جمہوری تسلسل میثاق جمہوریت کا ثمر
داخلی طور پر بھی سیاسی محاذ آرائی اور فوجی مداخلتوں کاسلسلہ 1947 کے فوراً بعد سے شروع ہوگیا تھا
zahedahina@gmail.com
ہمارے ملک کی تاریخ المناک واقعات وسانحات کا مجموعہ ہے، اس کے ہر ورق پر جا بجاخون کے دھبے نظر آتے ہیں۔ تقسیم کے فوراً بعد انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نقلِ مکانی ہوئی۔ اس عظیم انسانی المیے کے دوران مذہبی بنیادوں پرکروڑوں لوگوں نے ترک وطن کیا۔ فرقہ وارانہ فسادات ہوئے، لوٹ مار اور قتل و غارت گری میں لاکھوں انسانوں کو بے دردی اور سفاکی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ مقتولین کا تعلق ہر مذہب، مسلک، رنگ، نسل، قومیت اور صنف سے تھا۔ مارے جانے والوں میں مرد، عورتیں، بچے سب شامل تھے۔
ابھی یہ عمل مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ ان نوآزاد ملکوں کے درمیان کشمیر میں کشیدگی پیدا ہوئی اور جنگ کا آغاز ہوگیا۔ تنازعہ اقوام متحدہ تک گیا۔ جنگ بندی پر اتفاق ہوا اور دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی گئی جو لائن آف کنٹرول کے نام سے موسوم ہوئی اور جہاں اب بھی گاہے بگاہے گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور توپوں کی گرج سنائی دیتی ہے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، دونوں پڑوسی ملک آپس میں دوست نہ بن سکے۔ ہمارے بس میں ہوتا تو ہم پڑوس تبدیل کردیتے لیکن یہ انسان کے بس میں نہیں، جغرافیے میں پڑوس تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ دونوں ملکوں کے درمیان کئی چھوٹی اور بڑی جنگیں ہوئیں ۔ مشرقی پاکستان میں ہونے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں مغربی سرحدوں پر بھی جنگ چھڑگئی اور آج تک اس کی تلخ یادیں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
داخلی طور پر بھی سیاسی محاذ آرائی اور فوجی مداخلتوں کاسلسلہ 1947 کے فوراً بعد سے شروع ہوگیا تھا۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کی تخلیق ممکن ہی نہ ہوتی اگر مشرقی بنگال کے مسلمان تحریک پاکستان میں فعال ترین کردار ادا نہ کرتے۔ آزادی کے بعد ان کے اندر اپنے نئے وطن کے حوالے سے بے پناہ توقعات پیدا ہوگئی تھیں۔ ان کا مذہب اسلام تھا، پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا لہٰذا وہ بجا طور پر یہ امید رکھتے تھے کہ نئے ملک میں ان کے ساتھ نہ صرف برابری بلکہ زیادہ توقیر اور احترام کا رویہ اختیار کیا جائے گا۔
وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ جس پاکستان کے لیے انھوں نے بنگال اور ہندوستان کو تقسیم کرادیا، وہاں ان کی زبان کو قومی زبان کا درجہ بھی نہیں دیا جائے گا جب کہ ہندوستان بنگلہ کو قومی زبانوں میں سے ایک تسلیم کرے گا۔ انھوں نے جب اپنی زبان کے حق میں آواز بلند کی تو انھیں یہ جواب دیا گیا کہ پاکستان ایک قوم ہے لہٰذا اس کی ایک زبان ہوگی اور وہ زبان ہوگی اردو اور صرف اردو۔ اس جواب سے مشرقی پاکستان کے لوگوں کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ وہ سکتے میں آگئے، جو کچھ ان کے ساتھ ہورہا تھا اس پر انھیں یقین نہیں آرہا تھا۔ جب ان کے مطالبے میں شدت آئی تو انھیں غدار تک کہنے سے گریز نہ کیا گیا۔ مشرقی پاکستان کے طالب علموں نے بنگلہ زبان کے لیے تحریک شروع کی جسے تشدد سے دبانے کی کوشش کی گئی اور درجنوں طلباء شہید ہوئے۔ ان کی یاد میں ایک یادگار تعمیر ہوئی ۔ اس شہید مینار پر آج بھی غیر ملکی مہمان حاضری دیتے ہیں۔
