حصص مارکیٹمنافع کاحصول60پوائنٹس گرگئے

انڈیکس15151پربند،56 فیصدحصص کی قیمتوں میںکمی،22ارب کانقصان

انڈیکس15151پربند،56 فیصدحصص کی قیمتوں میںکمی،22ارب کانقصان۔ فوٹو : فائل

کراچی اسٹاک ایکس چینج میںپرافٹ ٹیکنگ کے باعث بدھ کو اتارچڑھائو کے بعد ایک بار پھرمندی کی لپیٹ میں رہی جس سے انڈیکس کی15200 کی حد گرگئی، 56 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی اور سرمایہ کاروں کے22 ارب21 کروڑ92 لاکھ53 ہزار578 روپے ڈوب گئے، اے کے ڈی سیکورٹیز کے سی ای او فریدعالم نے بتایا کہ وفاقی وزارت آئی ٹی کی جانب سے لانگ ڈسٹینس کالزکی سہولیات فراہم کرنے والی ٹیلی کام انڈسٹری انٹرنیشنل کلیئرنگ ہائوس کی اجازت پرمسابقتی کمیشن آف پاکستان کے تحفظات اورشعبہ میں اجارہ داری وبے قاعدگی کے خدشات کے اظہار کے سبب بدھ کو پی ٹی سی ایل سمیت دیگر ٹیلی کام کمپنیوں کے حصص پر فروخت کا رحجان غالب رہا جس سے مندی کے اثرات رونما ہوئے تاہم یہ مندی عارضی نوعیت کی ہے اور آئندہ سیشنز کے دوران مارکیٹ میںدوبارہ تیزی رونما ہوگی،


ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر42 لاکھ21 ہزار793 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر21.34 پوائنٹس کی اگرچہ تیزی رونما ہوئی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے 31 لاکھ54 ہزار173 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے3 لاکھ88 ہزار 540 ڈالر، این بی ایف سیز کی جانب سے5 لاکھ57 ہزار874 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے ایک لاکھ21 ہزار207 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے تیزی کو مندی میں تبدیل کردیا جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس60.67 پوائنٹس کی کمی سے 15151.31 ہوگیا

جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 99.60 پوائنٹس کی کمی سے12990.55 اور کے ایم آئی30 انڈیکس77.24 پوائنٹس کی کمی سے26786.84 ہوگیا، کاروباری حجم منگل کی نسبت35 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر20 کروڑ 36 لاکھ44 ہزار120 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار317 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں113 کے بھائو میں اضافہ، 177 کے داموں میں کمی اور27 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

Recommended Stories

Load Next Story