سے بچنے کے لیے اپنی جگہ قیادت کمار سنگاکارا کو سونپ دی اور خود میچ میں بطور بیٹسمین حصہ لیا تھا۔
ذرائع کے مطابق منظوری کی صورت میں یہ قانون یکم اکتوبر سے نافذ ہوجائے گا، جس کے مطابق ہر ممبر بورڈ کو پابند کیا جائیگا کہ وہ اپنے کپتان کو نامزد کرنے کی اطلاع لازمی طور پر آئی سی سی کو دے، اگر کپتان متعلقہ ہوم سیریز میں حصہ نہیں لے تو ہوم بورڈ کو لازمی طور پر سیریز کیلیے متبادل قائد بھی نامزد کرنا ہوگا۔
اگر کوئی کپتان میچ میں عام پلیئر کی حیثیت سے بھی حصہ لے تب بھی اس پر اوور ریٹ کی خلاف ورزی پر ضابطہ اخلاق نافذ ہوگا۔ بیٹسمین کو موسم اور کم روشنی کے سبب کھیل جاری رکھنے میں دشواری ہونے پر میچ میں تعطل کو ''اسٹاپج ٹائم'' شمارکیا جائیگا، میچ کو 25 یاکم اوورز تک محدود کیے جانے کی صورت میں ہر ٹیم کو صرف ایک نئی گیند ملے گی، اگر خراب موسم کی وجہ سے کم اوورز تک محدود کیے جانے والے مقابلے میں میچ اس دن مکمل نہیں ہوپاتا تو اگلے ریزرو ڈے میں بھی وہیں سے شروع خیال ہوگا جہاں سلسلہ ٹوٹا ہوگا۔
حالیہ ایشز سیریز میں ٹی وی امپائرنگ کے غیرمعیاری فیصلوں نے ٹی وی آفیشلز کے کردار کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے، اس لیے اجلاس میں اسپیشلسٹ تھرڈ امپائرز متعارف کرائے جانے کی تجویز پیش کی جائے گی، انگلش بورڈ حالیہ نتائج کے بعد ٹی وی امپائرز کے معیار کو بہتر بنانے کیلیے خاص ٹریننگ پروگرام کی تجویز دے گا، سردست آئی سی سی ایلیٹ پینل میں شامل 12 آفیشلز کو ہی بدل بدل کر اس پوزیشن پر آزمایا جاتا ہے، آسٹریلوی اور انگلش بورڈز سمجھتے ہیں کہ ایل بی ڈبلیو پر ریفرل لیے جانے کے لیے امپائرز 'کال' دیں، اس سے ٹیموں کے اننگز میں 2 ریویوز متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