ڈومیسٹک ہاکی میں سخت مقابلے کی فضا پیدا کرنا ہوگی
قومی کھیل کا دوبارہ عروج طویل مدت منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں
سیکریٹری پی ایچ ایف اولمپیئن رانا مجاہد علی کا خصوصی انٹرویو ۔ فوٹو : فائل
WASHINGTON:
کبھی دنیائے ہاکی پر پاکستان کا راج تھا، کوئی عالمی اعزاز ایسا نہ تھا جو گرین شرٹس نے اپنے نام کے آگے درج نہ کروایا ہو، وقت کے ساتھ کھیل کے قوانین، فٹنس کا معیار بدل گیا، قومی ٹیم کا زوال کی طرف سفر شروع ہوا، ایک ایک کر کے انٹرنیشنل اعزاز ہماری پہنچ سے دور ہوتے گئے۔
ناکامیوں کی داستان طویل ہوئی تو قومی کھیل عوامی سطح پر مقبولیت کھو بیٹھا، سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مختلف اداروں نے اپنی ہاکی ٹیمیں ختم کر کے توجہ کرکٹ اور دیگر کھیلوں پر مرکوز کر لی، سکول کالج اور کلب سطح پر مقابلے کا رجحان بھی ختم ہونے سے مستقبل کے لیے سٹار تلاش کرنے کا عمل بھی جمود کا شکار نظر آنے لگا، پاکستان ہاکی فیڈریشن میں کئی بارتبدیلی بھی کسی کام نہ آسکی، باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی کے سبب پیدا ہونے والا خلا پر کرنے میں ناکامی نے فتوحات کا حصول دشوار بنادیا، چند ایونٹس میں بہتر کارکردگی کے باجود کارکردگی میں عدم تسلسل کے سبب گرین شرٹس ایک اور سنگ میل عبور کرنے میں ناکام رہے، ورلڈ لیگ میں ٹاپ تھری میں جگہ بناکر بھی پاکستان ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرسکتا تھا لیکن جنوبی کوریا کے ہاتھوں شکست نے خواب چکنا چور کردیئے۔
میگا ایونٹ میں شرکت کا آخری موقع ایشیا کپ ٹائٹل حاصل کرنے کی صورت میں موجود تھا لیکن سیمی فائنل میں ایک بار پھر کورین ٹیم ہی حائل ہوگئی، اس صورتحال میں پی ایچ ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سیکریٹری آصف باجوہ کے استعفٰی دینے پر عہدہ اولمپئن رانا مجاہد علی کے سپردکیا گیا ہے، انٹرنیشنل ہاکی اور ڈومیسٹک سطح پر انتظامی امور کا وسیع تجربہ رکھنے والے سڈنی ورلڈ کپ اور لاہور چیمپئنز ٹرافی 1994ء میں گولڈ، بارسلونا اولمپکس 1992 میں برانز، بیجنگ ایشین گیمز 1990ء میں سنہری تمغہ جیتنے والی ٹیم کے رکن اور صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کے حامل سابق سٹار کو قومی کھیل کی ساکھ بحال کرنے کا چیلنج درپیش ہے،اپنے دور میں قومی ٹیم کی دفاع کی ذمہ داری بھرپور طریقے سے اٹھانے والے رانا مجاہد علی اب نئے اور اہم کردار میں عوامی توقعات کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔''ایکسپریس'' نے ان کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس کی تفصیل قارئین کی نذر ہے۔
ایکسپریس: ایک طالب علم سے نامور ہاکی سٹار تک اپنے سفر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
