صلۂ رحمی
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے اور مخلوق میں سب سے بہتر وہ ہے جو مخلوق سے اچھا سلوک کرتا ہے
صلۂ رحمی کے لیے ضروری نہیں کہ انسان مالی مدد ہی کرے، بل کہ جس چیز کی وہ استطاعت رکھتا ہو، وہی عمل کرے۔ فوٹو : فائل
اپنے رشتے داروں، پاس پڑوس اور دیگر لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا صلۂ رحمی کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد ہر ایک کو کسی نہ کسی قبیلے اور خاندان سے جوڑ دیا ہے اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔ سبھی افراد کسی نہ کسی خاندان سے مربوط ہوتے ہیں۔ اسی آپس کے ربط اور انسانی اخوّت و محبّت کو رشتے داری و قرابت داری کے ذریعے قائم رکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
قرآن مجید کی متعدد آیات، احادیث شریفہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی پاکیزہ زندگی صلۂ رحمی کی بے حد تاکید کرتی ہے۔ آقا کریم ﷺ نے جانیں دشمنوں کو بھی معاف کرکے صلۂ رحمی کا درس دیا۔ صلۂ رحمی کا مقصد یہ ہے کہ اپنے رشتے داروں، احباب، پاس پڑوس اور دیگر افراد کے ساتھ اچھے اور بہتر تعلقات قائم کیے جائیں۔ آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہا جائے۔ خوشی اور غم میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا جائے۔
آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھا جائے۔ رشتے داروں کے ہاں آمد و رفت رکھ کر ان کی خیریت معلوم کرتے رہنا چاہیے۔ اگر وہ مالی حوالے سے تنگ دستی کا شکار ہوں تو ان کی مدد کی جائے اور ہر لحاظ سے ان کا خیال رکھا جائے ۔ اپنے والدین کے دوست احباب اور جن کے ساتھ ان کے تعلقات ہوں، ان سب کے ساتھ صلۂ رحمی کی جائے۔ یہی انسانیت کا تقاضا اور اس کی معراج ہے۔
مصیبت میں ہر ایک کے کام آنا، مریضوں کی عیادت، ان پڑھوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا، احباب و دیگر لوگوں کی عدم موجودی میں ان کی اشیاء کی حفاظت، بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت، تکلیف پر صبر، اچھی صحبت اور ہمیشہ لوگوں کی خیر خواہی کرنے کا نام ہی صلۂ رحمی ہے جو انسان کے جنّت میں داخلے کی راہ ہم وار کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیا ہے ۔ کیوں کہ مخلوق اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے۔
اللہ کے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے اور مخلوق میں سب سے بہتر وہ ہے جو مخلوق سے اچھا سلوک کرتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ پہلے خونیں و نسبی رشتوں میں درجہ بہ درجہ صلۂ رحمی کرے، پھر معاشرتی و انسانی رشتوں کے اعتبار سے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے۔ اور احسان کا دائرہ وسیع تر کرتے ہوئے جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا بھی باعث اجر و ثواب اور پسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے۔
صلۂ رحمی کے لیے ضروری نہیں کہ انسان مالی مدد ہی کرے، بل کہ جس چیز کی وہ استطاعت رکھتا ہو، وہی عمل کرے۔ ان کے ساتھ اچھی گفت گو کرے۔ ان کے گھر جاکر ان کا حال احوال دریافت کرے۔ ان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرے۔ اس سے مودت و محبت میں اضافہ ہوگا اور رشتے مضبوط ہوں گے۔ آپس میں بغض و عداوت ختم ہوگی۔
صلۂ رحمی کے درج ذیل آسان ترین طریقوں پر عمل پیرا ہو کر ہم اپنے لیے رشتے داروں میں محبت پیدا کر سکتے ہیں۔ ٭ ایک دوسرے کے گھروں میں آمد و رفت رکھی جائے۔ اس سے آپس کے احوال کی خبر رہتی ہے۔ ٭ رشتے داروں کو دعوت دے کر اپنے گھر بلایا جائے۔ ان کی خاطر تواضع کی جائے۔ ٭ ملاقات یا ٹیلی فون کے ذریعے ایک دوسرے کی مزاج پرسی کی جائے۔ ٭ خوشی اور غم کے مواقع پر شرکت ضرور کی جائے۔ اس سے اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ ٭ مریضوں کی عیادت کی جائے اور جنازوں میں شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ ٭ غریب رشتے دار کی مدد کرنے پر دگنا اجر ہے۔ اس لیے ایسے رشتے داروں کا خاص خیال رکھا جائے۔ ٭ دلوں کو رشتے داروں کے لیے کینہ سے پاک رکھا جائے۔ ان سے بغض و حسد نہ کیا جائے۔ ٭ ایک دوسرے کے لیے دعائے خیر کرتے رہنا، اس کا ان کے دلوں پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ ٭ ملاقات کے وقت چہرہ ہشاش بشاش ہو۔ ہر معاملے میں رشتے داروں اور دیگر لوگوں کی خیر خواہی سوچی جائے۔ ٭ معاملات میں معافی تلافی ہو۔ معاف کرنے کی روش اپنانی چاہیے۔ رشتے داروں اور احباب کی کوتاہیوں اور لغزشوں کو درگزر کرنا چاہیے۔ ٭ آپس کے معاملات اور تنازعات کو خاندان کے بزرگوں کے ذریعے مل بیٹھ کر حل کرنا چاہیے۔
