تعلیمی اداروں میں چینی زبان کی تدریس کا منصوبہ ناکام

حیرت انگیز طور پر منصوبے کے آغاز سے قبل ہی اس پر 50 لاکھ روپے سے زائد کی خطیر رقم خرچ کردی گئی

پاکستان اور بالخصوص کراچی میں بدامنی کے باعث چینی ماہرین نے درس و تدریس کے آغاز سے انکار کیا، ذرائع فوٹو : فائل

سندھ کے تعلیمی اداروں میں چینی زبان کی تدریس کامنصوبہ ناکامی سے دوچار ہوگیا ہے حکومت سندھ کا محکمہ تعلیم 5 سالہ منصوبے کے 2 برس گزرنے کے باوجود اس کا آغاز ہی نہیں کرسکا ہے۔

منصوبے کے آغاز سے قبل ہی اس پر 50 لاکھ روپے سے زائد کی رقم خرچ کردی گئی ہے چینی زبان سے ناواقف لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹ رفیض اللہ کوعدالتی حکم پر فارغ کردیا گیا، ان کی تقرری ریٹائرمنٹ کے بعدکنٹریکٹ پرپروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر کی گئی تھی تاہم وہ ایک سال تک تنخواہ کے حصول کے علاوہ منصوبے کے آغاز کیلیے کوئی عملی اقدام نہیں کرسکے۔

یاد رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کے احکام پرچینی زبان کی افادیت، اہمیت اور چین کی اقتصادی ترقی کے پیش نظر سندھ کے تعلیمی اداروں میں چینی زبان کی تدریس شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور ابتدائی طور پر اس سلسلے میں سابق وزیرتعلیم پیر مظہرالحق کے دورمیں ایک ریٹائرافسر فیض کھوسوکو 3 لاکھ روپے ماہانہ پر پروجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔


منصوبے کے آغاز کے سلسلے میں محکمہ تعلیم کے اکیڈمک اینڈ ٹریننگ ونگ میں کئی اجلاس بھی ہوئے جس میں طے کیا گیا کہ ابتدا میں چھٹی جماعت سے اسکولوںمیں چینی زبان کی تدریس شروع کی جائے گی ، اس سلسلے میں کچھ اساتذہ کا انتخاب کرکے بحیثیت ماسٹر ٹرینرز چینی ماہرین ان کی تربیت کرینگے ۔



متعلقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر اس منصوبے کے تحت سندھ کے کسی بھی ضلع میں تربیتی مراکز قائم کرسکے نہ ماسٹر ٹرینرز کا انتخاب کیا جا سکا بعد ازاں یہ طے پایاکہ چینی حکومت کا متعلقہ شعبہ جامعہ کراچی اور سندھ یونیورسٹی جامشورو میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ قائم کریگا جس میں ان ماسٹرٹرینرکو تربیت دی جائیگی ، ماسٹر ٹرینر کی تربیت کی تکمیل کے بعد سندھ کے سرکاری اسکولوں میں باقاعدہ طور پر چینی زبان کی تدریس کا سلسلہ شروع ہوجائیگا۔

اب بتایا جارہا ہے کہ پاکستان اور بالخصوص کراچی کی صورتحال کے باعث چینی ماہرین نے ماسٹر ٹرینرز کیلیے چینی زبان کی تدریس پاکستان میں دینے سے معذوری ظاہر کردی ہے اور کہا ہے کہ جب تک امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں ہوجاتی انکے ماہرین تدریسی خدمات انجام نہیں دے سکتے جسکے سبب جامعات میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قیام میں بھی تاخیر ہورہی ہے، صوبائی محکمہ تعلیم کے ایک اعلیٰ افسر نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اگرچہ چینی زبان کی تدریس کیلیے منصوبہ تاخیر کا شکار ہے تاہم ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ابتدائی طور پر جامعات کی سطح پر اس کی تدریس شروع کر دیں اس سلسلے میں ایک چینی زبان کے ماہر کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں جنھوں نے چینی زبان کی ابتدائی درسی کتاب بھی تیار کی ہے ان کی تقرری کی سمری وزیراعلیٰ سندھ کو بھیج دی گئی ہے۔
Load Next Story