رانا مجاہد علی: فیصل آباد کے علاقہ طارق آباد میں میرے گھر کے آس پاس کئی گراؤنڈز تھے، ملک میں ہاکی کی مقبولیت عروج پر تھی، ورلڈ کپ کے فاتح کپتان چوہدری اختر رسول کو آئیڈیل مانتے ہوئے کھیل کا آغاز کیا، گورنمنٹ مسلم ہائی سکول کی ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے شہر کی سطح پر پہچان بنائی،گورنمنٹ کاج فیصل آباد میں شہباز سینئر تعلیمی میدان میں بھی ایک سال سینئر تھے، فرسٹ ایئر مکمل کرتے ہی قومی جونیئر ٹیم کا حصہ بن کر دورہ یورپ پر روانہ ہوا، 3 سال تک جونیئر اور سینئر دونوں ٹیموں کی طرف سے کھیلنے کا موقع ملا، پہلا انٹرنیشنل میچ بھارت میں اندراگاندھی گولڈ کپ میں سپین کے خلاف کھیلا، پہلی بار گرین شرٹس پہننے پر خوشی کا احساس لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کو ورلڈ کپ کے بعد اپنے لئے سب سے بڑا اعزاز سمجھتا ہوں۔
ایکسپریس: کل اور آج کی ہاکی میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
رانا مجاہد علی: ہمارے لئے قومی کھیل ایک جذبے اور جنون کا نام تھا، لاہور کے نیشنل ہاکی سٹیڈیم کا افتتاح چیمپئنز ٹرافی مقابلوں کے ساتھ ہوا، قومی ہیروز کو ایکشن میں دیکھنے کی خواہش رکھنے والے شائقین کا سیلاب میدان کی طرف امڈ آیا تھا، زندگی میں کبھی ایسا جوش و جذبہ نہیں دیکھا، ٹائٹل کے لیے فیصلہ کن میچ کے دوران سٹیڈیم کے اندر اور باہر تل د ھرنے کو جگہ نہیں تھی، کوئی مناسب راستہ نہ ملنے پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو گیٹ توڑ کر میدان کے اندر داخل کرایا گیا۔
1990ء کے ورلڈ کپ میں مجھ سمیت ٹیم کے ہر کھلاڑی کو مجموعی طور پر دو، دو ہزار روپے ملے، یومیہ الاؤنس 100 روپے تھا،کیمپ میں صرف 50 روپے روزانہ ملتے، کھلاڑیوں کو آمدنی قلیل ہونے کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں ہوتی تھی، صرف ملک و قوم کی عزت کے لیے جان لڑانے کی دھن سر پر سوار ہوتی، میگا ایونٹ میں ہمیں گولڈ میڈل حاصل کرنے کا 100 فیصد یقین تھا لیکن ایک اپ سیٹ شکست نے خواب بکھیر دیئے۔ 1992ء اولمپکس میں پاکستان نے اپنے پول کے تمام ابتدائی میچ جیت لئے، تاہم گروپ میں ٹیم پوزیشن ایسی ہو گئی کہ سپین کو ہرائے بغیر سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکتے تھے، یہ مرحلہ تو آسانی سے عبور کر لیا مگر سخت مقابلے کے بعد جرمنی کے ہاتھوں 1-2 سے شکست کے باعث ٹائٹل کی طرف پیش قدمی جاری نہ رکھ سکے، حریف ٹیم کے کوچ نے میچ کو ہاکی کی تاریخ کے بہترین مقابلوں میں سے ایک قرار دیا۔
دوسری طرف پاکستانی ٹیم کا کوئی کھلاڑی اور آفیشل ایسا نہیں تھا جو خون کے آنسو نہ رویا ہو، کوچ اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے پلیئرز کو دلاسے بھی دے رہے تھے تاکہ تیسری پوزیشن کے میچ کے لیے ان کا حوصلہ بندھا رہے، ٹائٹل سے محرومی کے باوجود عمدہ کھیل پر قوم اور سیکرٹری پی ایچ ایف نواز ٹوانہ نے قومی ٹیم کا شاندار استقبال کیا۔ آج کی ہاکی ماضی جیسی رونقیں کھو چکی، سکول و کالج کی سطح پر جوش و جذبہ بھی ماند پڑ چکا، کھیل قومی ترجیحات میں پیچھے جا چکے تو ہاکی میں بھی مقابلے کا رجحان کمزور پڑ گیا ہے۔
