پاک بھارت تعلقات میں پیشرفت

پاک بھارت وزرائے خارجہ کی شنگھائی میں ملاقات کنٹرول لائن پر ہونے والے کشیدگی کو کم کرنے میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔

بشکیک میں ہونے والا شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس دونوں ملکوں کی قیادت کے لیے بریک تھرو کرنے کا اچھا موقع ثابت ہوا. فوٹو: فائل

خارجہ امور و قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید سے ملاقات کی۔ گزشتہ دنوں کنٹرول لائن اور ورکنگ باڈی پر ہونے والے واقعات کے باعث دونوں ملکوں میں جو کشیدگی پیدا ہوئی تھی' اس کے تناظر میں یہ ملاقات ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔ بشکیک سے آمدہ اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ امور بشمول ایل او سی پر کشیدگی کی خاتمے پر تبادلہ خیال کیا ۔ یوں دیکھا جائے تو بشکیک میں ہونے والا شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس دونوں ملکوں کی قیادت کے لیے بریک تھرو کرنے کا اچھا موقع ثابت ہوا' پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اور بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

سرتاج عزیز نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سلمان خورشید کے ساتھ مفید ملاقات ہوئی ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان بھارت سمیت تمام پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات اور تمام تصفیہ طلب مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے لہٰذا بھارتی قیادت بھی سنجیدگی کے ساتھ مثبت سمت میں اٹھائے گئے اقدامات کا جواب دے۔ انھوں نے کہا کہ فریقین نے اس ماہ نیویارک میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان متوقع ملاقات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے کے لیے سفارتی ذرائع کے استعمال پر اتفاق کیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرتاج عزیز سے ملاقات میں لائن آف کنٹرول اور ممبئی حملوں کے بعد کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جب بھی کوئی بامعنی پیش رفت ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں' کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں میاں نواز شریف برسراقتدار آئے تو جنوبی ایشیا کے فہمیدہ حلقوں میں امید پیدا ہوئی کہ اب پاکستان اور ہندوستان دوستانہ تعلقات کے نئے دور میں داخل ہوں گے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اپنی انتخابی مہم کے دوران کہتے رہے کہ اگر وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے تو بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کریں گے۔ بھارت میں میاں نواز شریف کی انتخابی کامیابی پر خوشی کا اظہار بھی کیا گیا۔ اس خوشگوار ماحول میں دونوں ملک سرحدی کشیدگی میں الجھ گئے۔ بھارتی فوج نے گزشتہ ماہ کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ شروع کر دی۔ یہ سلسلہ کئی روز تک مسلسل جاری رہا' اس میں پاکستان میں کئی قیمتی جانیں بھی ضایع ہوئیں۔ بھارتی حکومت نے جذباتیت کا مظاہرہ کیا اور اگست میں ہونے والے بھارتی فوجیوں کے قتل کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا حالانکہ اسے پہلے اس معاملے کی تحقیق کرنی چاہیے تھی، یہ بھی ممکن تھا کہ پاکستان اور بھارت مشترکہ طور پر تحقیق کرتے اور اس معاملے کا کوئی حل تلاش کرتے۔ اس طریقے سے اصل عناصر ضرور سامنے آ جاتے لیکن بھارت کی حکومت جذبات میں بہہ گئی۔


بھارتی حکومت کے برعکس پاکستانی حکومت نے بڑے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور وہ یہ مظاہرہ اب تک کرتی چلی آ رہی ہے۔ پاکستان کی حکومت کی یہ پالیسی کامیاب رہی اور بشکیک میں سرتاج عزیز اور سلمان خورشید کے مابین ملاقات سے برف کے پگھلنے کا آغاز ہو گیا ہے۔ اب اس ماہ نیویارک میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے۔ بشکیک سے جو ٹھنڈی ہوا چلی ہے' وہ یقینا نئی دہلی اور اسلام آباد سے ہوتی ہوئی نیویارک پہنچے گی جس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان باضابطہ مذاکرات کی بحالی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ بھارت میں چونکہ اگلے برس عام انتخابات ہونے والے ہیں، کانگریس آئی اور بھارتیہ جنتا پارٹی ایک دوسرے کی حریف ہیں۔ دونوں سیاسی جماعتوں کو قیادت نے کنٹرول لائن کے واقعات کو اپنی انتخابی مہم کو سامنے رکھ کر دیکھا۔

بھارتی قیادت کے اسی جذباتی رویے کو سامنے رکھ کر پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے بشکیک میں کہا ہے کہ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد دونوں وزرائے اعظم نے امن عمل اور جامع مذاکرات کی کی بحالی کے لیے جو ماحول پیدا کیا تھا، اسے چھ اگست کے افسوسناک واقعے سے دھچکا لگا لہذا جنوبی ایشیا میں دیر پا امن کے قیام کو انتخابی سیاست کے ہاتھوں یرغمال نہیں بنانا چاہیے اور نہ کسی ایک واقعے سے یہ عمل پٹڑی سے اترنا چاہیے۔ یہ ایک انتہائی اہم بات ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان اور بھارت میں ایسے قوتیں موجود ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کی مخالف ہیں۔ ان کا مفاد اسی میں ہے کہ دونوں ملکوں میں کشیدگی برقرار رہے۔ پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادت کو بہت حد تک ان قوتوں کا پتہ ہے۔ دونوں جانب کی انتہا پسند قوتیں عوام میں پذیرائی نہیں رکھتیں لیکن ان کے پاس سیاسی پریشر گروپ ہیں اور وہ اسٹیبلشمنٹ میں بھی حاوی ہیں۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے لیکن انتہا پسند قوتیں سرد جنگ کی پالیسی برقرار رکھتا چاہتی ہیں۔ پاکستان میں وزیر اعظم نواز شریف کا جنوبی ایشیا کے بارے میں ویژن ابہام سے پاک ہے، وہ دو ٹوک الفاظ میں بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کا اظہار کر چکے ہیں، بھارتی قیادت کو بھی ایسی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اگر اس نے جرات دکھائی تو دونوں ملکوں میں انتہا پسند قوتیں کمزور پڑ سکتیں ہیں، اگر روایتی پالیسی برقرار رہی تو پھر نیویارک میں وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعظم من موہن سنگھ کے مابین ہونے والی ملاقات بھی روایتی ثابت ہو گی۔ پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے اس خدشے کا اظہار بھی کر دیا ہے کہ نیو یارک میں وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کے مابین ہونے والی ملاقات سے کسی بریک تھرو کا امکان کم ہے۔ بہر حال کچھ ہو یا نہ ہو لیکن نیویارک ملاقات سے دونوں جانب اچھا تاثر جائے گا۔
Load Next Story