ہانگ کانگ میں کشیدگی چین کا امریکا پر الزام
امریکا کو یہ جان لینا چاہیے کہ ہانگ کانگ چین کی ملکیت ہے اور ہم کسی قسم کی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔
امریکا کو یہ جان لینا چاہیے کہ ہانگ کانگ چین کی ملکیت ہے اور ہم کسی قسم کی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔ فوٹو:سی این این
ہانگ کانگ وہ چھوٹا سا جزیرہ جس پر برطانیہ نے قبضہ کر لیا تھا مگر چین نے اپنی طویل خاموش ڈپلومیسی کے ذریعے بالآخر اس دنیا کے اہم ترین کمرشل جزیرے کو برطانیہ سے دوبارہ حاصل کر لیا، نہ کوئی چیخ و پکار کی نہ کوئی دھونس دھمکی دی تاہم جزیرے میں جہاں اربوں کھربوں ڈالر کا یومیہ کاروبار ہوتا ہے، اس کے اندر چند ہفتوں سے شورش اور گڑبڑ شروع ہو گئی جس کا الزام چین نے امریکا پر عائد کر دیا اور کہا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی کی طرف سے ہانگ کانگ میں کشیدگی اور شورش کو ہوا دی جا رہی ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ہوا چن ینگ نے ایک باقاعدہ پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ جزیرے میں گزشتہ دو ہفتے سے جو تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں ان واقعات کے ذمے داروں کا تعین کر لیا گیا ہے جن پر مین لینڈ چائنا میں مقدمہ چلایا جائے گا جس میں وہ دنیا کو بتائیں گے کہ وہ کیا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور ان کو کن مقاصد کے ساتھ وہاں بھجوایا گیا تھا۔ اتوار کے دن سفید ٹی شرٹ پہنے افراد کے دو گروپ جنھوں نے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے دو سیاسی کارکنوں کو ہلاک کر دیا، اس واردات میں ہانگ کانگ کے جرائم پیشہ گینگ بھی شامل تھے۔
جنھوں نے جمہوریت کی حمایت کرنے والے احتجاجی مظاہرین پر حملہ کر دیا اور جزیرے میں بیجنگ کے سرکاری دفتر پر توڑ پھوڑ کی۔ چین کی طرف سے سرکاری طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ ہانگ کانگ پر سابق نوآبادیاتی حکمران برطانیہ اور امریکا کے ایجنٹوں کی معاندانہ کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور نہ چین وہاں کسی قسم کی مداخلت کی اجازت دے گا۔ خاتون ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کو یہ جان لینا چاہیے کہ ہانگ کانگ چین کی ملکیت ہے اور ہم کسی قسم کی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہانگ کانگ کی کشیدگی کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے نہایت ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ واضح رہے ہانگ کانگ ایک ایسا مالیاتی حب ہے جسے 1997میں برطانیہ نے چین کو واپس کیا تھا۔ ہانگ کانگ کے باسیوں نے جزیرے کو واپس چین کے پاس جانے پر اس خدشہ کا اظہار کیا کہ مین لینڈ چین میں چونکہ اس طرح کی آزادی نہیں جیسی کہ جزیرے پر برطانوی حکمرانی کے دوران تھی، جزیرے میں یہی وجہ فساد ہے۔
دریں اثناء ہانگ کانگ پولیس نے جمہوریت نواز مظاہرین پرحملے کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس حملہ میں درجن بھر سے زائد افراد زخمی بھی ہو گئے تھے۔
چین کی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ہوا چن ینگ نے ایک باقاعدہ پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ جزیرے میں گزشتہ دو ہفتے سے جو تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں ان واقعات کے ذمے داروں کا تعین کر لیا گیا ہے جن پر مین لینڈ چائنا میں مقدمہ چلایا جائے گا جس میں وہ دنیا کو بتائیں گے کہ وہ کیا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور ان کو کن مقاصد کے ساتھ وہاں بھجوایا گیا تھا۔ اتوار کے دن سفید ٹی شرٹ پہنے افراد کے دو گروپ جنھوں نے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے دو سیاسی کارکنوں کو ہلاک کر دیا، اس واردات میں ہانگ کانگ کے جرائم پیشہ گینگ بھی شامل تھے۔
جنھوں نے جمہوریت کی حمایت کرنے والے احتجاجی مظاہرین پر حملہ کر دیا اور جزیرے میں بیجنگ کے سرکاری دفتر پر توڑ پھوڑ کی۔ چین کی طرف سے سرکاری طور پر اعلان کیا گیا ہے کہ ہانگ کانگ پر سابق نوآبادیاتی حکمران برطانیہ اور امریکا کے ایجنٹوں کی معاندانہ کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور نہ چین وہاں کسی قسم کی مداخلت کی اجازت دے گا۔ خاتون ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا کو یہ جان لینا چاہیے کہ ہانگ کانگ چین کی ملکیت ہے اور ہم کسی قسم کی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہانگ کانگ کی کشیدگی کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے نہایت ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ واضح رہے ہانگ کانگ ایک ایسا مالیاتی حب ہے جسے 1997میں برطانیہ نے چین کو واپس کیا تھا۔ ہانگ کانگ کے باسیوں نے جزیرے کو واپس چین کے پاس جانے پر اس خدشہ کا اظہار کیا کہ مین لینڈ چین میں چونکہ اس طرح کی آزادی نہیں جیسی کہ جزیرے پر برطانوی حکمرانی کے دوران تھی، جزیرے میں یہی وجہ فساد ہے۔
دریں اثناء ہانگ کانگ پولیس نے جمہوریت نواز مظاہرین پرحملے کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس حملہ میں درجن بھر سے زائد افراد زخمی بھی ہو گئے تھے۔