آج کل کھلاڑیوں کو ماہانہ سنٹرل کنٹریکٹ کی معقول رقم ملتی ہے، یومیہ الاؤئنس 150 ڈالر ہے جو پاکستانی روپوں میں 15 ہزار روپے سے اوپر بنتا ہے، کیمپ کے دوران بھی ایک ہزار روپے روزانہ ملتے ہیں، غیر ملکی لیگز کی آڑ میں الگ سے آمدنی کھلاڑیوں کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر ہوتی ہے لیکن گراس روٹ سطح سے اوپر تک ملک و قوم کے لئے تڑپ میں وہ شدت نہیں آتی جو ماضی میں نظر آتی تھی، اس دور میں سابق سٹارز بھی ٹیم پر تنقید برائے تنقید کرنے کے بجائے مثبت تجاویز سامنے لاتے تھے جن پر غور کرنے کے بعد مستقبل کے لیے بہتری کے راہیں تلاش کی جاتیں۔
ایکسپریس: ورلڈ کپ سے محرومی کے بعد پاکستان ہاکی کو نئی زندگی دینے کے لیے کیا اقدامات اٹھائیں گے؟
رانا مجاہد علی: ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے، اس کے لیے قومی جذبہ سے کام کر کے ہی بہتری لائی جا سکتی ہے، میں نے سیکرٹری پی ایچ ایف کے عہدے تک پہنچنے کے لیے طویل سفر طے کیا ہے' ڈسٹرکٹ فیصل آباد کے بعد پنجاب کی ایسوسی ایشن کے لیے کام کرنے تک ڈومیسٹک ہاکی کے ہر مسئلہ سے بخوبی واقف ہوں، ورلڈ کپ میں شرکت سے محرومی کے باوجود قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کے آثار نظر آئے ہیں، تاہم دوبارہ عروج حاصل کرنے کے لیے چند ایک کامیابیوں پر مطمئن ہو کر بیٹھ جانے کی غلطی تباہ کن ہو گی، جدید ہاکی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ہمیں طویل مدت منصوبوں پر کام کرنا ہو گا۔
گراس روٹ سطح سے نیا ٹیلنٹ حاصل کرنے کے لیے یکم جنوری سے مختلف پروگرام شروع کریں گے، سکول و کالج اور کلب کی سطح پر سخت مقابلے کی فضا پروان چڑھائے بغیر عالمی ہاکی میں بقا کی جنگ نہیں لڑی جا سکتی، اس سلسلہ میں ابھی سے کام نہ کیا گیا تو گنے چنے چند کھلاڑی بالآخر تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے اور ہم دوسری قوموں کی فتوحات کو حسرت سے دیکھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گے۔
ایکسپریس: ملکی ہاکی کو مسابقتی بنانے کے لیے کیا تجاویز زیر غور ہیں؟
رانا مجاہد علی: سکولوں اور کالجوں کی ٹیمیں تشکیل دینے کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ کھیل کے لیے سازو سامان اور ضروری وسائل فراہم کرنے کی بھی ہر ممکن کوشش کریں گے، کلبز اور ڈیپارٹمنٹس کی مضبوط ٹیمیں بنانے کے لیے ضروری رہنمائی کرنے کو بھی تیار ہیں، ہاکی صرف فیڈریشن کا نہیں بلکہ قوم کا بھی کھیل ہے۔ اس کی بہتری کے لیے سینئر اور جونیئر کھلاڑیوں، سابق اولمپئنز سب کو رضا کارانہ جذبے سے کام کرنا ہو گا، پی ایچ ایف صرف ایک پلیٹ فارم ہے، قومی کھیل کی بہتری کے لیے جدوجہد سابق سٹارز پر اس وطن کی مٹی کا قرض ہے جس کو اترنے کے لیے انہیں عملی میدان میں آگے آنا ہوگا۔
اولمپنئنز کو ایک بار پھر دعوت دیتا ہوں کہ وہ تنقید برائے تنقید کا سلسلہ چھوڑ کر ہاکی کے مسائل حل کرنے کے لیے ہمارا ساتھ دیں، ماضی کی راکھ کو کریدنے کا کوئی فائدہ نہیں، مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے ان کی ہر مثبت تجویز کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ اولمپئنز ہمارے پاس آئیں، ان کو عزت و احترام دیں گے، مجھے کسی جگہ بلائیں تو کھیل کی بہتری کے لیے خود چل کر جانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کروں گا۔
