افغان حکومت اور طالبان کو تشدد ترک کرنا پڑے گا

ایک طویل اور غیر یقینی نتائج والے اس عمل کا صرف پہلا قدم ہیں

ایک طویل اور غیر یقینی نتائج والے اس عمل کا صرف پہلا قدم ہیں۔ فوٹو: فائل

اس وقت دنیا بھرکی نگاہیں افغان مذاکراتی عمل پر لگی ہوئی ہیں،گزشتہ اکتوبر سے اب تک امریکی حکام اور طالبان کے نمایندے سات مرتبہ براہِ راست مذاکرات کر چکے ہیں، لیکن دوسری جانب مذاکراتی عمل جاری رہنے کے باوجود افغانستان میں طالبان اور حکومت کے درمیان تشدد کی شدید ترین لہر آئی ہوئی ہے۔

جس میں بے شمار جانی ومالی نقصان ہورہا ہے۔گو امن پہلی ترجیح ہے۔اقوام عالم کی اس خطے کی بقا اور ترقی کے لیے۔اس سارے سیاق وسباق میں امریکا چاہتا ہے کہ اس کی فوجیں افغانستان سے واپس آجائیں اور وہ ایک طویل جنگ سے باہر آجائے،جوکہ لگ بھگ اٹھارہ برس سے جاری ہے، امریکا کی خواہش ہے کہ افواج کے انخلا کے بعد افغان سر زمین پر غیرملکی دہشت گردوںکو رہنے کی اجازت نہ دی جائے۔اب نئی پیدا شدہ صورتحال خصوصاً خطے کے محاذ پر امریکاکو افغانستان میں پاکستان کی ضرورت پڑی ہے۔ پاکستان نے سہولت کاری کا کردار ادا کرکے نہ صرف امریکا،طالبان مذاکرات ممکن بنائے بلکہ دیگر فریقین خصوصاً اشرف غنی انتظامیہ اور دیگر جماعتوں سے بھی افغانستان میں امن کے لیے روابط کیے اور اس کے فیصلہ کن مرحلے کے طور پر وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف مذاکراتی عمل جاری ہے تو دوسری جانب تشدد کی لہر کے تین واقعات بھی تسلسل سے ہوئے ہیں۔


گزشتہ روز افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں پولیس ہیڈکوارٹرزکے باہرکار بم دھماکے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت بارہ افراد ہلاک اور 89زخمی ہوگئے ۔ مرنے والوں میں 9 شہری بھی شامل ہیں ، دوسرے واقعے میںافغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں فوجی آپریشن کے دوران کم ازکم آٹھ انتہا پسند ہلاک ہوگئے۔ جون میں امریکی وزیرِخارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ یکم ستمبر سے پہلے معاہدہ کرنے کا سوچ رہی ہے، مگر قطرکے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات اور بین الافغان مذاکرات جن میں کابل حکومت اور طالبان شامل ہیں۔

ایک طویل اور غیر یقینی نتائج والے اس عمل کا صرف پہلا قدم ہیں، اس میں کئی اور رکاوٹیں عبور کرنا ابھی باقی ہیں۔ابھی بھی شدید لڑائی جاری ہے، حالانکہ طالبان مذاکرات کر رہے ہیں۔افغانستان کی حکومت اور طالبان کو سمجھنا چاہیے کہ یہ مذاکراتی عمل ان کے ملک کو حقیقی امن کی طرف لے کر جائے گا ، اگر وہ روایتی اورفرسودہ طریقہ کارکے مطابق آپس میں لڑتے رہے،اور دنیا کے دکھانے کے لیے مذاکرات بھی کرتے رہے تو یہ عمل انتہائی ضرر رساں ہوگا اور اس کے منفی اثرات قیام امن کی کوششوں پر پڑیں گے، آنے والی نسلوں کی بقا کے لیے افغان حکومت اور طالبان کو تشدد ترک کرنا پڑے گا۔
Load Next Story