یقین کیجیے اگر آپ نے ان اصولوں پر عمل کرلیا تو پورے خاندان کی زندگی میں امن و سکون کی دولت ہوگی۔ آپس کے تعلقات بہت اچھے ہوجائیں گے۔ زندگی میں خوش حالی ہوگی۔ پورا خاندان ایک گھر کی مانند ہوگا۔ اس طرح پورے معاشرے میں ایک خوش گوار تبدیلی رونما ہوگی۔
قرآن مجید کی متعدد آیات، احادیث شریفہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی پاکیزہ زندگی صلۂ رحمی کی بے حد تاکید کرتی ہے۔ آقا کریم ﷺ نے جانیں دشمنوں کو بھی معاف کرکے صلۂ رحمی کا درس دیا۔ صلۂ رحمی کا مقصد یہ ہے کہ اپنے رشتے داروں، احباب، پاس پڑوس اور دیگر افراد کے ساتھ اچھے اور بہتر تعلقات قائم کیے جائیں۔ آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہا جائے۔ خوشی اور غم میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا جائے۔
آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھا جائے۔ رشتے داروں کے ہاں آمد و رفت رکھ کر ان کی خیریت معلوم کرتے رہنا چاہیے۔ اگر وہ مالی حوالے سے تنگ دستی کا شکار ہوں تو ان کی مدد کی جائے اور ہر لحاظ سے ان کا خیال رکھا جائے ۔ اپنے والدین کے دوست احباب اور جن کے ساتھ ان کے تعلقات ہوں، ان سب کے ساتھ صلۂ رحمی کی جائے۔ یہی انسانیت کا تقاضا اور اس کی معراج ہے۔
مصیبت میں ہر ایک کے کام آنا، مریضوں کی عیادت، ان پڑھوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا، احباب و دیگر لوگوں کی عدم موجودی میں ان کی اشیاء کی حفاظت، بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت، تکلیف پر صبر، اچھی صحبت اور ہمیشہ لوگوں کی خیر خواہی کرنے کا نام ہی صلۂ رحمی ہے جو انسان کے جنّت میں داخلے کی راہ ہم وار کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیا ہے ۔ کیوں کہ مخلوق اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے۔
اللہ کے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے اور مخلوق میں سب سے بہتر وہ ہے جو مخلوق سے اچھا سلوک کرتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ پہلے خونیں و نسبی رشتوں میں درجہ بہ درجہ صلۂ رحمی کرے، پھر معاشرتی و انسانی رشتوں کے اعتبار سے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے۔ اور احسان کا دائرہ وسیع تر کرتے ہوئے جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا بھی باعث اجر و ثواب اور پسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے۔
صلۂ رحمی کے لیے ضروری نہیں کہ انسان مالی مدد ہی کرے، بل کہ جس چیز کی وہ استطاعت رکھتا ہو، وہی عمل کرے۔ ان کے ساتھ اچھی گفت گو کرے۔ ان کے گھر جاکر ان کا حال احوال دریافت کرے۔ ان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرے۔ اس سے مودت و محبت میں اضافہ ہوگا اور رشتے مضبوط ہوں گے۔ آپس میں بغض و عداوت ختم ہوگی۔
صلۂ رحمی کے درج ذیل آسان ترین طریقوں پر عمل پیرا ہو کر ہم اپنے لیے رشتے داروں میں محبت پیدا کر سکتے ہیں۔ ٭ ایک دوسرے کے گھروں میں آمد و رفت رکھی جائے۔ اس سے آپس کے احوال کی خبر رہتی ہے۔ ٭ رشتے داروں کو دعوت دے کر اپنے گھر بلایا جائے۔ ان کی خاطر تواضع کی جائے۔ ٭ ملاقات یا ٹیلی فون کے ذریعے ایک دوسرے کی مزاج پرسی کی جائے۔ ٭ خوشی اور غم کے مواقع پر شرکت ضرور کی جائے۔ اس سے اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ ٭ مریضوں کی عیادت کی جائے اور جنازوں میں شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ ٭ غریب رشتے دار کی مدد کرنے پر دگنا اجر ہے۔ اس لیے ایسے رشتے داروں کا خاص خیال رکھا جائے۔ ٭ دلوں کو رشتے داروں کے لیے کینہ سے پاک رکھا جائے۔ ان سے بغض و حسد نہ کیا جائے۔ ٭ ایک دوسرے کے لیے دعائے خیر کرتے رہنا، اس کا ان کے دلوں پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ ٭ ملاقات کے وقت چہرہ ہشاش بشاش ہو۔ ہر معاملے میں رشتے داروں اور دیگر لوگوں کی خیر خواہی سوچی جائے۔ ٭ معاملات میں معافی تلافی ہو۔ معاف کرنے کی روش اپنانی چاہیے۔ رشتے داروں اور احباب کی کوتاہیوں اور لغزشوں کو درگزر کرنا چاہیے۔ ٭ آپس کے معاملات اور تنازعات کو خاندان کے بزرگوں کے ذریعے مل بیٹھ کر حل کرنا چاہیے۔
یقین کیجیے اگر آپ نے ان اصولوں پر عمل کرلیا تو پورے خاندان کی زندگی میں امن و سکون کی دولت ہوگی۔ آپس کے تعلقات بہت اچھے ہوجائیں گے۔ زندگی میں خوش حالی ہوگی۔ پورا خاندان ایک گھر کی مانند ہوگا۔ اس طرح پورے معاشرے میں ایک خوش گوار تبدیلی رونما ہوگی۔