ایکسپریس: کئی حلقوں میں ملک سے ہاکی ختم ہونے کا تاثر دیا جا رہا ہے،اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
رانا مجاہد علی: زندگی میں کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ بھرپور کوشش کے باوجود نتائج توقعات کے مطابق نہیں ہوتے۔ بدقسمتی سے ایشیا کپ میں کھلاڑیوں کی تکنیک، سٹیمنا اور حکمت عملی میں نمایاں بہتری آنے کے باوجود کوریا کے خلاف میچ میں چند غلطیوں نے پاکستان کو منزل سے دور کر دیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہم گر کر اٹھنے کی صلاحیت ہی کھوبیٹھے ہیں، سینئر ٹیم نے 21سال بعد ایشین گیمز کا ٹائٹل حاصل کیا، میری کوچنگ میں جونیئر ٹیم نے ایشیا کپ جیتا، مستقبل کے لیے چند اچھے کھلاڑی سینئرز کی جگہ لینے کو تیار ہیں، انڈر 18 ٹیموں پر مزید توجہ دینے سے ہم بہتر مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔
لیکن اس کے لیے گراؤنڈز،آسٹروٹرف اور کوچز کی تعداد بڑھانا ہو گی، جدید ہاکی کے تقاضے بدل چکے، اب کھلاڑیوں کو نو عمری میں ہی فٹنس کا شعور اور مناسب تربیت دے کر ہی انٹرنیشنل سطح پر بھرپور قوت کا مظاہرہ کرنے والی ٹیموں کو ٹکر دینے کے قابل بنا جاسکتا ہے، مایوسی گناہ ہے، ہم بھی تھک ہار کر بیٹھنے والوں میں سے نہیں، گراس روٹ سے قوم ٹیم تک ہر سطح پر تربیت کا عمل سائنسی بنیادوں پر استوار کریں گے، پوری کوشش ہو گی کہ کلب لیول سے اوپر تک ہاکی کے ساتھ کوئی چالاکی اور میرٹ کا خون نہ ہو۔مجھے پوری امید ہے کہ پاکستان ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرلے گا۔
ایکسپریس: ملک میں انٹرنیشنل مقابلوں کی بحالی کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کریں گے؟
رانا مجاہد: ملکی میدانوں پر انٹرنینشل مقابلے نہ ہونے کا پاکستان ٹیم کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے، ہوم گراؤنڈ ز پر صلاحیتوں کے اظہار کا مزا ہی کچھ اور ہے، اپنے کراؤڈ کے سامنے کارکردگی دکھانے پر ملنے والی حوصلہ افزائی کھلاڑیوں میں جوش و خروش بڑھا دیتی ہے، پاکستان اور بھارت کی ہاکی ٹیمیں ایک جیسے مسائل سے دوچار ہیں، ماضی کی دونوں سپر پاورز باہمی مقابلوں کے ذریعے نہ صرف اپنا کھیل نکھار سکتی ہیں بلکہ دونوں ملکوں میں ہاکی کی مقبولیت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوسکتا ہے، بھارت میں لیگ ہاکی بھی اچھا اقدام ہے، لیکن بدقسمتی سے سیاسی حالات کشیدہ ہونے کے سبب یہ موقع بھی پاکستانی کھلاڑیوں کے دسترس میں نہیں رہا، ہماری پوری کوشش ہوگی کہ نہ صرف روایتی حریفوں کے ساتھ دوطرفہ سیریز کے معاملات آگے بڑھیں بلکہ دیگر غیر ملکی ٹیموں کی پاکستان آمدکے لیے راہ بھی ہموار ہو، امید ہے کہ رواں سال کسی نہ کسی ٹیم کے ساتھ سیریز کے انعقاد کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے، تاہم ہماری سب سے زیادہ توجہ ڈومیسٹک ڈھانچہ مضبوط بنانے پر مرکوز رہے گی۔
