جمہوریت کا امتحان ختم نہیں ہوا
جمہوریت کا ایک اور داخلی چیلنج بلوچستان اور کراچی کی سنگین صورتحال ہے جو سنجیدگی، تدبر اور دوراندیشی کی متقاضی ہے
عوام کی آزادانہ رائے جمہوریت کے نتیجہ خیز اور عوام دوست تسلسل کا ایک پیمانہ ہے۔ فوٹو: فائل
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جمہوریت برداشت کے بغیر نہیں چل سکتی، ہم سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، بینظیر بھٹو کی جب موت ہوئی تو ہم نے 'پاکستان کھپے' کا نعرہ لگایا۔ صدر نے کہا کہ ہم نے ساڑھے چار سال میں ثابت کر دیا ہے کہ ہم جمہوریت چلا بھی سکتے ہیں۔ ایوان صدر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت وسیلہ حق کی قرعہ اندازی اور چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام غربت میں کمی اور خواتین کو بااختیار بنانے کا منفرد پروگرام ہے اور بھٹوازم کے ایک فلسفے کا انداز ہے' اس پروگرام نے ترقی کی ہے اور اب یہ سماجی تحفظ کا ایک جامع نظام بنتا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور اس نے گزشتہ چار برسوں کے دوران تحمل اور رواداری کی روایات کو فروغ دیا ہے۔ سربراہ مملکت نے درحقیقت جمہوریت کے وسیع تر تصوراتی و عملی تناظر میں حکومت کی اب تک کی کارکردگی کا ایک مثبت اور امید افزاء اجمالی خاکہ پیش کیا ہے اور بے نظیر سپورٹ پروگرام سمیت دیگر اقدامات کا حوالہ دیا ہے جن پر ملکی اپوزیشن رہنمائوں کے ساتھ ساتھ دیگر اہل فکر و نظر کے لیے بلاشبہ اظہار اختلاف و اتفاق اور بحث مباحثہ کا بڑا مواد موجود ہے تاہم دلچسپ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کے بہت سارے کمالات میں سے ایک بنیادی فوقیت جو اسے آمریت پر حاصل ہے وہ عوام کی آزادانہ رائے ہوتی ہے جو جمہوریت کے نتیجہ خیز اور عوام دوست تسلسل کا ایک پیمانہ ہے، یا پھر اس کے تضادات، وعدہ خلافیوں، ریاستی ترجیحات اور حکومتی پالیسیوں میں اشرافیائی مفادات کی بازی گری اور کروڑوں محنت کش عوام کی مسلسل بدحالی کا نوحہ مگر دیکھا جائے تو اپنی جمہوری مدت پوری کرنے والی موجودہ حکومت کو بلاشبہ اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ بقول صدر زرداری ''اتحادی حکومت 5 برس تک قائم رکھنا بڑی کامیابی ہے''۔ صدر اس سے قبل یہ بھی ارشاد فرما چکے ہیں کہ الیکشن وہی جیتے گا جو عوام کی خدمت کرے گا۔
کاش ان کی تمنا بر آئے اور خلق خدا کی خدمت کا جذبہ ملکی سیاسی کلچر کی قلب ماہیت کر دے ورنہ سیاست میں خدمت اور بے لوث خدمت ہی ایک جنس نایاب ہے۔ بہرحال صدر مملکت حکومت کی زمینی حقائق سے جڑی ہوئی اقتصادی حکمت عملی اور حاصل شدہ تجربات، اس کے امکانی نتائج و مضمرات کو بھی ضرور پیش نظر رکھے ہوئے ہوں گے جو اگرچہ مثالی نہیں مگر انھیں عالمی صورت حال اور داخلی خلفشار میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ صدر کا یہ کہنا کہ جو کل زمینی خدا تھے آج بے یار و مددگار پھر رہے ہیں' اس عمل کو جمہوریت کا انتقام کہتے ہیں دراصل جمہوری تناظر میں ایک بلیغ اشارہ ہے۔
