عمران خان کا دورہ امریکا

دیکھنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس دورے سے پاکستان سے کیا حاصل کر سکتے ہیں۔

دیکھنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس دورے سے پاکستان سے کیا حاصل کر سکتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

وزیر اعظم عمران خان ہفتے کی صبح ساڑھے تین بجے جب قطر ائیر ویز کے ذریعے5 روزہ دورے پر امریکا روانہ ہوئے تو اسے سیاسی ، سفارتی اور عالمی حلقوں نے پاک امریکا تعلقات کے غیر معمولی منظر نامہ سے فطری طور پر مشروط کیا ہے ، جس پر مختلف النوع زاویوں سے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ وزیراعظم عمران خان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین باہمی دلچسپی کے اہم امور کے ماسوا خطے اور پاکستان کو درپیش معاملات کے اہم نکات پر کس نوعیت کے فیصلے متوقع ہیں۔

پاک امریکا تعلقات اپنی تاریخ کے انتہائی دلچسپ ، تحیر آمیز اور اہم ترین سیاسی بریک تھرو سے متعلق ایک سمت کی نشاندہی کرتے ہیں، پاکستان 50ء اور 60ء کی دہائی کا وہ مجرد حلیف نہیں رہا بلکہ وقت نے نائن الیون کے بعد سے پاک امریکا تعلقات کی ڈائنامکس بدل دی ہیں، اب تو خطے کی نئی پیرا ڈائم شفٹس جنم لیں گے، دیکھنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس دورے سے پاکستان سے کیا حاصل کر سکتے ہیں جب کہ عمران خان امریکا سے کس قسم کی توقعات ، امکانات کی سیاسی پیشکش اور مذاکرات کے دوران مختلف معاہدات پر دستخط اور دو طرفہ معاملات پر یقین دہانی اور خطے میں امن و استحکام کی ضمانت لے کر واپس پلٹتے ہیں، اس دورہ کی حساسیت ، ٹائمنگ اور نتیجہ خیز پیش رفت پر کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا تاہم پاکستان کو یقین ہے کہ صدر ٹرمپ سے وزیراعظم عمران خان کی بات چیت تعمیری، سود مند اور مستقبل کے دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے انتہائی صائب ہو گی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ پاکستان سے دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے، وہ پہلے بھی پاکستان کو خطے میں امن بحالی کے لیے امریکا کا پر اعتماد حلیف قرار دے چکے ہیں، اور پاکستان کے افغان امن کاز میں کردار کی تعریف کر چکے ہیں، چنانچہ توقع ہے کہ نئے پاک امریکا سیاق سباق میں اس بار پاکستان کا مقدمہ عمران کے حق میں ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کے پیچھے کئی ماہ کی سفارتی کوششیں کارفرما ہیں جن میں سب سے اہم کردار سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ہے جنہوں نے صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر جو امریکی صدر کے مشیر بھی ہیں کے ذریعے اس دورے کی راہ ہموار کی اور صدر ٹرمپ کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کو دورہ امریکا کا دعوت نامہ بھجوایا۔ اس دورے کے لیے کوششیں گزشتہ سال دسمبر میں ہی شروع ہو گئی تھیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ کر افغانستان میں قیام امن کے لیے تعاون کی درخواست کی تھی اور غیر روایتی چینل استعمال کرنے کا آئیڈیا سامنے آیا۔

امریکا کو اس بات کی حقیقت کا ابھی اندازہ ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کا راستہ پاکستان سے ہو کر گزرتا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ اور وہائٹ ہاؤس سے پر کشش توقعات ، ٹھوس یقین دہانیوں ، امیدوں، عوامی امنگوں اور خطے کی تبدیل شدہ صورتحال کی سوغات ملنے سے پہلے خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاک امریکا ترجیحات پر نظر ڈالنی ہو گی۔ اسی سے اس بات کا یقین کیا جا سکے گا کہ پاکستان امریکا سے کس قسم کی مثبت ، دور رس ، نتیجہ خیز پیش رفت کی آرزو رکھتا ہے۔ اب بات دوطرفہ سفارت کاری اور پاکستان کے سیاسی وژن کے پلڑے کی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کے لیے صدر ٹرمپ سے ملاقات ان کے سیاسی کیریئر کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو گی بشرطیکہ پاکستان اہم اورکلیدی شعبوں کے حوالے سے پاک امریکا تعلقات کی حساسیت اور صدر ٹرمپ کے طرز صدارت کی بوقلمونی اور تنوع اور اضطراری سیاست و عالمی حرکیات کے مد نظر سوالات زیر بحث لانے کا مدبرانہ انداز نظر اپنائیں۔


تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان امریکا پہنچ گئے ہیں ۔ وزیر اعظم امریکا میں پاکستانی سفیر کے گھر ''پاکستان ہاؤس'' میں قیام کریں گے۔ دورے کے پہلے روز وزیراعظم ورلڈ بینک کے صدر سے ملاقات کریں گے۔ آئی ایم ایف کے ایکٹنگ مینیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات بھی شیڈول میں شامل ہے جس کے تحت وزیر اعظم 21 جولائی کو پاکستانی سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے عشائیہ میں شرکت کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر کی ون آن ون ملاقات 22 جولائی کو ہو گی۔ 22 جولائی کو وزیراعظم مختلف امریکی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقات کریں گے۔ 23 جولائی کو وزیراعظم کا امریکی نجی ٹی وی کو انٹرویو بھی شیڈول میں شامل ہے، وزیراعظم امریکی انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں تقریب سے خطاب کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان سینیٹ خارجہ تعلقات کمیٹی سے بھی ملاقات کریں گے۔ وزیر اعظم کانگریشنل پاکستان کاکس فاؤنڈیشن سے بھی بات چیت کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کی امریکی ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی سے بھی ملاقات ہو گی۔ وزیر اعظم 23 جولائی کو امریکا سے پاکستان روانہ ہوں گے اور 24 جولائی کو وطن واپس پہنچیں گے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ اس دورہ میں عسکری قیادت بھی وزیراعظم کے ساتھ ہو گی ۔ 22 جولائی کو امریکی صدر سے ملاقات کی دو نشتسیں ہوں گی۔ پہلی نشست اوول آفس اور دوسری کیبنٹ روم میں ہو گی۔ وزیراعظم کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں ظہرانہ دیا جائے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا سے دو طرفہ تعلقات کو فروغ ملے گا۔ دونوںملکوں کے تعلقات میں اتار چڑھاو ٔ کے بعد اب امریکا کے ساتھ پانچ سال بعد سربراہ ملاقات ہو نے جا رہی ہے جس کی ابتدا امریکی وزیرخارجہ پومپیو کے دورہ پاکستان سے ہوئی ہے ۔ اب وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا سے دوطرفہ تعلقات کو فروغ ملے گا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکا کے سی پیک میں سرمایہ کاری پر کوئی تحفظات نہیں ، امریکا بھی پاک چین اقتصادی راہداری میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔ افغانستان میں امن کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہو گا، پلوامہ حملے پر پاکستان کا کردار سب کے سامنے ہیں، بھارت کے ساتھ امن و استحکام چاہتے ہیں، تعلقات کی بحالی کے لیے مودی سرکار کی پہل کے منتظر ہیں، بہت سے ممالک کی خواہش تھی کہ پاکستان کو تنہا کیا جائے جس میں ہمارے حریف ممالک ناکام ہو گئے۔ پاکستان کے بارے میں امریکی حکام کی سوچ تبدیل ہوئی ہے۔

 
Load Next Story