طالبان کو راضی کرنے کا چیلنج
امریکی صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے وزیر اعظم کے وژن کو سراہا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے وزیر اعظم کے وژن کو سراہا۔ فوٹو : فائل
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مذاکرات کے سوا افغان مسئلہ کا کوئی حل نہیں۔ طالبان کو افغان حکومت کا حصہ بن کر عوام کی نمایندگی کرنی چاہیے۔ امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد اب وہ پاکستان جا کر طالبان کی قیادت پر زور دیں گے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لیے افغان حکومت سے براہ راست بات چیت شروع کریں۔ یہ بات انھوں نے امریکی تھنک ٹینک یونائیٹڈ انسٹی ٹیوٹ آف پیس (USIP) میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔
امریکی ٹی وی '' فوکس نیوز'' کو انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے دیگر باتوں کے علاوہ کہا کہ پاک بھارت تنازعات کے حل کے لیے ایٹمی جنگ کوئی آپشن نہیں، بھارت جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے تو پاکستان بھی ایسا کر دے گا۔ پاک بھارت تنازعات کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر ہے، امریکا واحد ملک ہے جو پاکستان اور بھارت میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو غربت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، بھارت ، افغانستان اور ایران سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لیے امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش پر بھارتی رویئے کو حیران کن قرار دیا ہے۔
اپنے پیغام میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے کشمیریوں کی کئی نسلیں متاثر ہوئی ہیں۔ مسئلہ کشمیر نے70سال سے برصغیر کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ عمران خان نے کہا ہمسایوں سے پر امن تعلقات خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے، بھارت سے بہتر تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں، پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل پر بات چیت کا خواہاں ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے وزیر اعظم کے وژن کو سراہا۔ بلاشبہ وزیر اعظم کا perception خطے کے تناظر میں افغان مسئلہ کے حل کی قطعیت کا ہے ، انھوں نے واضح طور پر کہا کہ اب پہلا موقع ہے کہ امریکا اور پاکستان اس مسئلہ پر ایک صفحے پر ہیں اس لیے افغانستان کے حوالے سے بہت جلد امن معاہدہ کا امکان ہے اور پاکستان اس میں مکمل مدد فراہم کرے گا۔
لیکن امریکی مبصرین، افغان امن عمل سے وابستہ گروپس اور زمینی حقائق و دیگر سیاسی، اقتصادی ، داخلی سماجی تضادات اور سفارتی پیچیدگیوں سے گہری واقفیت کے حامل دانشوروں کے اس انداز نظر کو عمران سمیت صدر اشرف غنی، ان کے قریبی رفقا نظر انداز نہیں کر سکتے کہ افغان گھمبیرتا ایک کثیر جہتی مسئلہ ہے جس کی اپنی ایک مزاحمتی، عسکری، قبائلی اور سماجی و سیاسی تاریخ ہے۔
افغانستان نے گزشتہ 16 برسوں میں امریکا اور طالبان کے علاوہ اپنے گراں بار سماجی، سیاسی بحرانوں اور انتشار و غیر ملکی جنگوں سے بڑا نقصان اٹھایا ہے، لہٰذا معاملات افغانستان کی تعمیر و بحالی سمیت ایک ایسے سیاسی و سماجی اور آئینی نظام کی تشکیل نو کے ہیں جن میں صدر اشرف غنی کی حکومت، طالبان رہنما ، افغان وارلارڈز ، شمالی اتحاد و دیگر مذہبی گروہ اور عمائدین مل بیٹھ کر افغانستان میں نمایندہ حکومت قائم کرنے پر متفق ہوں ۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ افغانستان کی 1500کلومیٹر سرحد ہے ، پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لیے افغانستان میں امن و استحکام انتہائی ضروری ہے، افغانستان کا امن پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
ماضی میں امریکا اور پاکستان کے درمیان اس مسئلہ پر بداعتمادی کی کیفیت رہی ، امریکا سمجھتا رہا کہ پاکستان نے اس سلسلے میں کافی کوششیں نہیں کیں، ہم نے اس جنگ میں 70 ہزار جانیں قربان کیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان میں میڈیا پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں میڈیا انتہائی آزاد ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ ہم وہاں کسی بھی قسم کی مسلح ملیشیا کی اجازت نہ دیں۔ لہٰذا حکومت نے ایسی تنظیموں کو غیر مسلح کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب پہلی بار نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ہو رہا ہے۔ بقائے باہمی سب کے لیے اہم ہے، پاکستان کے امن عمل کے ضمن میں کلیدی کردار کی وزیر اعظم نے حالیہ دورے میں بھی گفتگو کی ، اپنے بیانیے میں صدر ٹرمپ کا تذکرہ افغانستان میں آیندہ کے گیم پلان سے تھا ، وہ یقیناً پاکستان سے افغان امن مسئلہ کی باریکیوں کا سارا فسانہ لے کر بیٹھیں گے، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی مصروفیات لازماً بڑھیں گی، امریکا افغان جنگ سے عملاً تھک چکا ہے۔
