محکمہ ایکسائز میں اسامیاں تخلیق کرکے ملازمتیں دینے کا حکم
عدالت نے حکم دیا کہ میرٹ پر ملازمت کے حقداروں کو ہرحال میں ملازمت فراہم کی جائے
غیرقانونی تعمیرات کے سلسلے میں اعلی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جاسکتی ہے ، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو عدالت کی تجویز۔ فوٹو: فائل
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس سرمد جلال عثمانی پر مشتمل بینچ نے محکمہ ایکسائز میں تقرریوں کے متعلق حکومت سندھ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ، فاضل بینچ نے حکومت کو ہدایت کی کہ کمیشن کا امتحان پاس کرنے والے امیدواروں کے لیے نئی اسامیاں تخلیق کرکے انھیں تعینات کرے۔
فاضل بینچ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت سندھ کی اپیل کی سماعت کررہا تھا ، حکومت سندھ کا موقف تھا کہ محکمہ ایکسائز میں انسپکٹرکی46اسامیاں تھیں جن پر تقرریاں ہوچکی ہیں اور حکومت کی مالی حالت کے پیش نظر مزید اسامیاں تخلیق نہیں کی جاسکتیں، سونو خان سمیت متعدد امیدواروں کے مطابق انھوں نے 2007میں محکمہ ایکسائز کی جانب سے انسپکٹرز کی اسامیوں کیلیے اشتہار کے جواب میں درخواستیں دیں، 203امیدواروں نے کمیشن کا امتحان پاس کیا اور ملازمت کے حقدار قرار پائے لیکن 2008 میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد انھیں نظرانداز کرکے من پسند افراد کو بھرتی کرلیا گیا۔
درخواست گزاروں کی بڑی تعداد کا تعلق سکھر ریجن سے ہے اس لیے انھوں نے اس صورتحال میں سندھ ہائیکورٹ سکھر سرکٹ سے رجوع کیا اور سندھ ہائیکورٹ نے درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیا تاہم حکومت سندھ نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کردی تھی جو بدھ کو مسترد کردی گئی اور حکومت کو ہدایت کی گئی کہ میرٹ پر ملازمت کے حقداروں کو ہرحال میں ملازمت فراہم کی جائے خواہ اس کیلیے نئی اسامیاں تخلیق کرنا پڑیں۔
فاضل بینچ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت سندھ کی اپیل کی سماعت کررہا تھا ، حکومت سندھ کا موقف تھا کہ محکمہ ایکسائز میں انسپکٹرکی46اسامیاں تھیں جن پر تقرریاں ہوچکی ہیں اور حکومت کی مالی حالت کے پیش نظر مزید اسامیاں تخلیق نہیں کی جاسکتیں، سونو خان سمیت متعدد امیدواروں کے مطابق انھوں نے 2007میں محکمہ ایکسائز کی جانب سے انسپکٹرز کی اسامیوں کیلیے اشتہار کے جواب میں درخواستیں دیں، 203امیدواروں نے کمیشن کا امتحان پاس کیا اور ملازمت کے حقدار قرار پائے لیکن 2008 میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد انھیں نظرانداز کرکے من پسند افراد کو بھرتی کرلیا گیا۔
درخواست گزاروں کی بڑی تعداد کا تعلق سکھر ریجن سے ہے اس لیے انھوں نے اس صورتحال میں سندھ ہائیکورٹ سکھر سرکٹ سے رجوع کیا اور سندھ ہائیکورٹ نے درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیا تاہم حکومت سندھ نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کردی تھی جو بدھ کو مسترد کردی گئی اور حکومت کو ہدایت کی گئی کہ میرٹ پر ملازمت کے حقداروں کو ہرحال میں ملازمت فراہم کی جائے خواہ اس کیلیے نئی اسامیاں تخلیق کرنا پڑیں۔