سیاسی صورتحال اور زمینی حقائق
قانون کو اپنا راستہ بنانے کا عمل ضرور ملنا چاہیے
قانون کو اپنا راستہ بنانے کا عمل ضرور ملنا چاہیے (فوٹو: فائل)
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ادارے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں، حکومت اداروں کے کام میں مداخلت نہیں کرے گی۔ جمعرات کو وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات میں وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کی مشکلات کو کم کیا جاسکے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مہنگائی ، بے روزگاری ، غربت اور جہالت کے خاتمے کے لیے حکومت اپنی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے بہترین نتائج برآمد ہوں گے، پاکستان میں نئے انڈسٹریل زونز بنائے جائیں گے۔
جس علاقے کی آبادی دس لاکھ ہوگی وہاں انڈسٹریل زون بنائیں گے تاکہ لوگوں کو گھروں کے نزدیک روزگار ملے۔ تاجر فکس ٹیکس اور دیگر معاملات کے لیے چیئرمین ایف بی آر سید شبر زیدی سے ملاقات کرکے مسائل کا حل نکالیں۔ دریںاثناء وزیراعظم نے کلبھوشن یادیو کے حوالے سے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو پاکستانی عوام کے خلاف جرائم کا ذمے دار ہے اسے بے گناہ قرار دے کر رہا کرنے اور بھارت واپس نہ بھجوانے کا عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ قابل تحسین ہے، پاکستان قانون کی روشنی میں آگے بڑھے گا۔
وزیراعظم نے ملکی اور عالمی سیاسی صورتحال کے تناظر میں قانون کی بالادستی اور قانون کی روشنی میں پیش قدمی کا یقین دلایا ہے ، جو صائب انداز نظر ہے اور اسی طرز سیاست کی بنیادیں اگر مضبوط ہوئیں تو قومی اداروں کو بھی استحکام ملے گا اور جمہوری قوتوں کو بھی۔ منتخب اراکین ایوان کو عوام کی فلاح وبہبود کے منصوبے بنانے اور اہم قانون سازی کرکے منتخب ایوانوں کی اہمیت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے خواب کی تعبیر بھی ڈھونڈنا ہوگی ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عوام کو ملکی سیاست میں قانون کی بالادستی اور قانون کی روشنی میں پیش رفت کی کوئی شفاف تصویر دیکھنے کو نہیں ملتی، میڈیا پر آئے دن مسائل کی رلادینے والی کہانیاں ملتی ہیں، المیہ ڈرامے زندگی کی حقیقتوں سے دور لے جاتے ہیں، حکومت اور دیگر ادارے معاشی مسائل اور عوام کو درپیش مشکلات کے خاتمے کی نویدیں دیتے ہیں لیکن ابھی تک حکومت اپنے طے شدہ ایک سالہ میعاد میں کوئی بنیادی اور چونکا دینے والی کارکردگی پیش کرنے کے قابل نہیں ہوسکی ہے۔
ایک طرف تعمیر وترقی کے دعوے، دوسری طرف گرفتاریاں،چھاپوں کی مسلسل خبریں، گزشتہ روز ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی، مفتاح اسمٰعیل کے گھر اور فیکٹری پر چھاپہ پڑا، ن لیگ نے اس پر شدید رد عمل ظاہر کیا ، اسے جمہوریت کے لیے سیاہ دن اور وزیراعظم کے لیے مہنگا سودا قراردیا ہے، پی پی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ سیاست غلط راستے پر چل پڑی ہے۔ معاشی صورتحال بدستور گمبھیر ہے، بتایا جاتا ہے کہ سرمایہ ملک سے باہر جارہا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی ہے، سرمایہ کاروں کے ایک کھرب 26 ارب ڈوب گئے، میڈیا کے مطابق شاہد خاقان عباسی کی خبر بھی مندی کا سبب بنی،وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مزید انکشافات سامنے لائیں گے، وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ کے مطابق گرفتاریوں کا پروانہ حکومت جاری نہیں کررہی، جس نے جو کچھ کیا ہے وہ اب بھگتے گا۔ ا
پوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ خوفزدہ کپتان مخالفین کو راستے ہٹا رہا ہے،ادھر جج ارشد ملک کی ویڈیواسکینڈل گردش میں ہے،نواز شریف کہتے ہیں کہ بیگناہی ثابت ، جلد سرخرو ہوں گا۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمنٰ نے اداروں میں تصادم کا خطرہ ظاہر کیا ہے، مریم نواز کی نیب عدالت طلبی بھی ہوئی۔جسٹس فائز عیسیٰ کو 2 شو کاز نوٹس مل چکے ہیں، یہ ہائی پروفائل کیس سپریم جوڈیشل کونسل میں ہے، قاضی فائز سے پوچھا گیا ہے کہ انھوں نے صدر مملکت کو خط کیوں لکھا۔وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ شاہد خاقان عدالت میں بیگناہی ثابت کریں،انگلیاں ہلا ہلا کر بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ سینیٹ میں اپوزیشن کا اجلاس ہوا ،جس میں 54 ارکان نے شرکت کی، حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ لانے والے تحریک عدم اعتماد واپس لینے پر تیار نہیں، بعض مضطرب ہیں کہ ادارے دباؤ ڈال رہے ہیں،شیری رحمنٰ کے مطابق تحریک کامیاب ہوگی۔
اس مجموعی ملکی سیاسی صورتحال کا لب لباب یہی ہے کہ حکمرانی کے طرز عمل، ایشوز کی ترجیحات، اہداف کی تکمیل اور تبدیلی کے ایجنڈے پر عملدرآمد کے بارے میں عوامی شکوک وشبہات کا کسی طور بھی تدارک ہو نہیں رہا۔ کوئی تو احساس کرے کہ بے چینی ،بے یقینی اور انتشار بڑھنے لگا ہے، ادھر کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ کے فوراً ہی بعد پاکستان نے کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان کردیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ایک ذمے دار ملک ہے، عالمی عدالت کے فیصلے کی پاسداری کرتے ہوئے ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کے پیراگراف (ب) 1 کے تحت بھارتی جاسوس کو یہ حق دیا جارہا ہے۔ دریں اثنا مالیاتی اور اقتصادی معاملات میں نتیجہ خیز اصلاحات کی سمت غیر معمولی بریک تھرو کا بھی فقدان نظر آتا ہے، ایک دن کچھ خبر آتی ہے اور دوسرے دن اس کی تردید ، پھر ایک اطلاع میں ایف بی آر چیئرمین شبر زیدی کے عہدہ کی ممکنہ تبدیلی اور وزیراعظم کے ان کی ٹیکس ریکوری پر عدم اطمینان کا تاثر ابھرتا ہے ۔
اس وقت نازک معاشی اور مالیاتی معاملات میڈیا کی زینت بنتے ہیں جب وزیراعظم امریکا کے دورہ کی تیاریوں میں ہیں اور انھیں ملکی سیاست، معیشت، خطے کے حالات اور پاک امریکا تعلقات کے اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا ہے، یوں کوشش ہونی چاہیے کہ سیاسی، معاشی محاذ پر یکسوئی سے معاملات طے پاجائیں، احتساب اور کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن کی کالی آندھی چلنے کا کوئی تاثر نہ ہو کہ شاید ملک میں کوئی آئینی بحران یا خانہ جنگی جیسی کوئی صورتحال پیدا ہونے جارہی ہے، لازم ہے کہ سیاست میں احتساب اور انتقام گڈ مڈ نہ ہوں، نیب اور عدالتیں کرپشن، منی لانڈرنگ و جعلی اکاؤنٹس کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں ، مگر اس عمل کے سیاسی وسماجی مضمرات اور آئینی اقدار و روایات کا پاس بھی رکھا جائے، عدالتی معاملات کو میڈیا ٹرائل کی دھند میںغائب کرنا کہاں کی جمہوریت ہے۔
کیسز تو ساری دنیا میں زیر سماعت آتے ہیں مگر اتنا شور غوغا اور افراط وتفریط کہ کاروبار زندگی معطل ہونے کو آجائے کسی طور ریاست و حکومتی شیرازہ بندی کے لیے نیک شگون نہیں۔ سیاست میں تناؤ کی زبردست کیفیت ہے، تلاطم کا سماں ہے ،عوام کس بات کو برداشت کریں،کس بیان اور احتجاج سے صرف نظر کریں، حادثات اور واقعات نے معاشرہ کو ذہنی طور پر اپاہج اور معاشی طور پر مفلوج کردیا ہے، ہم واقعی زندہ قوم ہیں ، یہی آج کا سب سے بڑا سوال ہے، زندہ قوموں کا شیوہ یہ تو نہیں ہوتا کہ ہر روز ایک سیاسی ،اقتصادی، سماجی اور انسانی مسئلہ عوام کی روح کو گھائل کردے، میڈیا پر صرف بدعنوانی کے پینڈورا باکس دکھائے جائیں، افراتفری، کشیدگی اور چپقلش name of the game بن جائے۔ یہ منظر نامہ اب تبدیل ہونا چاہیے۔ ملکی سیاست میں ایک مقداری اور فکری و جمہوری ٹھہراؤ آنا چاہیے جو حکمرانوں اور اپوزیشن رہنماؤں کی ذمے داری ہے، جو سب کے مفاد میں ہے۔
