بے جا سختی اور ڈانٹ ڈپٹ بچوں كو نفسياتی مريض بنا سكتی ہے امریکی ماہرین

سختی کرنے سے بچوں كی نہ صرف خود اعتمادی ميں كمی واقع ہوتی ہے بلكہ اس سے بچے كی شخصيت بھی تباہ ہوجاتی ہے، ماہرین

سختی کرنے سے بچوں كی نہ صرف خود اعتمادی ميں كمی واقع ہوتی ہے بلكہ اس سے بچے كی شخصيت بھی تباہ ہوجاتی ہے، ماہرین

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ بے جا سختی اور ڈانٹ ڈپٹ بچوں كو نفسياتی مريض بنا سكتی ہے۔


امريكی ماہرين كے مطابق جن كم عمر بچوں كو والدين بے جا ڈانٹتے اور ان پر سختی كرتے ہيں ايسے بچے ڈپریشن جیسے نفسياتی مرض کا شکار ہوجاتے ہیں، بچوں پر بے جا ڈانٹ ڈپٹ كرنا اتنا ہی نقصان دہ ہے جتنا بچوں كو مارنا، اس لئے والدین کو بچوں پر سختی کرنے سے اجتناب كرنا چاہيئے، ايسے بچے جارحانہ رويے كے بھی مالک بن جاتے ہيں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سختی کرنے سے بچوں كی نہ صرف خود اعتمادی ميں كمی واقع ہوتی ہے بلكہ اس سے بچے كی شخصيت بھی تباہ ہوجاتی ہے اور وہ معاشرے كا كبھی اہم ركن نہيں بن سكتا ہے، والدين كو چاہئے كہ بچوں پر بے جا سختی كرنے سے گريز كريں ان سے دوستانہ رويہ استوار كريں تاكہ وہ والدين سے ہر مسئلے پر بات كر سكيں، بچوں کے ساتھ مثبت رویہ رکھنے سے ان كی خود اعتمادی اور ذہنی استعداد بڑھتی ہے اور معاشرے كے مفيد فرد ثابت ہوتے ہیں۔
Load Next Story