شام کی صورتحال پر تشویش ہے ایران کیخلاف یکطرفہ پابندیاں قبول نہیں شنگھائی تعاون تنظیم کا اعلامیہ
شام نے بحران کے حل کیلیے مثبت اقدام کیے،اب مذاکرات کیے جائیں، چین
رکن ممالک میں تعاون کیلیے 5 سالہ ایکشن پلان منظور، اجلاس میں روس،چین، کرغیزستان، قازقستان،ازبکستان،تاجکستان کی شرکت، بعد میں افغانستان، ایران،منگولیہ کے صدور اور مبصر ممالک پاکستان وبھارت کے وفود بھی شریک ہوئے۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل
شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان نے بشکیک اعلامیے میں رکن ملکوں کے مابین تعاون، دوستی اوراچھی ہمسائیگی کے معاہدے پرعملدرآمد کی غرض سے ایکشن پلان برائے 2013-17 کی منظوری دیدی۔
اعلامیے میں تنظیم کے رکن ملکوں کے درمیان ترقی اورعملی تعاون بڑھانے پراتفاق کیا گیا ہے۔ سربراہ اجلاس میںایس سی اوکے رہنماؤں نے رکن ملکوں کے درمیان سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون سے متعلق معاہدے کی بھی منظوری دی۔ اعلامیے میں ایران کے اردگردصورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ایران کے خلاف بعض طاقتوں کی جانب سے یکطرفہ پابندیوں اور فوجی کارروائی کی دھمکیوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ رکن ملکوں نے مشرق وسطیٰ خصوصاً شام کی صورتحال پربھی تشویش کااظہار کیا ہے۔ رکن ممالک نے اس عزم کااظہار کیا ہے کہ اسمگلنگ، دہشتگردی، انتہا پسندی اورعلیٰحدگی پسندی کے خلاف تعاون جاری رکھیں گے۔
ایک روزہ اجلاس میںروس، چین، کرغیزستان، قازقستان، ازبکستان اور تاجکستان کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ بعد میں افغانستان، ایران اورمنگولیہ کے صدورکے علاوہ مبصر ممالک پاکستان اور بھارت کے وفودبھی شریک ہوئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چین کے صدرژی جن پنگ نے کہا کہ شام نے بحران کے حل کیلیے مثبت اقدام کیے ہیں، اب جنگ بندی کرکے مذاکرات کیے جائیں۔ روس کے صدرپوتن نے کہا کہ عالمی قوتیں شامی حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں۔ شامی حکومت کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کے لیے بھی تیارہو گئی ہے جبکہ حالات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ پوتن نے تجویزدی کہ شنگھائی تنظیم تعاون کاترقیاتی فنڈقائم کیا جائے۔
ایرانی صدرحسن روحانی نے کہاہے کہ ایران پرعائد پابندیاں غیرمہذب، خطرناک روایت اورانسان دشمن ہیں۔ ہماراایٹمی پروگرام پرامن مقاصدکے لیے ہے۔ ایٹم بم نہیںبنا رہے۔ ایرانی صدرنے کہا کہ مغرب کوایک بار پھر دعوت دیتے ہیں کہ ایٹمی پروگرام پرباہمی احترام کے ساتھ بات چیت کی جائے۔ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی مشیرخارجہ سرتاج عزیزنے کی۔ انھوںنے اپنے خطاب میںکہا کہ پاکستان 2014 کے بعدافغانستان میں مداخلت نہ کرنے اورکسی بھی افغان حکومت کوپسندیدہ قرارنہ دینے کی اپنی پالیسی کا پہلے ہی اعلان کرچکا ہے۔ افغانستان کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنی قیادت میںمفاہمتی عمل شروع کرے۔
اعلامیے میں تنظیم کے رکن ملکوں کے درمیان ترقی اورعملی تعاون بڑھانے پراتفاق کیا گیا ہے۔ سربراہ اجلاس میںایس سی اوکے رہنماؤں نے رکن ملکوں کے درمیان سائنس وٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون سے متعلق معاہدے کی بھی منظوری دی۔ اعلامیے میں ایران کے اردگردصورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ایران کے خلاف بعض طاقتوں کی جانب سے یکطرفہ پابندیوں اور فوجی کارروائی کی دھمکیوں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ رکن ملکوں نے مشرق وسطیٰ خصوصاً شام کی صورتحال پربھی تشویش کااظہار کیا ہے۔ رکن ممالک نے اس عزم کااظہار کیا ہے کہ اسمگلنگ، دہشتگردی، انتہا پسندی اورعلیٰحدگی پسندی کے خلاف تعاون جاری رکھیں گے۔
ایک روزہ اجلاس میںروس، چین، کرغیزستان، قازقستان، ازبکستان اور تاجکستان کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ بعد میں افغانستان، ایران اورمنگولیہ کے صدورکے علاوہ مبصر ممالک پاکستان اور بھارت کے وفودبھی شریک ہوئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چین کے صدرژی جن پنگ نے کہا کہ شام نے بحران کے حل کیلیے مثبت اقدام کیے ہیں، اب جنگ بندی کرکے مذاکرات کیے جائیں۔ روس کے صدرپوتن نے کہا کہ عالمی قوتیں شامی حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں۔ شامی حکومت کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کے لیے بھی تیارہو گئی ہے جبکہ حالات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ پوتن نے تجویزدی کہ شنگھائی تنظیم تعاون کاترقیاتی فنڈقائم کیا جائے۔
ایرانی صدرحسن روحانی نے کہاہے کہ ایران پرعائد پابندیاں غیرمہذب، خطرناک روایت اورانسان دشمن ہیں۔ ہماراایٹمی پروگرام پرامن مقاصدکے لیے ہے۔ ایٹم بم نہیںبنا رہے۔ ایرانی صدرنے کہا کہ مغرب کوایک بار پھر دعوت دیتے ہیں کہ ایٹمی پروگرام پرباہمی احترام کے ساتھ بات چیت کی جائے۔ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی مشیرخارجہ سرتاج عزیزنے کی۔ انھوںنے اپنے خطاب میںکہا کہ پاکستان 2014 کے بعدافغانستان میں مداخلت نہ کرنے اورکسی بھی افغان حکومت کوپسندیدہ قرارنہ دینے کی اپنی پالیسی کا پہلے ہی اعلان کرچکا ہے۔ افغانستان کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنی قیادت میںمفاہمتی عمل شروع کرے۔