جعلی این اوسی پر 2400 بلٹ پروف جیکٹس کی کلیئرنس ناکام
کمپنی نے چین سے ہزاروں جیکٹس، 6ہزار بلٹ بلٹ پروف پلیٹس اور دیگر ممنوعہ سامان منگوایا تھا
کمپنی نے چین سے ہزاروں جیکٹس، 6ہزار بلٹ بلٹ پروف پلیٹس اور دیگر ممنوعہ سامان منگوایا تھا.
ماڈل کسٹمزکلکٹریٹ ایسٹ کے شعبہ آراینڈ ڈی نے وفاقی وزارت داخلہ کے جعلی این او سی پرچین سے غیرقانونی طور پردرآمدکی گئی 2400 بلٹ پروف جیکٹس اور متعلقہ خام مال کی کلیئرنس کو ناکام بنادیا۔
محکمہ کسٹمز کے باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کلکٹراپریزمنٹ ایسٹ رشید شیخ کو ایک خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ فوجی استعمال میں آنے والی بلٹ پروف جیکٹس کی ایک بڑی مقدار چین سے درآمد کی ئی ہے جسے متعلقہ درآمدکنندہ ایک جعلی این اوسی کی بنیاد پر کسٹمز سے کلیئر کراسکتا ہے۔ اس اطلاع پر کلکٹرکسٹمزاپریزمنٹ (ایسٹ) فوری طور پر پرنسپل اپریزر شفیع اللہ کی نگرانی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی جنھوں نے مذکورہ ایل سی ایل کنسائمنٹ کی نگرانی کی اور متعلقہ درآمد کنندہ کمپنی میسرزسپکا مینوفیکچررز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹرسے بلٹ پروف جیکٹس درآمد کرنے کا این او سی طلب کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ محکمہ کسٹمز نے درآمدکنندہ کمپنی کے نمائندے زاہدشاہ میر کی فراہم کردہ این او سی نمبرF-4/26/2009/Security/1 جس پرتاریخ اجرا13 دسمبر2012 درج تھی، کی فوری طور پر وفاقی وزارت داخلہ کی تصدیق کرائی تو وزارت داخلہ نے اس این او سی کو جعلی قراردیا۔
اس کے فوری بعد ہی محکمہ کسٹمز کے شعبہ آراینڈ ڈی نے کنسائمنٹ کی تفصیلی ایگزامنیشن کی تو معلوم ہوا کہ کنسائمنٹ میں2400 بلٹ پروف جیکٹس، 6000 بلٹ پروف پلیٹس، 7580 کلوگرام پینل فیبرک اور13000 میٹر پورڈا کلاتھ موجود ہیں جس کی درآمد امپورٹ پالیسی کے تحت ممنوع ہے۔ محکمہ کسٹمز نے ابتدائی کاروائی کرتے ہوئے 71 لاکھ65 ہزار307 روپے مالیت کی بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر خام مال ضبط کرتے ہوئے میسرزسپکامینوفیکچرنگ کے خلاف ایف آئی آر نمبرMCC/Misc/336/2013 درج کرکے کمپنی کے ڈائریکٹرزاہد شاہ میر کو حراست میں لے لیا اور عدالت سے 23 ستمبر تک ریمانڈ بھی حاصل کرلیا۔
محکمہ کسٹمز کے باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ کلکٹراپریزمنٹ ایسٹ رشید شیخ کو ایک خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ فوجی استعمال میں آنے والی بلٹ پروف جیکٹس کی ایک بڑی مقدار چین سے درآمد کی ئی ہے جسے متعلقہ درآمدکنندہ ایک جعلی این اوسی کی بنیاد پر کسٹمز سے کلیئر کراسکتا ہے۔ اس اطلاع پر کلکٹرکسٹمزاپریزمنٹ (ایسٹ) فوری طور پر پرنسپل اپریزر شفیع اللہ کی نگرانی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی جنھوں نے مذکورہ ایل سی ایل کنسائمنٹ کی نگرانی کی اور متعلقہ درآمد کنندہ کمپنی میسرزسپکا مینوفیکچررز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹرسے بلٹ پروف جیکٹس درآمد کرنے کا این او سی طلب کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ محکمہ کسٹمز نے درآمدکنندہ کمپنی کے نمائندے زاہدشاہ میر کی فراہم کردہ این او سی نمبرF-4/26/2009/Security/1 جس پرتاریخ اجرا13 دسمبر2012 درج تھی، کی فوری طور پر وفاقی وزارت داخلہ کی تصدیق کرائی تو وزارت داخلہ نے اس این او سی کو جعلی قراردیا۔
اس کے فوری بعد ہی محکمہ کسٹمز کے شعبہ آراینڈ ڈی نے کنسائمنٹ کی تفصیلی ایگزامنیشن کی تو معلوم ہوا کہ کنسائمنٹ میں2400 بلٹ پروف جیکٹس، 6000 بلٹ پروف پلیٹس، 7580 کلوگرام پینل فیبرک اور13000 میٹر پورڈا کلاتھ موجود ہیں جس کی درآمد امپورٹ پالیسی کے تحت ممنوع ہے۔ محکمہ کسٹمز نے ابتدائی کاروائی کرتے ہوئے 71 لاکھ65 ہزار307 روپے مالیت کی بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر خام مال ضبط کرتے ہوئے میسرزسپکامینوفیکچرنگ کے خلاف ایف آئی آر نمبرMCC/Misc/336/2013 درج کرکے کمپنی کے ڈائریکٹرزاہد شاہ میر کو حراست میں لے لیا اور عدالت سے 23 ستمبر تک ریمانڈ بھی حاصل کرلیا۔