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا
وقت آگیا ہے کہ حکمران سیاست میں شوریدہ سری اور جوش نہیں ہوش سے کام لیں، قانون کو اپنا راستہ بنانے کا عمل ضرور ملنا چاہیے مگر اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی روش جمہوری خود کشی قرار پائے گی۔ سیاست میں خیر سگالی اور دوراندیشی کے امکانات بہر حال باقی رہنے چاہئیں۔
جس علاقے کی آبادی دس لاکھ ہوگی وہاں انڈسٹریل زون بنائیں گے تاکہ لوگوں کو گھروں کے نزدیک روزگار ملے۔ تاجر فکس ٹیکس اور دیگر معاملات کے لیے چیئرمین ایف بی آر سید شبر زیدی سے ملاقات کرکے مسائل کا حل نکالیں۔ دریںاثناء وزیراعظم نے کلبھوشن یادیو کے حوالے سے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو پاکستانی عوام کے خلاف جرائم کا ذمے دار ہے اسے بے گناہ قرار دے کر رہا کرنے اور بھارت واپس نہ بھجوانے کا عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ قابل تحسین ہے، پاکستان قانون کی روشنی میں آگے بڑھے گا۔
وزیراعظم نے ملکی اور عالمی سیاسی صورتحال کے تناظر میں قانون کی بالادستی اور قانون کی روشنی میں پیش قدمی کا یقین دلایا ہے ، جو صائب انداز نظر ہے اور اسی طرز سیاست کی بنیادیں اگر مضبوط ہوئیں تو قومی اداروں کو بھی استحکام ملے گا اور جمہوری قوتوں کو بھی۔ منتخب اراکین ایوان کو عوام کی فلاح وبہبود کے منصوبے بنانے اور اہم قانون سازی کرکے منتخب ایوانوں کی اہمیت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے خواب کی تعبیر بھی ڈھونڈنا ہوگی ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عوام کو ملکی سیاست میں قانون کی بالادستی اور قانون کی روشنی میں پیش رفت کی کوئی شفاف تصویر دیکھنے کو نہیں ملتی، میڈیا پر آئے دن مسائل کی رلادینے والی کہانیاں ملتی ہیں، المیہ ڈرامے زندگی کی حقیقتوں سے دور لے جاتے ہیں، حکومت اور دیگر ادارے معاشی مسائل اور عوام کو درپیش مشکلات کے خاتمے کی نویدیں دیتے ہیں لیکن ابھی تک حکومت اپنے طے شدہ ایک سالہ میعاد میں کوئی بنیادی اور چونکا دینے والی کارکردگی پیش کرنے کے قابل نہیں ہوسکی ہے۔
ایک طرف تعمیر وترقی کے دعوے، دوسری طرف گرفتاریاں،چھاپوں کی مسلسل خبریں، گزشتہ روز ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی، مفتاح اسمٰعیل کے گھر اور فیکٹری پر چھاپہ پڑا، ن لیگ نے اس پر شدید رد عمل ظاہر کیا ، اسے جمہوریت کے لیے سیاہ دن اور وزیراعظم کے لیے مہنگا سودا قراردیا ہے، پی پی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا کہ سیاست غلط راستے پر چل پڑی ہے۔ معاشی صورتحال بدستور گمبھیر ہے، بتایا جاتا ہے کہ سرمایہ ملک سے باہر جارہا ہے، اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی ہے، سرمایہ کاروں کے ایک کھرب 26 ارب ڈوب گئے، میڈیا کے مطابق شاہد خاقان عباسی کی خبر بھی مندی کا سبب بنی،وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مزید انکشافات سامنے لائیں گے، وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ کے مطابق گرفتاریوں کا پروانہ حکومت جاری نہیں کررہی، جس نے جو کچھ کیا ہے وہ اب بھگتے گا۔ ا
پوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ خوفزدہ کپتان مخالفین کو راستے ہٹا رہا ہے،ادھر جج ارشد ملک کی ویڈیواسکینڈل گردش میں ہے،نواز شریف کہتے ہیں کہ بیگناہی ثابت ، جلد سرخرو ہوں گا۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمنٰ نے اداروں میں تصادم کا خطرہ ظاہر کیا ہے، مریم نواز کی نیب عدالت طلبی بھی ہوئی۔جسٹس فائز عیسیٰ کو 2 شو کاز نوٹس مل چکے ہیں، یہ ہائی پروفائل کیس سپریم جوڈیشل کونسل میں ہے، قاضی فائز سے پوچھا گیا ہے کہ انھوں نے صدر مملکت کو خط کیوں لکھا۔وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ شاہد خاقان عدالت میں بیگناہی ثابت کریں،انگلیاں ہلا ہلا کر بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ سینیٹ میں اپوزیشن کا اجلاس ہوا ،جس میں 54 ارکان نے شرکت کی، حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ لانے والے تحریک عدم اعتماد واپس لینے پر تیار نہیں، بعض مضطرب ہیں کہ ادارے دباؤ ڈال رہے ہیں،شیری رحمنٰ کے مطابق تحریک کامیاب ہوگی۔
