نئے صوبوں پرقومی کمیشن کیلیے مشاورت کوتیارہیںنثار

زرداری کے پریس سیکریٹری پنجاب تقسیم نہیںکرسکتے،زرداری کے ریفرنس کی حیثیت نہیں

زرداری کے پریس سیکریٹری پنجاب تقسیم نہیںکرسکتے،زرداری کے ریفرنس کی حیثیت نہیں۔ فوٹو: فائل

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلا ف چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری کے پریس سیکریٹری کی سربراہی میں پنجاب کی تقسیم کا فیصلہ نہیںہو سکتا ، آصف زرداری کے اسپیکر کو بھیجے ریفرنس کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں ہے، نئے صوبوں پر قومی کمیشن کی تشکیل کیلیے حکومت سے مشاورت کو تیار ہیں، نادانوں کو مشرقی پاکستان سے سبق سیکھنا چاہیے ۔


بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو میں چوہدری نثار نے کہا کہ پنجاب کی تقسیم کا طریقہ کار آصف علی زرداری کا پریس سیکرٹری طے کرنا چاہتا ہے جو کہ خود خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتا ہے اور آج تک کبھی براہ راست منتخب نہیں ہوا ، بدقسمتی سے انکی حمایت وہ لوگ بھی کررہے ہیں جو کہنے کو تو خان عبدالولی خان کی پارٹی سے ہے ، مگر اب لگتا ہے کہ وہ زرداری لیگ کا دم چھلا بن گئے ہیں، انہیں پنجاب کی تقسیم کی تو فکر ہے لیکن ہزارہ کا مسئلہ یاد نہیں ، ان لوگوں کی سیاسی سوچ سے یقیناً خان عبدالولی خان کی روح بھی بے چین ہو گئی ہوگی، نئے صوبوں پر ہمارے ذہنوں میںکوئی ابہام ہوتا تو دو تہائی اکثریت سے قرار داد منظور نہ کراتے ، انتخابات میں پیپلزپارٹی کی جو درگت بننے والی ہے اسے معلوم ہو جائے گاکہ کون سیاسی تنہا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق چوہدری نثار نے کہا کہ نگراں وزیراعظم پر اتفاق رائے کیلئے تحریک انصاف ، سردار اختر مینگل اور محمود اچکزئی سے رابطہ کیا ہے، جلد جماعت اسلامی اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں سے بھی رابطہ کیا جائیگا۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ نئے صوبے کے مطالبے کا نشانہ پنجاب نہیں سندھ ہے ، حکومتی اتحادی پنجاب کا نام لیکر سندھ کی تقسیم کی سازش کر رہے ہیں، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے حامی ہیں ، اگر حکومت نئے صوبے بنانے میں سنجیدہ ہے تو وسیع البنیاد قومی کمیشن بنائے، (ن) لیگ خیبر پختونخوا کے صدر پیر صابر شاہ نے وفد سے گفتگو میں بتایا کہ نئے صوبوں کے قیام کاکمیشن دھوکہ ہے، حکومت نئے صوبے بنانے میں مخلص ہوتی تو ہزارہ اورفاٹا کو نظر انداز نہ کیاجاتا۔

Recommended Stories

Load Next Story