کبھی دنیائے ہاکی پر پاکستان کا راج تھا، کوئی عالمی اعزاز ایسا نہ تھا جو گرین شرٹس نے اپنے نام کے آگے درج نہ کروایا ہو، وقت کے ساتھ کھیل کے قوانین، فٹنس کا معیار بدل گیا، قومی ٹیم کا زوال کی طرف سفر شروع ہوا، ایک ایک کر کے انٹرنیشنل اعزاز ہماری پہنچ سے دور ہوتے گئے۔
ناکامیوں کی داستان طویل ہوئی تو قومی کھیل عوامی سطح پر مقبولیت کھو بیٹھا، سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مختلف اداروں نے اپنی ہاکی ٹیمیں ختم کر کے توجہ کرکٹ اور دیگر کھیلوں پر مرکوز کر لی، سکول کالج اور کلب سطح پر مقابلے کا رجحان بھی ختم ہونے سے مستقبل کے لیے سٹار تلاش کرنے کا عمل بھی جمود کا شکار نظر آنے لگا، پاکستان ہاکی فیڈریشن میں کئی بارتبدیلی بھی کسی کام نہ آسکی، باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی کے سبب پیدا ہونے والا خلا پر کرنے میں ناکامی نے فتوحات کا حصول دشوار بنادیا، چند ایونٹس میں بہتر کارکردگی کے باجود کارکردگی میں عدم تسلسل کے سبب گرین شرٹس ایک اور سنگ میل عبور کرنے میں ناکام رہے، ورلڈ لیگ میں ٹاپ تھری میں جگہ بناکر بھی پاکستان ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرسکتا تھا لیکن جنوبی کوریا کے ہاتھوں شکست نے خواب چکنا چور کردیئے۔
میگا ایونٹ میں شرکت کا آخری موقع ایشیا کپ ٹائٹل حاصل کرنے کی صورت میں موجود تھا لیکن سیمی فائنل میں ایک بار پھر کورین ٹیم ہی حائل ہوگئی، اس صورتحال میں پی ایچ ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سیکریٹری آصف باجوہ کے استعفٰی دینے پر عہدہ اولمپئن رانا مجاہد علی کے سپردکیا گیا ہے، انٹرنیشنل ہاکی اور ڈومیسٹک سطح پر انتظامی امور کا وسیع تجربہ رکھنے والے سڈنی ورلڈ کپ اور لاہور چیمپئنز ٹرافی 1994ء میں گولڈ، بارسلونا اولمپکس 1992 میں برانز، بیجنگ ایشین گیمز 1990ء میں سنہری تمغہ جیتنے والی ٹیم کے رکن اور صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کے حامل سابق سٹار کو قومی کھیل کی ساکھ بحال کرنے کا چیلنج درپیش ہے،اپنے دور میں قومی ٹیم کی دفاع کی ذمہ داری بھرپور طریقے سے اٹھانے والے رانا مجاہد علی اب نئے اور اہم کردار میں عوامی توقعات کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔''ایکسپریس'' نے ان کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس کی تفصیل قارئین کی نذر ہے۔
ایکسپریس: ایک طالب علم سے نامور ہاکی سٹار تک اپنے سفر کے بارے میں کچھ بتائیں؟