ادھر بعض معاشی مبصرین کے مطابق ملکی معیشت کے زلزلہ خیز نشیب و فراز اور کرپشن کے شور سے متاثر اقتصادی اور سیاسی صورتحال کے بارے میں افشا ہونے والے حقائق خاصے اضطراب انگیز ہیں۔ اس لیے بہتر جمہوری سفر کے لیے ان کی شدت کم سے کم ہونی چاہیے اور اس کے لیے ملکی معیشت کے استحکام، بدامنی، لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ اور سرمایہ کاری کے چیلنجز کا سامنا جم کر کرنا چاہیے۔ جمہوریت کا ایک اور داخلی چیلنج بلوچستان اور کراچی کی سنگین صورتحال ہے جو سنجیدگی، تدبر اور دوراندیشی کی متقاضی ہے، تساہل اور دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی جاری رہی تو خدانخواستہ کوئی سانحہ بھی رونما ہو سکتا ہے، ارباب اختیار بلوچستان اور منی پاکستان میں مستقل بدامنی سے صرف نظر نہ کریں بلکہ مسائل کو حل کرنے کے لیے راست اقدام کریں۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے عالمی عدالت جانے کے بجائے متبادل حل کی حکمت عملی کا بھی کوئی نتیجہ جلد نکلنا چاہیے۔
صدر کی ٹیم کو اس حقیقت کا بھی ادراک کرنا چاہیے کہ حکومتی مدت کی تکمیل ایک سنگ میل ضرور ہے تاہم اس کامیابی کو عوام کی معاشی حالت کی تبدیلی سے مشروط ہونا چاہیے۔ ابھی تک جمہوریت کے جوش ِجنوں میں عوام پر جو گزری سو گزری ہے مگر وقت اب بھی ہاتھ سے نہیں نکلا، عوام کے حتمی ریلیف کے بغیر جمہوریت کے انتقام کی کہانی اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچ سکے گی۔ پاکستان کو ہمہ جہتی بحرانوں نے حصار میں لے رکھا ہے، عالمی اور داخلی مگرمچھ اس کے سیاسی، معاشی اور جغرافیائی وجود کو نقصان پہنچانے کی تاک میں ہیں، سپر پاور امریکا تاحال پاکستان کو ایک مشتبہ نان نیٹو اتحادی کے سٹیٹس سے الگ کر کے دیکھنے کے بجائے اسے ڈرون حملوں کی شدت سے سرنڈر کرانے پر مصر ہے۔
مگر اسے منہ کی کھانا پڑے گی، اس ضمن میں پاکستان نے ملکی سیاسی تاریخ میں پہلی بار اوباما انتظامیہ پر واضح کیا کہ شمالی وزیرستان میں مشترکہ آپریشن نہیں ہو گا۔ یہ موجودہ حکومت کی قومی خود مختاری کی بحالی کی سمت ایک اہم پیش قدمی ہے جس میں ہماری عسکری قیادت نے بھی ملکی وقار اور قومی سلامتی پر حرف نہ آنے کا عزم ظاہر کر کے سیاسی قیادت کے شانہ بشانہ قومی امنگوں کی صحیح عکاسی کی ہے۔ حقیقت میں ملکی اقتصادیات پر نظرثانی کی ضرورت ہے، غیرملکی قرضے کم ہونے چاہییں، خود انحصاری کا سفر ایک نئے عزم سے شروع ہو تاکہ اس کی قندیل جب آنے والی حکومت کے ہاتھ آئے تو معاشی اور سیاسی بحرانوں کی تیز ہوا اسے بجھا نہ سکے۔
یہی جمہوریت کی منزل ہو گی۔ چنانچہ ہر ہفتہ پٹرول بم گرانے، بجلی مہنگی کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، قائمہ کمیٹی نے کوئی غیر معمولی فرمائش نہیں کی، ایک اصولی اور عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے حکمرانوں سے اپیل کی کہ اس حکمت عملی سے عوام کی کمر دہری ہو جائے گی۔ وہ جمہوریت کی قوالی سے بد ظن ہو سکتے ہیں۔ بلاشبہ حکومتی معاشی ماہرین کے لیے بے پناہ چانسز ہیں، وہ اقتصادی غلامی کی زنجیروں سے قوم کو آزاد کرانے کی نئی تدبیریں کر سکتے ہیں، غربت و افلاس کی تاریکیوں کو مٹانے کی کوششوں کو ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہیے۔ غربت کے کوہ گراں کو کاٹنے کے لیے تیشہء فرہاد بھی تیز ہونا چاہیے۔ حکومت نے کئی شعبوں میں اہم اقدامات کیے ہیں، ملکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے عندیے مل رہے ہیں، دنیا ہمیں ذمے دار ملک کا درجہ دیتی ہے، ہمارے عوام مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