ٹرمپ لاکھ کہیں کہ میں افغانستان میں ایک ہفتہ میں لاکھوں انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر امن کا جھنڈا لہراؤں گا مگر ایسا نہیں کرنا چاہتا، ایسی باتیں سیاست کی جدید لغت میں بڑھکوں اور دھمکیوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں، اور اب جب کہ طالبان سے امریکا کے خصوصی نمایندے خلیل زلمے کی متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، طالبان کی قیادت ، ان کے قریبی رفقا اور مختلف دھڑے ایک متفقہ لائحہ عمل کی طرف مائل ہو کر ایک امید افزا بریک تھرو کے قریب پہنچ چکے ہیںاس لیے ضرورت حقیقت پسندی اور افغانستان کو جنگ و بربادی سے نجات دلانے کی ہے۔ اس کا ادراک سارے اسٹیک ہولڈرز کا فرض ہے۔
امریکی ٹی وی '' فوکس نیوز'' کو انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے دیگر باتوں کے علاوہ کہا کہ پاک بھارت تنازعات کے حل کے لیے ایٹمی جنگ کوئی آپشن نہیں، بھارت جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے تو پاکستان بھی ایسا کر دے گا۔ پاک بھارت تنازعات کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر ہے، امریکا واحد ملک ہے جو پاکستان اور بھارت میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو غربت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، بھارت ، افغانستان اور ایران سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لیے امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش پر بھارتی رویئے کو حیران کن قرار دیا ہے۔
اپنے پیغام میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے کشمیریوں کی کئی نسلیں متاثر ہوئی ہیں۔ مسئلہ کشمیر نے70سال سے برصغیر کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ عمران خان نے کہا ہمسایوں سے پر امن تعلقات خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے، بھارت سے بہتر تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں، پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل پر بات چیت کا خواہاں ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے وزیر اعظم کے وژن کو سراہا۔ بلاشبہ وزیر اعظم کا perception خطے کے تناظر میں افغان مسئلہ کے حل کی قطعیت کا ہے ، انھوں نے واضح طور پر کہا کہ اب پہلا موقع ہے کہ امریکا اور پاکستان اس مسئلہ پر ایک صفحے پر ہیں اس لیے افغانستان کے حوالے سے بہت جلد امن معاہدہ کا امکان ہے اور پاکستان اس میں مکمل مدد فراہم کرے گا۔
لیکن امریکی مبصرین، افغان امن عمل سے وابستہ گروپس اور زمینی حقائق و دیگر سیاسی، اقتصادی ، داخلی سماجی تضادات اور سفارتی پیچیدگیوں سے گہری واقفیت کے حامل دانشوروں کے اس انداز نظر کو عمران سمیت صدر اشرف غنی، ان کے قریبی رفقا نظر انداز نہیں کر سکتے کہ افغان گھمبیرتا ایک کثیر جہتی مسئلہ ہے جس کی اپنی ایک مزاحمتی، عسکری، قبائلی اور سماجی و سیاسی تاریخ ہے۔
افغانستان نے گزشتہ 16 برسوں میں امریکا اور طالبان کے علاوہ اپنے گراں بار سماجی، سیاسی بحرانوں اور انتشار و غیر ملکی جنگوں سے بڑا نقصان اٹھایا ہے، لہٰذا معاملات افغانستان کی تعمیر و بحالی سمیت ایک ایسے سیاسی و سماجی اور آئینی نظام کی تشکیل نو کے ہیں جن میں صدر اشرف غنی کی حکومت، طالبان رہنما ، افغان وارلارڈز ، شمالی اتحاد و دیگر مذہبی گروہ اور عمائدین مل بیٹھ کر افغانستان میں نمایندہ حکومت قائم کرنے پر متفق ہوں ۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ افغانستان کی 1500کلومیٹر سرحد ہے ، پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لیے افغانستان میں امن و استحکام انتہائی ضروری ہے، افغانستان کا امن پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
ماضی میں امریکا اور پاکستان کے درمیان اس مسئلہ پر بداعتمادی کی کیفیت رہی ، امریکا سمجھتا رہا کہ پاکستان نے اس سلسلے میں کافی کوششیں نہیں کیں، ہم نے اس جنگ میں 70 ہزار جانیں قربان کیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان میں میڈیا پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں میڈیا انتہائی آزاد ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ ہم وہاں کسی بھی قسم کی مسلح ملیشیا کی اجازت نہ دیں۔ لہٰذا حکومت نے ایسی تنظیموں کو غیر مسلح کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب پہلی بار نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ہو رہا ہے۔ بقائے باہمی سب کے لیے اہم ہے، پاکستان کے امن عمل کے ضمن میں کلیدی کردار کی وزیر اعظم نے حالیہ دورے میں بھی گفتگو کی ، اپنے بیانیے میں صدر ٹرمپ کا تذکرہ افغانستان میں آیندہ کے گیم پلان سے تھا ، وہ یقیناً پاکستان سے افغان امن مسئلہ کی باریکیوں کا سارا فسانہ لے کر بیٹھیں گے، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی مصروفیات لازماً بڑھیں گی، امریکا افغان جنگ سے عملاً تھک چکا ہے۔
ٹرمپ لاکھ کہیں کہ میں افغانستان میں ایک ہفتہ میں لاکھوں انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر امن کا جھنڈا لہراؤں گا مگر ایسا نہیں کرنا چاہتا، ایسی باتیں سیاست کی جدید لغت میں بڑھکوں اور دھمکیوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں، اور اب جب کہ طالبان سے امریکا کے خصوصی نمایندے خلیل زلمے کی متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، طالبان کی قیادت ، ان کے قریبی رفقا اور مختلف دھڑے ایک متفقہ لائحہ عمل کی طرف مائل ہو کر ایک امید افزا بریک تھرو کے قریب پہنچ چکے ہیںاس لیے ضرورت حقیقت پسندی اور افغانستان کو جنگ و بربادی سے نجات دلانے کی ہے۔ اس کا ادراک سارے اسٹیک ہولڈرز کا فرض ہے۔