رانا مجاہد علی: فیصل آباد کے علاقہ طارق آباد میں میرے گھر کے آس پاس کئی گراؤنڈز تھے، ملک میں ہاکی کی مقبولیت عروج پر تھی، ورلڈ کپ کے فاتح کپتان چوہدری اختر رسول کو آئیڈیل مانتے ہوئے کھیل کا آغاز کیا، گورنمنٹ مسلم ہائی سکول کی ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے شہر کی سطح پر پہچان بنائی،گورنمنٹ کاج فیصل آباد میں شہباز سینئر تعلیمی میدان میں بھی ایک سال سینئر تھے، فرسٹ ایئر مکمل کرتے ہی قومی جونیئر ٹیم کا حصہ بن کر دورہ یورپ پر روانہ ہوا، 3 سال تک جونیئر اور سینئر دونوں ٹیموں کی طرف سے کھیلنے کا موقع ملا، پہلا انٹرنیشنل میچ بھارت میں اندراگاندھی گولڈ کپ میں سپین کے خلاف کھیلا، پہلی بار گرین شرٹس پہننے پر خوشی کا احساس لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کو ورلڈ کپ کے بعد اپنے لئے سب سے بڑا اعزاز سمجھتا ہوں۔
ایکسپریس: کل اور آج کی ہاکی میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
رانا مجاہد علی: ہمارے لئے قومی کھیل ایک جذبے اور جنون کا نام تھا، لاہور کے نیشنل ہاکی سٹیڈیم کا افتتاح چیمپئنز ٹرافی مقابلوں کے ساتھ ہوا، قومی ہیروز کو ایکشن میں دیکھنے کی خواہش رکھنے والے شائقین کا سیلاب میدان کی طرف امڈ آیا تھا، زندگی میں کبھی ایسا جوش و جذبہ نہیں دیکھا، ٹائٹل کے لیے فیصلہ کن میچ کے دوران سٹیڈیم کے اندر اور باہر تل د ھرنے کو جگہ نہیں تھی، کوئی مناسب راستہ نہ ملنے پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو گیٹ توڑ کر میدان کے اندر داخل کرایا گیا۔
1990ء کے ورلڈ کپ میں مجھ سمیت ٹیم کے ہر کھلاڑی کو مجموعی طور پر دو، دو ہزار روپے ملے، یومیہ الاؤنس 100 روپے تھا،کیمپ میں صرف 50 روپے روزانہ ملتے، کھلاڑیوں کو آمدنی قلیل ہونے کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں ہوتی تھی، صرف ملک و قوم کی عزت کے لیے جان لڑانے کی دھن سر پر سوار ہوتی، میگا ایونٹ میں ہمیں گولڈ میڈل حاصل کرنے کا 100 فیصد یقین تھا لیکن ایک اپ سیٹ شکست نے خواب بکھیر دیئے۔ 1992ء اولمپکس میں پاکستان نے اپنے پول کے تمام ابتدائی میچ جیت لئے، تاہم گروپ میں ٹیم پوزیشن ایسی ہو گئی کہ سپین کو ہرائے بغیر سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکتے تھے، یہ مرحلہ تو آسانی سے عبور کر لیا مگر سخت مقابلے کے بعد جرمنی کے ہاتھوں 1-2 سے شکست کے باعث ٹائٹل کی طرف پیش قدمی جاری نہ رکھ سکے، حریف ٹیم کے کوچ نے میچ کو ہاکی کی تاریخ کے بہترین مقابلوں میں سے ایک قرار دیا۔
دوسری طرف پاکستانی ٹیم کا کوئی کھلاڑی اور آفیشل ایسا نہیں تھا جو خون کے آنسو نہ رویا ہو، کوچ اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے پلیئرز کو دلاسے بھی دے رہے تھے تاکہ تیسری پوزیشن کے میچ کے لیے ان کا حوصلہ بندھا رہے، ٹائٹل سے محرومی کے باوجود عمدہ کھیل پر قوم اور سیکرٹری پی ایچ ایف نواز ٹوانہ نے قومی ٹیم کا شاندار استقبال کیا۔ آج کی ہاکی ماضی جیسی رونقیں کھو چکی، سکول و کالج کی سطح پر جوش و جذبہ بھی ماند پڑ چکا، کھیل قومی ترجیحات میں پیچھے جا چکے تو ہاکی میں بھی مقابلے کا رجحان کمزور پڑ گیا ہے۔