صدر نے مکہ میں او آئی سی کے سربراہ اجلاس میں مسلم امہ کو درپیش مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے بجا طور پر علماء سے اپیل کہ وہ خود کش حملوں کے خلاف فتویٰ دیں۔ گزشتہ دنوں دہری شہریت کا معاملہ زیر غور لایا گیا، پاسپورٹ کی مدت 10 سال اور پری پیڈ سمز بند کرنے کے اعلان سے جو ابہام پیدا ہوا اسے کمال تدبر سے دور کیا گیا، معاشی فیصلوں میں استحکام کی ضرورت ہے، پالیسیوں میں ربط و آہنگ کے ساتھ زمینی حقائق سے پیوستگی کا قوم کو یقین ہونا چاہیے۔ عوام معاشی انقلاب کی کوئی نوید نہیں سنتے، ابھی بھی ''ہیں سخت بہت بندہء مزدور کے اوقات'' کا دورانیہ چل رہا ہے، بڑی تبدیلی اور فلاحی ریاست کے قیام کی ناقابل یقین جمہوری جست کی ضرورت ہے۔
مگر ساتھ ہی کامیابیوں کے کئی باب بھی کھلتے دکھائی دیتے ہیں، ظاہر ہے کوئی حکومت عوام کی فلاح و بہبود سے لاتعلق رہ کر جمہوری نظام کو اس کی منزل تک نہیں پہنچا سکتی، چنانچہ ہر جمہوری حکومت کا پہلا ہدف عوام کو معاشی سماجی اطمینان مہیا کرنا ہوتا ہے اور ووٹ کے تقدس پر قائم اس نظام کا اولین جمہوری تقاضہ یہی ہوتا ہے کہ معاشرے کو فلاحی بنیادوں پر انصاف، اقتصادی و سیاسی استحکام کی سطح پر لایا جائے جسے عالمی برادری قابل تقلید قرار دے۔ عوام کی جمہوریت سے کمٹمنٹ پر کسی کو شک نہیں کرنا چاہیے۔ جمہوری عمل کو میڈیا اور عدلیہ کی آزادی مہمیز کیے ہوئے ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوریت اپنی خامیوں پر قابو پانے کی اہلیت رکھتی ہے اور حکمرانوں کو بھی تاریخ کے اس امتحان میں ابھی سرخرو ہونا ہے۔
پیپلز پارٹی مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور اس نے گزشتہ چار برسوں کے دوران تحمل اور رواداری کی روایات کو فروغ دیا ہے۔ سربراہ مملکت نے درحقیقت جمہوریت کے وسیع تر تصوراتی و عملی تناظر میں حکومت کی اب تک کی کارکردگی کا ایک مثبت اور امید افزاء اجمالی خاکہ پیش کیا ہے اور بے نظیر سپورٹ پروگرام سمیت دیگر اقدامات کا حوالہ دیا ہے جن پر ملکی اپوزیشن رہنمائوں کے ساتھ ساتھ دیگر اہل فکر و نظر کے لیے بلاشبہ اظہار اختلاف و اتفاق اور بحث مباحثہ کا بڑا مواد موجود ہے تاہم دلچسپ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کے بہت سارے کمالات میں سے ایک بنیادی فوقیت جو اسے آمریت پر حاصل ہے وہ عوام کی آزادانہ رائے ہوتی ہے جو جمہوریت کے نتیجہ خیز اور عوام دوست تسلسل کا ایک پیمانہ ہے، یا پھر اس کے تضادات، وعدہ خلافیوں، ریاستی ترجیحات اور حکومتی پالیسیوں میں اشرافیائی مفادات کی بازی گری اور کروڑوں محنت کش عوام کی مسلسل بدحالی کا نوحہ مگر دیکھا جائے تو اپنی جمہوری مدت پوری کرنے والی موجودہ حکومت کو بلاشبہ اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ بقول صدر زرداری ''اتحادی حکومت 5 برس تک قائم رکھنا بڑی کامیابی ہے''۔ صدر اس سے قبل یہ بھی ارشاد فرما چکے ہیں کہ الیکشن وہی جیتے گا جو عوام کی خدمت کرے گا۔