اس مجموعی ملکی سیاسی صورتحال کا لب لباب یہی ہے کہ حکمرانی کے طرز عمل، ایشوز کی ترجیحات، اہداف کی تکمیل اور تبدیلی کے ایجنڈے پر عملدرآمد کے بارے میں عوامی شکوک وشبہات کا کسی طور بھی تدارک ہو نہیں رہا۔ کوئی تو احساس کرے کہ بے چینی ،بے یقینی اور انتشار بڑھنے لگا ہے، ادھر کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ کے فوراً ہی بعد پاکستان نے کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان کردیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ایک ذمے دار ملک ہے، عالمی عدالت کے فیصلے کی پاسداری کرتے ہوئے ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کے پیراگراف (ب) 1 کے تحت بھارتی جاسوس کو یہ حق دیا جارہا ہے۔ دریں اثنا مالیاتی اور اقتصادی معاملات میں نتیجہ خیز اصلاحات کی سمت غیر معمولی بریک تھرو کا بھی فقدان نظر آتا ہے، ایک دن کچھ خبر آتی ہے اور دوسرے دن اس کی تردید ، پھر ایک اطلاع میں ایف بی آر چیئرمین شبر زیدی کے عہدہ کی ممکنہ تبدیلی اور وزیراعظم کے ان کی ٹیکس ریکوری پر عدم اطمینان کا تاثر ابھرتا ہے ۔
اس وقت نازک معاشی اور مالیاتی معاملات میڈیا کی زینت بنتے ہیں جب وزیراعظم امریکا کے دورہ کی تیاریوں میں ہیں اور انھیں ملکی سیاست، معیشت، خطے کے حالات اور پاک امریکا تعلقات کے اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا ہے، یوں کوشش ہونی چاہیے کہ سیاسی، معاشی محاذ پر یکسوئی سے معاملات طے پاجائیں، احتساب اور کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن کی کالی آندھی چلنے کا کوئی تاثر نہ ہو کہ شاید ملک میں کوئی آئینی بحران یا خانہ جنگی جیسی کوئی صورتحال پیدا ہونے جارہی ہے، لازم ہے کہ سیاست میں احتساب اور انتقام گڈ مڈ نہ ہوں، نیب اور عدالتیں کرپشن، منی لانڈرنگ و جعلی اکاؤنٹس کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں ، مگر اس عمل کے سیاسی وسماجی مضمرات اور آئینی اقدار و روایات کا پاس بھی رکھا جائے، عدالتی معاملات کو میڈیا ٹرائل کی دھند میںغائب کرنا کہاں کی جمہوریت ہے۔
کیسز تو ساری دنیا میں زیر سماعت آتے ہیں مگر اتنا شور غوغا اور افراط وتفریط کہ کاروبار زندگی معطل ہونے کو آجائے کسی طور ریاست و حکومتی شیرازہ بندی کے لیے نیک شگون نہیں۔ سیاست میں تناؤ کی زبردست کیفیت ہے، تلاطم کا سماں ہے ،عوام کس بات کو برداشت کریں،کس بیان اور احتجاج سے صرف نظر کریں، حادثات اور واقعات نے معاشرہ کو ذہنی طور پر اپاہج اور معاشی طور پر مفلوج کردیا ہے، ہم واقعی زندہ قوم ہیں ، یہی آج کا سب سے بڑا سوال ہے، زندہ قوموں کا شیوہ یہ تو نہیں ہوتا کہ ہر روز ایک سیاسی ،اقتصادی، سماجی اور انسانی مسئلہ عوام کی روح کو گھائل کردے، میڈیا پر صرف بدعنوانی کے پینڈورا باکس دکھائے جائیں، افراتفری، کشیدگی اور چپقلش name of the game بن جائے۔ یہ منظر نامہ اب تبدیل ہونا چاہیے۔ ملکی سیاست میں ایک مقداری اور فکری و جمہوری ٹھہراؤ آنا چاہیے جو حکمرانوں اور اپوزیشن رہنماؤں کی ذمے داری ہے، جو سب کے مفاد میں ہے۔
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا
وقت آگیا ہے کہ حکمران سیاست میں شوریدہ سری اور جوش نہیں ہوش سے کام لیں، قانون کو اپنا راستہ بنانے کا عمل ضرور ملنا چاہیے مگر اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی روش جمہوری خود کشی قرار پائے گی۔ سیاست میں خیر سگالی اور دوراندیشی کے امکانات بہر حال باقی رہنے چاہئیں۔