آج کل کھلاڑیوں کو ماہانہ سنٹرل کنٹریکٹ کی معقول رقم ملتی ہے، یومیہ الاؤئنس 150 ڈالر ہے جو پاکستانی روپوں میں 15 ہزار روپے سے اوپر بنتا ہے، کیمپ کے دوران بھی ایک ہزار روپے روزانہ ملتے ہیں، غیر ملکی لیگز کی آڑ میں الگ سے آمدنی کھلاڑیوں کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر ہوتی ہے لیکن گراس روٹ سطح سے اوپر تک ملک و قوم کے لئے تڑپ میں وہ شدت نہیں آتی جو ماضی میں نظر آتی تھی، اس دور میں سابق سٹارز بھی ٹیم پر تنقید برائے تنقید کرنے کے بجائے مثبت تجاویز سامنے لاتے تھے جن پر غور کرنے کے بعد مستقبل کے لیے بہتری کے راہیں تلاش کی جاتیں۔
ایکسپریس: ورلڈ کپ سے محرومی کے بعد پاکستان ہاکی کو نئی زندگی دینے کے لیے کیا اقدامات اٹھائیں گے؟
رانا مجاہد علی: ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے، اس کے لیے قومی جذبہ سے کام کر کے ہی بہتری لائی جا سکتی ہے، میں نے سیکرٹری پی ایچ ایف کے عہدے تک پہنچنے کے لیے طویل سفر طے کیا ہے' ڈسٹرکٹ فیصل آباد کے بعد پنجاب کی ایسوسی ایشن کے لیے کام کرنے تک ڈومیسٹک ہاکی کے ہر مسئلہ سے بخوبی واقف ہوں، ورلڈ کپ میں شرکت سے محرومی کے باوجود قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری کے آثار نظر آئے ہیں، تاہم دوبارہ عروج حاصل کرنے کے لیے چند ایک کامیابیوں پر مطمئن ہو کر بیٹھ جانے کی غلطی تباہ کن ہو گی، جدید ہاکی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ہمیں طویل مدت منصوبوں پر کام کرنا ہو گا۔
گراس روٹ سطح سے نیا ٹیلنٹ حاصل کرنے کے لیے یکم جنوری سے مختلف پروگرام شروع کریں گے، سکول و کالج اور کلب کی سطح پر سخت مقابلے کی فضا پروان چڑھائے بغیر عالمی ہاکی میں بقا کی جنگ نہیں لڑی جا سکتی، اس سلسلہ میں ابھی سے کام نہ کیا گیا تو گنے چنے چند کھلاڑی بالآخر تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے اور ہم دوسری قوموں کی فتوحات کو حسرت سے دیکھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گے۔
ایکسپریس: ملکی ہاکی کو مسابقتی بنانے کے لیے کیا تجاویز زیر غور ہیں؟
رانا مجاہد علی: سکولوں اور کالجوں کی ٹیمیں تشکیل دینے کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ کھیل کے لیے سازو سامان اور ضروری وسائل فراہم کرنے کی بھی ہر ممکن کوشش کریں گے، کلبز اور ڈیپارٹمنٹس کی مضبوط ٹیمیں بنانے کے لیے ضروری رہنمائی کرنے کو بھی تیار ہیں، ہاکی صرف فیڈریشن کا نہیں بلکہ قوم کا بھی کھیل ہے۔ اس کی بہتری کے لیے سینئر اور جونیئر کھلاڑیوں، سابق اولمپئنز سب کو رضا کارانہ جذبے سے کام کرنا ہو گا، پی ایچ ایف صرف ایک پلیٹ فارم ہے، قومی کھیل کی بہتری کے لیے جدوجہد سابق سٹارز پر اس وطن کی مٹی کا قرض ہے جس کو اترنے کے لیے انہیں عملی میدان میں آگے آنا ہوگا۔
اولمپنئنز کو ایک بار پھر دعوت دیتا ہوں کہ وہ تنقید برائے تنقید کا سلسلہ چھوڑ کر ہاکی کے مسائل حل کرنے کے لیے ہمارا ساتھ دیں، ماضی کی راکھ کو کریدنے کا کوئی فائدہ نہیں، مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے ان کی ہر مثبت تجویز کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ اولمپئنز ہمارے پاس آئیں، ان کو عزت و احترام دیں گے، مجھے کسی جگہ بلائیں تو کھیل کی بہتری کے لیے خود چل کر جانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کروں گا۔
