پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ
دنیا میں ایڈز کی بیماری کو تقریباً روک دیا گیا ہے
دنیا میں ایڈز کی بیماری کو تقریباً روک دیا گیا ہے۔ فوٹو : فائل
اقوام متحدہ نے پاکستان کا نام ان گیارہ ملکوں میں شامل کر لیا ہے جہاں ایچ آئی وی (ایڈز) کی ہلاکت خیز بیماری کے امکانات سب سے زیادہ یعنی 13 فیصد سے زیادہ ہیں۔ پاکستان میں ایڈز سے بچاؤ اور حفاظت کے لیے گزشتہ ایک عشرے میں کیے جانے والے اقدامات اور انتظامات اس قدر ناقص اور ناکافی تھے جس کا متذکرہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ یو ایس ایڈز 2019کے عنوان سے جو رپورٹ جاری کی گئی ہے۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ایڈز کی بیماری کو تقریباً روک دیا گیا ہے جو 2030 تک دنیا سے بالکل ختم ہو جائے گی لیکن پاکستان ایسا ملک ہے جہاں ایڈز کی بیماری نئے سرے سے شروع ہونے کے آثار بڑھ گئے ہیں کیونکہ وہاں ایڈز کے نئے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ سامنے آ رہا ہے۔
یو این رپورٹ کے مطابق ایک ہزار افراد میں سے پاکستان میں 2010 میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 0.08 تھی جو بڑھ کر 2010 میں 0.11 ہو گئی حالانکہ اس مہلک بیماری کے سدباب کے لیے بین الاقوامی ذرایع سے پاکستان کی مالی امداد میں خاطرخواہ اضافہ کر دیا گیا تھا۔ رپورٹ نے یہ بھی بتایا کہ ایڈز کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ اس مہلک بیماری کے مریضوں کی طرف باقاعدہ طور پر کوئی دھیان نہیں دیا جاتا جس کی وجہ سے پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس مرض میں کتنے مریض مبتلا ہیں۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ایڈز کی بیماری کو تقریباً روک دیا گیا ہے جو 2030 تک دنیا سے بالکل ختم ہو جائے گی لیکن پاکستان ایسا ملک ہے جہاں ایڈز کی بیماری نئے سرے سے شروع ہونے کے آثار بڑھ گئے ہیں کیونکہ وہاں ایڈز کے نئے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ سامنے آ رہا ہے۔
یو این رپورٹ کے مطابق ایک ہزار افراد میں سے پاکستان میں 2010 میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 0.08 تھی جو بڑھ کر 2010 میں 0.11 ہو گئی حالانکہ اس مہلک بیماری کے سدباب کے لیے بین الاقوامی ذرایع سے پاکستان کی مالی امداد میں خاطرخواہ اضافہ کر دیا گیا تھا۔ رپورٹ نے یہ بھی بتایا کہ ایڈز کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ اس مہلک بیماری کے مریضوں کی طرف باقاعدہ طور پر کوئی دھیان نہیں دیا جاتا جس کی وجہ سے پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس مرض میں کتنے مریض مبتلا ہیں۔