او جی ڈی سی ایل نے سیسمک ڈیٹا پراسیسنگ یونٹ قائم کردیا

تیل وگیس ذخائر کی نشاندہی، سیسمک ڈیٹا کی ملک میں ہی تشریح ہو سکے گی

تیل وگیس ذخائر کی نشاندہی، سیسمک ڈیٹا کی ملک میں ہی تشریح ہو سکے گی فوٹو: فائل

آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے ملک میں تیل و گیس کے ذخائر میں اضافے کیلیے 27کروڑ روپے کی لاگت سے سیسمک ڈیٹا پراسیسنگ یونٹ قائم کردیا ہے۔

او جی ڈی سی ایل حکام کے مطابق سیسمک ڈیٹا پراسیسنگ یونٹ کے قیام کے بعد پاکستان تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کے حوالے سے سیسمک سروے کے دوران حاصل ہونے والے ڈیٹا کی تشریح کرنے میں خود کفیل ہوگیا، اس اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے جہاں یہ پتا چلانے میں مدد ملے گی کہ کس علاقے میں تیل و گیس کے ذخائر موجود ہیں وہاں سیسمک سروے سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تحفظ بھی یقینی ہوسکے گا، اس کے علاوہ پاکستان کو سیسمک ڈیٹا کی تشریح پر آنے والے اخراجات کی مد میں سالانہ 30کروڑ روپے کی بچت ہوگی ۔




کیونکہ اس سے پہلے پاکستان تیل و گیس کے ذخائرکا پتا چلانے کیلیے سیسمک ڈیٹا کو تشریح کیلیے فرانس اور مصر سمیت دیگر ممالک کو بھجواتا تھا۔ او جی ڈی سی ایل حکام کا کہنا ہے کہ آئل اینڈ گیس انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پٹرولیم انجینئرنگ میں ماسٹر ڈگری اور پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ بھی شروع کردیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ تیل و گیس کے نئے ذخائر کی تلاش کیلیے او جی ڈی سی ایل نے اسٹیٹ آف دی آرٹ 2 نئی رگز بھی خرید لی ہیں جبکہ اس سے قبل او جی ڈی سی ایل کو رگ کی مد میں لاکھوں ڈالر ماہانہ کے حساب سے ادائیگی کرنا پڑتی تھی مگر اب رگز کے معاملے میں بھی او جی ڈی سی ایل خودکفیل ہوچکا ہے جس سے پاکستان کو کروڑوں ڈالر سالانہ کی مزید بچت ہوگی۔
Load Next Story