ایکسپریس: کئی حلقوں میں ملک سے ہاکی ختم ہونے کا تاثر دیا جا رہا ہے،اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
رانا مجاہد علی: زندگی میں کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ بھرپور کوشش کے باوجود نتائج توقعات کے مطابق نہیں ہوتے۔ بدقسمتی سے ایشیا کپ میں کھلاڑیوں کی تکنیک، سٹیمنا اور حکمت عملی میں نمایاں بہتری آنے کے باوجود کوریا کے خلاف میچ میں چند غلطیوں نے پاکستان کو منزل سے دور کر دیا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہم گر کر اٹھنے کی صلاحیت ہی کھوبیٹھے ہیں، سینئر ٹیم نے 21سال بعد ایشین گیمز کا ٹائٹل حاصل کیا، میری کوچنگ میں جونیئر ٹیم نے ایشیا کپ جیتا، مستقبل کے لیے چند اچھے کھلاڑی سینئرز کی جگہ لینے کو تیار ہیں، انڈر 18 ٹیموں پر مزید توجہ دینے سے ہم بہتر مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔
لیکن اس کے لیے گراؤنڈز،آسٹروٹرف اور کوچز کی تعداد بڑھانا ہو گی، جدید ہاکی کے تقاضے بدل چکے، اب کھلاڑیوں کو نو عمری میں ہی فٹنس کا شعور اور مناسب تربیت دے کر ہی انٹرنیشنل سطح پر بھرپور قوت کا مظاہرہ کرنے والی ٹیموں کو ٹکر دینے کے قابل بنا جاسکتا ہے، مایوسی گناہ ہے، ہم بھی تھک ہار کر بیٹھنے والوں میں سے نہیں، گراس روٹ سے قوم ٹیم تک ہر سطح پر تربیت کا عمل سائنسی بنیادوں پر استوار کریں گے، پوری کوشش ہو گی کہ کلب لیول سے اوپر تک ہاکی کے ساتھ کوئی چالاکی اور میرٹ کا خون نہ ہو۔مجھے پوری امید ہے کہ پاکستان ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرلے گا۔
ایکسپریس: ملک میں انٹرنیشنل مقابلوں کی بحالی کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کریں گے؟
رانا مجاہد: ملکی میدانوں پر انٹرنینشل مقابلے نہ ہونے کا پاکستان ٹیم کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے، ہوم گراؤنڈ ز پر صلاحیتوں کے اظہار کا مزا ہی کچھ اور ہے، اپنے کراؤڈ کے سامنے کارکردگی دکھانے پر ملنے والی حوصلہ افزائی کھلاڑیوں میں جوش و خروش بڑھا دیتی ہے، پاکستان اور بھارت کی ہاکی ٹیمیں ایک جیسے مسائل سے دوچار ہیں، ماضی کی دونوں سپر پاورز باہمی مقابلوں کے ذریعے نہ صرف اپنا کھیل نکھار سکتی ہیں بلکہ دونوں ملکوں میں ہاکی کی مقبولیت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوسکتا ہے، بھارت میں لیگ ہاکی بھی اچھا اقدام ہے، لیکن بدقسمتی سے سیاسی حالات کشیدہ ہونے کے سبب یہ موقع بھی پاکستانی کھلاڑیوں کے دسترس میں نہیں رہا، ہماری پوری کوشش ہوگی کہ نہ صرف روایتی حریفوں کے ساتھ دوطرفہ سیریز کے معاملات آگے بڑھیں بلکہ دیگر غیر ملکی ٹیموں کی پاکستان آمدکے لیے راہ بھی ہموار ہو، امید ہے کہ رواں سال کسی نہ کسی ٹیم کے ساتھ سیریز کے انعقاد کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے، تاہم ہماری سب سے زیادہ توجہ ڈومیسٹک ڈھانچہ مضبوط بنانے پر مرکوز رہے گی۔