بنگلہ کو بالآخر قومی زبان تسلیم کرلیا گیا لیکن جو ہونا تھا وہ ہوچکا تھا۔ بدگمانی اور بے اعتمادی کا تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ پاکستان میں فوجی حکومتیں آئیں۔ مشرقی پاکستان کے ساتھ ان کا رویہ سفاکانہ اور تحقیر آمیز تھا۔ مشرقی پاکستان میں پاکستانیوں کی اکثریت آباد تھی، ان کی اکثریت غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔ ان میں نہ جاگیر دار، زمین دار اورسرمایہ دار تھے اور نہ فوجی افسران اور سول بیورو کریسی سے ان کا کوئی قابلِ ذکر تعلق تھا۔ مغربی پاکستان کی حکمران اشرافیہ کا تعلق فوجی، سول نوکر شاہی، بڑے تاجروں، سرمایہ داروں، سرداروں، جاگیرداروں، خانوں اور وڈیروں سے تھا۔ اس طرح مشرقی بنگال کے عوام کا اس حکمران اشرافیہ سے ایک طبقاتی ٹکرائو تھا۔ ان کے پاس اقتدار میں آنے اور بااختیار ہونے کا صرف ایک راستہ تھا اور وہ تھا جمہوریت کا راستہ۔ پاکستان پر فوجی اشرافیہ کی سرپرستی میں قائم حکمران اشرافیہ صرف جمہوریت کا راستہ روک کر ہی اپنے اقتدار اور حکمرانی کو قائم رکھ سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقی پاکستان کے عوام جنھوں نے پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں سب سے اہم اور بنیادی کردار ادا کیا تھا انھیں پاکستان کے فوجی آمروں نے غدار اور ہندوستان کا ایجنٹ قرار دیا۔
1947 کے بعد 25 سال اسی کشمکش اور ٹکرائو میں گزرگئے ۔غیر معمولی سیاسی دبائو سے مجبور ہوکر جنرل یحییٰ خان کو 1970 کے عام انتخابات کرانے پڑے جس میں عوامی لیگ اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی۔ 1947 سے پہلے بنگالی مسلمانوں کو پاکستان سے جو امیدیں تھیں ویسی ہی امیدیں ان کے اندر 1970 کے انتخابات کے بعد دوبارہ پیدا ہوئیں۔ انھیںمحسوس ہوا کہ تخلیق پاکستان کے 25 برس بعد سہی، جمہوریت کے ذریعے آزادی کے ثمرات ان تک اب ضرور پہنچیں گے۔ لیکن ان کی خوشی عارضی ثابت ہوئی ۔ فوجی حکمرانوں نے عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے انکارکردیا، ان کا ساتھ مغربی پاکستان کے بڑے بڑے سیاستدانوں نے بھی دیا۔ ایسا کرنے والوں کو یہ معلوم تھا کہ پاکستان جمہوریت اور انتخابات کے ذریعے ہی وجود میں آیا ہے، اگر جمہوریت کی نفی کی گئی اور عوام کے مینڈنٹ کو نہ مانا گیا تو ملک ٹوٹ جائے گا۔ اس حقیقت کو جاننے کے باوجود انھوں نے مشرقی پاکستان کے محب وطن پاکستانیوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغازکیا اور پھر زیادہ وقت نہیں لگا کہ پاکستان سے ٹوٹ کر مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش کے نام سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا، جسے آج اقوام عالم میں ہمارے مقابلے میں زیادہ عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اور جس کی سماجی اور معاشی ترقی کی رفتار ہم سے بہتر ہے۔
پاکستان ٹوٹ گیا، اس کے توڑنے والوں نے یہ واضح کردیا کہ وہ اپنے اقتدار کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر بھٹو کا قتل،نواز شریف کی تذلیل اور جلاوطنی، سیکڑوں سیاسی کارکنوں کا قتل اور ہزاروں کی نظر بندی اسی سوچ اور عمل کا تسلسل تھا۔ اس صورتحال میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین پر یہ ذمے داری عائد ہوئی کہ وہ زیادہ سنجیدہ رویہ اپنائیں، آپس کی محاذ آرائی ترک کریں ، غیر جمہوری طاقتوں کا ساتھ دینے سے اجتناب برتیں، ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا رویہ اختیار کریں۔بے نظیر بھٹو اور محمد نواز شریف موجودہ پاکستان کے وہ پہلے دو بڑے قومی رہنما ہیں جنھوں نے اس تاریخی ضرورت کو محسوس کیا۔ انھوں نے میثاق جمہوریت پر دستخط ثبت کیے اور یہ عہد کیا کہ وہ غیر جمہوری قوتوں کو پارلیمنٹ پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ میثاق جمہوریت ، میری نظر میں، آئین پاکستان کے بعد سب سے اہم سیاسی دستاویز ہے۔ آج ملک میں جو جمہوری تسلسل نظر آرہا ہے وہ اسی دستاویز کے الفاظ اور روح پر عمل درآمد کا ثمر ہے۔