کاش ان کی تمنا بر آئے اور خلق خدا کی خدمت کا جذبہ ملکی سیاسی کلچر کی قلب ماہیت کر دے ورنہ سیاست میں خدمت اور بے لوث خدمت ہی ایک جنس نایاب ہے۔ بہرحال صدر مملکت حکومت کی زمینی حقائق سے جڑی ہوئی اقتصادی حکمت عملی اور حاصل شدہ تجربات، اس کے امکانی نتائج و مضمرات کو بھی ضرور پیش نظر رکھے ہوئے ہوں گے جو اگرچہ مثالی نہیں مگر انھیں عالمی صورت حال اور داخلی خلفشار میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ صدر کا یہ کہنا کہ جو کل زمینی خدا تھے آج بے یار و مددگار پھر رہے ہیں' اس عمل کو جمہوریت کا انتقام کہتے ہیں دراصل جمہوری تناظر میں ایک بلیغ اشارہ ہے۔
ادھر بعض معاشی مبصرین کے مطابق ملکی معیشت کے زلزلہ خیز نشیب و فراز اور کرپشن کے شور سے متاثر اقتصادی اور سیاسی صورتحال کے بارے میں افشا ہونے والے حقائق خاصے اضطراب انگیز ہیں۔ اس لیے بہتر جمہوری سفر کے لیے ان کی شدت کم سے کم ہونی چاہیے اور اس کے لیے ملکی معیشت کے استحکام، بدامنی، لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ اور سرمایہ کاری کے چیلنجز کا سامنا جم کر کرنا چاہیے۔ جمہوریت کا ایک اور داخلی چیلنج بلوچستان اور کراچی کی سنگین صورتحال ہے جو سنجیدگی، تدبر اور دوراندیشی کی متقاضی ہے، تساہل اور دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی جاری رہی تو خدانخواستہ کوئی سانحہ بھی رونما ہو سکتا ہے، ارباب اختیار بلوچستان اور منی پاکستان میں مستقل بدامنی سے صرف نظر نہ کریں بلکہ مسائل کو حل کرنے کے لیے راست اقدام کریں۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے عالمی عدالت جانے کے بجائے متبادل حل کی حکمت عملی کا بھی کوئی نتیجہ جلد نکلنا چاہیے۔
صدر کی ٹیم کو اس حقیقت کا بھی ادراک کرنا چاہیے کہ حکومتی مدت کی تکمیل ایک سنگ میل ضرور ہے تاہم اس کامیابی کو عوام کی معاشی حالت کی تبدیلی سے مشروط ہونا چاہیے۔ ابھی تک جمہوریت کے جوش ِجنوں میں عوام پر جو گزری سو گزری ہے مگر وقت اب بھی ہاتھ سے نہیں نکلا، عوام کے حتمی ریلیف کے بغیر جمہوریت کے انتقام کی کہانی اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچ سکے گی۔ پاکستان کو ہمہ جہتی بحرانوں نے حصار میں لے رکھا ہے، عالمی اور داخلی مگرمچھ اس کے سیاسی، معاشی اور جغرافیائی وجود کو نقصان پہنچانے کی تاک میں ہیں، سپر پاور امریکا تاحال پاکستان کو ایک مشتبہ نان نیٹو اتحادی کے سٹیٹس سے الگ کر کے دیکھنے کے بجائے اسے ڈرون حملوں کی شدت سے سرنڈر کرانے پر مصر ہے۔
