کے ایس ایاے کے ڈی سیکیورٹیزپہلی مارکیٹ میکرمقرر
پاکستان کی دوبارہ ایمرجنگ مارکیٹ میںشمولیت کیلیے ایم ایس سی آئی سے بات3ستمبرکو ہوگی۔
کے ایس ای کی شرائط کے مطابق ابتدائی طور پر کمپنی یومیہ 100 کنٹریکٹ ٹریڈ کرے گی۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل
کراچی اسٹاک ایکس چینج نے ''اسٹاک انڈیکس فیوچر کنٹریکٹ'' کے فروغ کیلیے اے کے ڈی سیکورٹیز کی پہلے مارکیٹ میکرکی حیثیت سے تقرری کردی ہے۔ اس سلسلے میں بدھ کو کراچی اسٹاک ایکس چینج کے منیجنگ ڈائریکٹر ندیم نقوی نے کے ایس ای پراڈکٹ ڈیولپمنٹ ہیڈ ثانی محمود اور اے کے ڈی سیکیورٹیز کے سی ای او فرید عالم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سال2008 میں ''اسٹاک انڈیکس فیوچر کنٹریکٹ'' کو متعارف کرایا گیا تھا لیکن عالمی مالیاتی بحران اور مقامی اسٹاک ایکس چینجز میں فلورلگائے جانے جیسے عوامل کے سبب حصص کی تجارتی سرگرمیوں کی تنزلی کے سبب مذکورہ پروڈکٹ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی جس کے بعد کے ایس ای انتظامیہ نے بین الاقوامی پریکٹسز کو مدنظر رکھتے ہوئے مارکیٹ میکر کی تقرری کی حکمت عملی وضح کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میکر کیلیے فیصل بینک، ٹاپ لائن سیکیورٹیز سمیت 6 درخواستیں موصول ہوئی ہیں تاہم مطلوبہ شرائط اور کوائف پورے کرنے پر اے کے ڈی سیکیورٹیز کو مارکیٹ میکر کا پہلا لائسنس جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایس ای انتظامیہ سرمایہ کاروں کے تحفظ کیلیے مارکیٹ میکر کی مانیٹرنگ کرے گی اور مارکیٹ میکرکی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے نتیجے میں اسٹاک ایکس چینج کے کاروباری حجم میں بھی نمایاں اضافہ ہوسکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ پروڈکٹ کے ایس ای30 انڈیکس کے اتارچڑھائو میں اہم کردار ادا کرے گی، کے ایس ای30 انڈیکس کو بہت جلد ممبئی، دبئی اور نیویارک اسٹاک ایکس چینجز میں متعارف کرادیا جائے گا جبکہ لاہور اسٹاک ایکس چینج میں کے ایس ای30 انڈیکس آئندہ 6 تا8 ہفتوں میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردے گا۔
ندیم نقوی نے بتایا کہ کراچی اسٹاک ایکس چینج ڈی میوچلائزڈ ہوچکی ہے، 40 فیصد حصص موجودہ اسٹاک ممبران کے اکائونٹس میں منتقل ہوچکے ہیں اور40 فیصد حصص جلد ہی غیرملکی اسٹریٹجک انویسٹرز اور انسٹی ٹیوشنز کوجاری کیے جائیں گے جبکہ باقی ماندہ20 فیصد حصص عمومی سرمایہ کاروں کیلیے آئی پی او کے ذریعے پیشکش کیے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں ندیم نقوی نے بتایا کہ کراچی اسٹاک ایکس چینج کی ٹیم 3 ستمبر2012 کو ایم ایس سی آئی کی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کا ایک دور کرے گی جس میں پاکستانی مارکیٹ کو دوبارہ ایمرجنگ مارکیٹ میں لانے کی کوششیں کی جائیں گی کیونکہ سال2008 کے دوران فلور عائد کیے جانے اور بحران کے باعث مقامی اسٹاک ایکس چینج کو ایم ایس سی آئی انڈیکس سے نکال دیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ انڈین سینٹرل ریزرو بینک کی جانب سے کراس بارڈرشیئرانویسٹمنٹ کی اجازت دیے جانے کے بعد کے ایس ای انتظامیہ کو بھی امید ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی کراس بارڈٹریڈنگ کو فروغ دینے کی غرض سے انڈین سینٹرل بینک کے اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے مطلوبہ اقدامات بروئے کار لائے گا۔ پریس کانفرنس سے اے کے ڈی سیکیورٹیز کے سی ای او فرید عالم نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا ادارہ آئندہ چند روز میں ''اسٹاک انڈیکس فیوچرکنٹریکٹ'' کوڈ کا اجرا شروع کردے گا،