دہشت گردی کے خلاف کل جماعتی کانفرنس کی کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کی سوچ اور سیاسی فکر میں تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ مئی 2013 کے انتخابات کے دوران اور اس کے فوراً بعد بعض سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں نے ماضی کا طرز سیاست اختیار کرنے کا تجربہ کیا۔ لوگوں کے جذبات کو برانگیختہ کیا، مخالفین کا کھلے عام مضحکہ اڑایا اور انھیں مختلف قسم کے القابات دیے لیکن عوام نے محاذ آرائی کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے ان جماعتوں کو کامیاب کرایا جو میثاق جمہوریت کے مطابق مفاہمت، جمہوری اور آئینی تسلسل پر یقین رکھتی ہیں۔ بعد ازاں، محاذ آرائی کی حامی سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے نتائج کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔
لیکن ضمنی انتخابات میں عوام نے دوبارہ 11 مئی 2013 جیسا فیصلہ صادرکیا۔ کل جماعتی کانفرنس کے دوران جس باہمی احترام اور افہام تفہیم کے مظاہر دیکھے گئے اس کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی رہنما آئین اور قانون کی بالادستی اور مکالمے اور مفاہمت کا پیش لفظ رقم کرنے پر آماد ہ نظر آتے ہیں۔ تاہم، اب بھی ہمیں ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔ وہ تمام قوتیں، طبقات اور عناصرجو ماضی کے سیاسی اور معاشی نظام کے اہم شراکت دار تھے جمہوری روایات اور تسلسل کے خلاف مزاحمت کا عمل جاری رکھیں گے۔ یہ مزاحمت سیاسی بھی ہوگی اور پرُتشدد بھی۔ سیاسی رہنمائوں، سول سوسائٹی، میڈیا، عدلیہ اور دیگر طاقت ور سیاسی اداروں کو دہشت گردوں کے خاتمے اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے ہر قیمت پر متحد ہونا پڑے گا۔
ایسا ہوگیا تو پاکستان کی آئندہ تاریخ میں المناک داستانوں اور خون آلود سانحات کے سیاہ باب کم ہوتے چلے جائیںگے۔
ابھی یہ عمل مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ ان نوآزاد ملکوں کے درمیان کشمیر میں کشیدگی پیدا ہوئی اور جنگ کا آغاز ہوگیا۔ تنازعہ اقوام متحدہ تک گیا۔ جنگ بندی پر اتفاق ہوا اور دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی گئی جو لائن آف کنٹرول کے نام سے موسوم ہوئی اور جہاں اب بھی گاہے بگاہے گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور توپوں کی گرج سنائی دیتی ہے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، دونوں پڑوسی ملک آپس میں دوست نہ بن سکے۔ ہمارے بس میں ہوتا تو ہم پڑوس تبدیل کردیتے لیکن یہ انسان کے بس میں نہیں، جغرافیے میں پڑوس تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ دونوں ملکوں کے درمیان کئی چھوٹی اور بڑی جنگیں ہوئیں ۔ مشرقی پاکستان میں ہونے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں مغربی سرحدوں پر بھی جنگ چھڑگئی اور آج تک اس کی تلخ یادیں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
داخلی طور پر بھی سیاسی محاذ آرائی اور فوجی مداخلتوں کاسلسلہ 1947 کے فوراً بعد سے شروع ہوگیا تھا۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کی تخلیق ممکن ہی نہ ہوتی اگر مشرقی بنگال کے مسلمان تحریک پاکستان میں فعال ترین کردار ادا نہ کرتے۔ آزادی کے بعد ان کے اندر اپنے نئے وطن کے حوالے سے بے پناہ توقعات پیدا ہوگئی تھیں۔ ان کا مذہب اسلام تھا، پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا لہٰذا وہ بجا طور پر یہ امید رکھتے تھے کہ نئے ملک میں ان کے ساتھ نہ صرف برابری بلکہ زیادہ توقیر اور احترام کا رویہ اختیار کیا جائے گا۔
وہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ جس پاکستان کے لیے انھوں نے بنگال اور ہندوستان کو تقسیم کرادیا، وہاں ان کی زبان کو قومی زبان کا درجہ بھی نہیں دیا جائے گا جب کہ ہندوستان بنگلہ کو قومی زبانوں میں سے ایک تسلیم کرے گا۔ انھوں نے جب اپنی زبان کے حق میں آواز بلند کی تو انھیں یہ جواب دیا گیا کہ پاکستان ایک قوم ہے لہٰذا اس کی ایک زبان ہوگی اور وہ زبان ہوگی اردو اور صرف اردو۔ اس جواب سے مشرقی پاکستان کے لوگوں کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ وہ سکتے میں آگئے، جو کچھ ان کے ساتھ ہورہا تھا اس پر انھیں یقین نہیں آرہا تھا۔ جب ان کے مطالبے میں شدت آئی تو انھیں غدار تک کہنے سے گریز نہ کیا گیا۔ مشرقی پاکستان کے طالب علموں نے بنگلہ زبان کے لیے تحریک شروع کی جسے تشدد سے دبانے کی کوشش کی گئی اور درجنوں طلباء شہید ہوئے۔ ان کی یاد میں ایک یادگار تعمیر ہوئی ۔ اس شہید مینار پر آج بھی غیر ملکی مہمان حاضری دیتے ہیں۔
بنگلہ کو بالآخر قومی زبان تسلیم کرلیا گیا لیکن جو ہونا تھا وہ ہوچکا تھا۔ بدگمانی اور بے اعتمادی کا تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ پاکستان میں فوجی حکومتیں آئیں۔ مشرقی پاکستان کے ساتھ ان کا رویہ سفاکانہ اور تحقیر آمیز تھا۔ مشرقی پاکستان میں پاکستانیوں کی اکثریت آباد تھی، ان کی اکثریت غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔ ان میں نہ جاگیر دار، زمین دار اورسرمایہ دار تھے اور نہ فوجی افسران اور سول بیورو کریسی سے ان کا کوئی قابلِ ذکر تعلق تھا۔ مغربی پاکستان کی حکمران اشرافیہ کا تعلق فوجی، سول نوکر شاہی، بڑے تاجروں، سرمایہ داروں، سرداروں، جاگیرداروں، خانوں اور وڈیروں سے تھا۔ اس طرح مشرقی بنگال کے عوام کا اس حکمران اشرافیہ سے ایک طبقاتی ٹکرائو تھا۔ ان کے پاس اقتدار میں آنے اور بااختیار ہونے کا صرف ایک راستہ تھا اور وہ تھا جمہوریت کا راستہ۔ پاکستان پر فوجی اشرافیہ کی سرپرستی میں قائم حکمران اشرافیہ صرف جمہوریت کا راستہ روک کر ہی اپنے اقتدار اور حکمرانی کو قائم رکھ سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقی پاکستان کے عوام جنھوں نے پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں سب سے اہم اور بنیادی کردار ادا کیا تھا انھیں پاکستان کے فوجی آمروں نے غدار اور ہندوستان کا ایجنٹ قرار دیا۔
1947 کے بعد 25 سال اسی کشمکش اور ٹکرائو میں گزرگئے ۔غیر معمولی سیاسی دبائو سے مجبور ہوکر جنرل یحییٰ خان کو 1970 کے عام انتخابات کرانے پڑے جس میں عوامی لیگ اکثریتی پارٹی بن کر سامنے آئی۔ 1947 سے پہلے بنگالی مسلمانوں کو پاکستان سے جو امیدیں تھیں ویسی ہی امیدیں ان کے اندر 1970 کے انتخابات کے بعد دوبارہ پیدا ہوئیں۔ انھیںمحسوس ہوا کہ تخلیق پاکستان کے 25 برس بعد سہی، جمہوریت کے ذریعے آزادی کے ثمرات ان تک اب ضرور پہنچیں گے۔ لیکن ان کی خوشی عارضی ثابت ہوئی ۔ فوجی حکمرانوں نے عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے سے انکارکردیا، ان کا ساتھ مغربی پاکستان کے بڑے بڑے سیاستدانوں نے بھی دیا۔ ایسا کرنے والوں کو یہ معلوم تھا کہ پاکستان جمہوریت اور انتخابات کے ذریعے ہی وجود میں آیا ہے، اگر جمہوریت کی نفی کی گئی اور عوام کے مینڈنٹ کو نہ مانا گیا تو ملک ٹوٹ جائے گا۔ اس حقیقت کو جاننے کے باوجود انھوں نے مشرقی پاکستان کے محب وطن پاکستانیوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغازکیا اور پھر زیادہ وقت نہیں لگا کہ پاکستان سے ٹوٹ کر مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش کے نام سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا، جسے آج اقوام عالم میں ہمارے مقابلے میں زیادہ عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اور جس کی سماجی اور معاشی ترقی کی رفتار ہم سے بہتر ہے۔
پاکستان ٹوٹ گیا، اس کے توڑنے والوں نے یہ واضح کردیا کہ وہ اپنے اقتدار کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر بھٹو کا قتل،نواز شریف کی تذلیل اور جلاوطنی، سیکڑوں سیاسی کارکنوں کا قتل اور ہزاروں کی نظر بندی اسی سوچ اور عمل کا تسلسل تھا۔ اس صورتحال میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین پر یہ ذمے داری عائد ہوئی کہ وہ زیادہ سنجیدہ رویہ اپنائیں، آپس کی محاذ آرائی ترک کریں ، غیر جمہوری طاقتوں کا ساتھ دینے سے اجتناب برتیں، ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا رویہ اختیار کریں۔بے نظیر بھٹو اور محمد نواز شریف موجودہ پاکستان کے وہ پہلے دو بڑے قومی رہنما ہیں جنھوں نے اس تاریخی ضرورت کو محسوس کیا۔ انھوں نے میثاق جمہوریت پر دستخط ثبت کیے اور یہ عہد کیا کہ وہ غیر جمہوری قوتوں کو پارلیمنٹ پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ میثاق جمہوریت ، میری نظر میں، آئین پاکستان کے بعد سب سے اہم سیاسی دستاویز ہے۔ آج ملک میں جو جمہوری تسلسل نظر آرہا ہے وہ اسی دستاویز کے الفاظ اور روح پر عمل درآمد کا ثمر ہے۔
دہشت گردی کے خلاف کل جماعتی کانفرنس کی کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کی سوچ اور سیاسی فکر میں تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ مئی 2013 کے انتخابات کے دوران اور اس کے فوراً بعد بعض سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں نے ماضی کا طرز سیاست اختیار کرنے کا تجربہ کیا۔ لوگوں کے جذبات کو برانگیختہ کیا، مخالفین کا کھلے عام مضحکہ اڑایا اور انھیں مختلف قسم کے القابات دیے لیکن عوام نے محاذ آرائی کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے ان جماعتوں کو کامیاب کرایا جو میثاق جمہوریت کے مطابق مفاہمت، جمہوری اور آئینی تسلسل پر یقین رکھتی ہیں۔ بعد ازاں، محاذ آرائی کی حامی سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے نتائج کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔
لیکن ضمنی انتخابات میں عوام نے دوبارہ 11 مئی 2013 جیسا فیصلہ صادرکیا۔ کل جماعتی کانفرنس کے دوران جس باہمی احترام اور افہام تفہیم کے مظاہر دیکھے گئے اس کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی رہنما آئین اور قانون کی بالادستی اور مکالمے اور مفاہمت کا پیش لفظ رقم کرنے پر آماد ہ نظر آتے ہیں۔ تاہم، اب بھی ہمیں ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔ وہ تمام قوتیں، طبقات اور عناصرجو ماضی کے سیاسی اور معاشی نظام کے اہم شراکت دار تھے جمہوری روایات اور تسلسل کے خلاف مزاحمت کا عمل جاری رکھیں گے۔ یہ مزاحمت سیاسی بھی ہوگی اور پرُتشدد بھی۔ سیاسی رہنمائوں، سول سوسائٹی، میڈیا، عدلیہ اور دیگر طاقت ور سیاسی اداروں کو دہشت گردوں کے خاتمے اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے ہر قیمت پر متحد ہونا پڑے گا۔
ایسا ہوگیا تو پاکستان کی آئندہ تاریخ میں المناک داستانوں اور خون آلود سانحات کے سیاہ باب کم ہوتے چلے جائیںگے۔