مگر اسے منہ کی کھانا پڑے گی، اس ضمن میں پاکستان نے ملکی سیاسی تاریخ میں پہلی بار اوباما انتظامیہ پر واضح کیا کہ شمالی وزیرستان میں مشترکہ آپریشن نہیں ہو گا۔ یہ موجودہ حکومت کی قومی خود مختاری کی بحالی کی سمت ایک اہم پیش قدمی ہے جس میں ہماری عسکری قیادت نے بھی ملکی وقار اور قومی سلامتی پر حرف نہ آنے کا عزم ظاہر کر کے سیاسی قیادت کے شانہ بشانہ قومی امنگوں کی صحیح عکاسی کی ہے۔ حقیقت میں ملکی اقتصادیات پر نظرثانی کی ضرورت ہے، غیرملکی قرضے کم ہونے چاہییں، خود انحصاری کا سفر ایک نئے عزم سے شروع ہو تاکہ اس کی قندیل جب آنے والی حکومت کے ہاتھ آئے تو معاشی اور سیاسی بحرانوں کی تیز ہوا اسے بجھا نہ سکے۔
یہی جمہوریت کی منزل ہو گی۔ چنانچہ ہر ہفتہ پٹرول بم گرانے، بجلی مہنگی کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، قائمہ کمیٹی نے کوئی غیر معمولی فرمائش نہیں کی، ایک اصولی اور عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے حکمرانوں سے اپیل کی کہ اس حکمت عملی سے عوام کی کمر دہری ہو جائے گی۔ وہ جمہوریت کی قوالی سے بد ظن ہو سکتے ہیں۔ بلاشبہ حکومتی معاشی ماہرین کے لیے بے پناہ چانسز ہیں، وہ اقتصادی غلامی کی زنجیروں سے قوم کو آزاد کرانے کی نئی تدبیریں کر سکتے ہیں، غربت و افلاس کی تاریکیوں کو مٹانے کی کوششوں کو ترجیحات میں شامل کیا جانا چاہیے۔ غربت کے کوہ گراں کو کاٹنے کے لیے تیشہء فرہاد بھی تیز ہونا چاہیے۔ حکومت نے کئی شعبوں میں اہم اقدامات کیے ہیں، ملکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے عندیے مل رہے ہیں، دنیا ہمیں ذمے دار ملک کا درجہ دیتی ہے، ہمارے عوام مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
صدر نے مکہ میں او آئی سی کے سربراہ اجلاس میں مسلم امہ کو درپیش مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے بجا طور پر علماء سے اپیل کہ وہ خود کش حملوں کے خلاف فتویٰ دیں۔ گزشتہ دنوں دہری شہریت کا معاملہ زیر غور لایا گیا، پاسپورٹ کی مدت 10 سال اور پری پیڈ سمز بند کرنے کے اعلان سے جو ابہام پیدا ہوا اسے کمال تدبر سے دور کیا گیا، معاشی فیصلوں میں استحکام کی ضرورت ہے، پالیسیوں میں ربط و آہنگ کے ساتھ زمینی حقائق سے پیوستگی کا قوم کو یقین ہونا چاہیے۔ عوام معاشی انقلاب کی کوئی نوید نہیں سنتے، ابھی بھی ''ہیں سخت بہت بندہء مزدور کے اوقات'' کا دورانیہ چل رہا ہے، بڑی تبدیلی اور فلاحی ریاست کے قیام کی ناقابل یقین جمہوری جست کی ضرورت ہے۔
مگر ساتھ ہی کامیابیوں کے کئی باب بھی کھلتے دکھائی دیتے ہیں، ظاہر ہے کوئی حکومت عوام کی فلاح و بہبود سے لاتعلق رہ کر جمہوری نظام کو اس کی منزل تک نہیں پہنچا سکتی، چنانچہ ہر جمہوری حکومت کا پہلا ہدف عوام کو معاشی سماجی اطمینان مہیا کرنا ہوتا ہے اور ووٹ کے تقدس پر قائم اس نظام کا اولین جمہوری تقاضہ یہی ہوتا ہے کہ معاشرے کو فلاحی بنیادوں پر انصاف، اقتصادی و سیاسی استحکام کی سطح پر لایا جائے جسے عالمی برادری قابل تقلید قرار دے۔ عوام کی جمہوریت سے کمٹمنٹ پر کسی کو شک نہیں کرنا چاہیے۔ جمہوری عمل کو میڈیا اور عدلیہ کی آزادی مہمیز کیے ہوئے ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوریت اپنی خامیوں پر قابو پانے کی اہلیت رکھتی ہے اور حکمرانوں کو بھی تاریخ کے اس امتحان میں ابھی سرخرو ہونا ہے۔