کے ایس ای کی شرائط کے مطابق ابتدائی طور پر کمپنی یومیہ 100 کنٹریکٹ ٹریڈ کرے گی جس میں بتدریج اضافہ کرتے ہوئے آئندہ 6 ماہ میں یومیہ 500 کنٹریکٹ کی ٹریڈنگ کی جائے گی، مزکورہ پروڈکٹ کیش سیٹلڈ فیوچر کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا جس کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے والوں کو کے ایس ای30 انڈیکس کی مخصوص ویلیو کا صرف12.5 فیصد کی ادائیگی کرنی پڑے گی اور فیوچر کنٹریکٹ کے تصفیے کی مدت3 ماہ ہوگی، اس پروڈکٹ کے ذریعے اسٹاک مارکیٹ کے ریڈی بورڈ کا والیم بڑھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اے کے ڈی سیکیورٹیز پاکستان کی پہلی کمپنی ہے جس نے ملک میں انٹرنیٹ شیئرٹریڈنگ متعارف کرائی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میکر کیلیے فیصل بینک، ٹاپ لائن سیکیورٹیز سمیت 6 درخواستیں موصول ہوئی ہیں تاہم مطلوبہ شرائط اور کوائف پورے کرنے پر اے کے ڈی سیکیورٹیز کو مارکیٹ میکر کا پہلا لائسنس جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایس ای انتظامیہ سرمایہ کاروں کے تحفظ کیلیے مارکیٹ میکر کی مانیٹرنگ کرے گی اور مارکیٹ میکرکی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے نتیجے میں اسٹاک ایکس چینج کے کاروباری حجم میں بھی نمایاں اضافہ ہوسکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ پروڈکٹ کے ایس ای30 انڈیکس کے اتارچڑھائو میں اہم کردار ادا کرے گی، کے ایس ای30 انڈیکس کو بہت جلد ممبئی، دبئی اور نیویارک اسٹاک ایکس چینجز میں متعارف کرادیا جائے گا جبکہ لاہور اسٹاک ایکس چینج میں کے ایس ای30 انڈیکس آئندہ 6 تا8 ہفتوں میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردے گا۔
ندیم نقوی نے بتایا کہ کراچی اسٹاک ایکس چینج ڈی میوچلائزڈ ہوچکی ہے، 40 فیصد حصص موجودہ اسٹاک ممبران کے اکائونٹس میں منتقل ہوچکے ہیں اور40 فیصد حصص جلد ہی غیرملکی اسٹریٹجک انویسٹرز اور انسٹی ٹیوشنز کوجاری کیے جائیں گے جبکہ باقی ماندہ20 فیصد حصص عمومی سرمایہ کاروں کیلیے آئی پی او کے ذریعے پیشکش کیے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں ندیم نقوی نے بتایا کہ کراچی اسٹاک ایکس چینج کی ٹیم 3 ستمبر2012 کو ایم ایس سی آئی کی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کا ایک دور کرے گی جس میں پاکستانی مارکیٹ کو دوبارہ ایمرجنگ مارکیٹ میں لانے کی کوششیں کی جائیں گی کیونکہ سال2008 کے دوران فلور عائد کیے جانے اور بحران کے باعث مقامی اسٹاک ایکس چینج کو ایم ایس سی آئی انڈیکس سے نکال دیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ انڈین سینٹرل ریزرو بینک کی جانب سے کراس بارڈرشیئرانویسٹمنٹ کی اجازت دیے جانے کے بعد کے ایس ای انتظامیہ کو بھی امید ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی کراس بارڈٹریڈنگ کو فروغ دینے کی غرض سے انڈین سینٹرل بینک کے اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے مطلوبہ اقدامات بروئے کار لائے گا۔ پریس کانفرنس سے اے کے ڈی سیکیورٹیز کے سی ای او فرید عالم نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا ادارہ آئندہ چند روز میں ''اسٹاک انڈیکس فیوچرکنٹریکٹ'' کوڈ کا اجرا شروع کردے گا،
کے ایس ای کی شرائط کے مطابق ابتدائی طور پر کمپنی یومیہ 100 کنٹریکٹ ٹریڈ کرے گی جس میں بتدریج اضافہ کرتے ہوئے آئندہ 6 ماہ میں یومیہ 500 کنٹریکٹ کی ٹریڈنگ کی جائے گی، مزکورہ پروڈکٹ کیش سیٹلڈ فیوچر کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا جس کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے والوں کو کے ایس ای30 انڈیکس کی مخصوص ویلیو کا صرف12.5 فیصد کی ادائیگی کرنی پڑے گی اور فیوچر کنٹریکٹ کے تصفیے کی مدت3 ماہ ہوگی، اس پروڈکٹ کے ذریعے اسٹاک مارکیٹ کے ریڈی بورڈ کا والیم بڑھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اے کے ڈی سیکیورٹیز پاکستان کی پہلی کمپنی ہے جس نے ملک میں انٹرنیٹ شیئرٹریڈنگ متعارف کرائی ہے۔