ٹینس کی مصروفیات ثانیہ مزید کچھ عرصے پاکستان نہیں جاسکیں گی
وقت ملتے ہی ضرور دورہ کروں گی، وہاں جو پیار ملا بھول نہیں سکتی، بھارتی اسٹار
شعیب ملک کرکٹ ٹیم میں دوبارہ جگہ حاصل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، ثانیہ مرزا فوٹو: اے ایف پی/فائل
ثانیہ مرزا ٹینس مصروفیات کے سبب مزید کچھ عرصے پاکستان نہیں جا سکیں گی۔
ان کا کہنا ہے کہ سیزن جاری ہونے کے سبب فوری طور پر جانا ممکن نہیں،آئندہ چند روز میں چین اور پھر جاپان کا سفر کرنا ہے، جیسے ہی فارغ وقت ملا ضروردورہ کروں گی، وہاں ماضی میں مجھے جو پیار ملا اسے فراموش نہیں کر سکتی، ان کے مطابق شعیب ملک کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ دوبارہ حاصل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
بھارتی ٹینس اسٹار نے ان خیالات کا اظہار حیدرآباد دکن سے نمائندہ ''ایکسپریس'' کو خصوصی انٹرویو میں کیا۔ ثانیہ مرزا نے کہاکہ پاکستان میں جب کبھی آئی بہت پیار اور احترام ملا، میں اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتی، میں وہاں جانا چاہتی ہوں مگر اس وقت میرے ٹینس سیزن کا درمیانی عرصہ جاری ہے لہذا فوری طور پر ایسا ممکن نہیں، البتہ فراغت کے دنوں میں جب کبھی شعیب وہاں ہوئے ضرور جائوں گی۔
انھوں نے کہا کہ 22 ستمبر سے میں ٹوکیو کے ٹورے پیسفک ٹورنامنٹ میں شرکت کروں گی، اس کے اگلے ہفتے بیجنگ میں ڈبلیو ٹی اے ایونٹ میں حصہ لینا ہے، ثانیہ نے بتایا کہ میں اور شعیب جولائی میں ومبلڈن کے دوران ایک ساتھ رہے،اس سے چند ہفتوں قبل ہم نے جرمنی میں بھی کچھ وقت گذارا تھا،ہم دونوں ہی پروفیشنل کھلاڑی ہیں اور متواتر دنیا کے مختلف حصوں کا سفر کرنا پڑتا ہے، ایسے بھی یہ مواقع ملنا خوش آئند رہا۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ شعیب ملک پہلی بار پاکستانی کرکٹ ٹیم سے ڈراپ نہیں ہوئے، میں جانتی ہوں کہ وہ اپنی جگہ دوبارہ حاصل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، حال ہی میں کیریبیئن پریمیئر لیگ میں ان کی کارکردگی شاندار رہی، وہ اب بھی دنیا بھر میں حریف کھلاڑیوں کیلیے خوف کی علامت ہیں۔ ثانیہ مرزا کو گذشتہ دنوں یو ایس اوپن کے سیمی فائنل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا،اس حوالے سے انھوں نے کہا کہ فتح اور شکست پروفیشنل کھلاڑی کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں، آپ کو جیت کے ساتھ ناکامی کو بھی قبول کرنا سیکھنا چاہیے، یو ایس اوپن میں زینگ جی اور میں نے عمدہ کھیل پیش کر کے سیمی فائنل میں رسائی پائی، فلشنگ میڈوز کے ہارڈ کورٹ میں یہ میری بہترین ڈبلز پرفارمنس تھی، اس سے میرا حوصلہ خاصا بڑھ گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ سیزن جاری ہونے کے سبب فوری طور پر جانا ممکن نہیں،آئندہ چند روز میں چین اور پھر جاپان کا سفر کرنا ہے، جیسے ہی فارغ وقت ملا ضروردورہ کروں گی، وہاں ماضی میں مجھے جو پیار ملا اسے فراموش نہیں کر سکتی، ان کے مطابق شعیب ملک کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ دوبارہ حاصل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
بھارتی ٹینس اسٹار نے ان خیالات کا اظہار حیدرآباد دکن سے نمائندہ ''ایکسپریس'' کو خصوصی انٹرویو میں کیا۔ ثانیہ مرزا نے کہاکہ پاکستان میں جب کبھی آئی بہت پیار اور احترام ملا، میں اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتی، میں وہاں جانا چاہتی ہوں مگر اس وقت میرے ٹینس سیزن کا درمیانی عرصہ جاری ہے لہذا فوری طور پر ایسا ممکن نہیں، البتہ فراغت کے دنوں میں جب کبھی شعیب وہاں ہوئے ضرور جائوں گی۔
انھوں نے کہا کہ 22 ستمبر سے میں ٹوکیو کے ٹورے پیسفک ٹورنامنٹ میں شرکت کروں گی، اس کے اگلے ہفتے بیجنگ میں ڈبلیو ٹی اے ایونٹ میں حصہ لینا ہے، ثانیہ نے بتایا کہ میں اور شعیب جولائی میں ومبلڈن کے دوران ایک ساتھ رہے،اس سے چند ہفتوں قبل ہم نے جرمنی میں بھی کچھ وقت گذارا تھا،ہم دونوں ہی پروفیشنل کھلاڑی ہیں اور متواتر دنیا کے مختلف حصوں کا سفر کرنا پڑتا ہے، ایسے بھی یہ مواقع ملنا خوش آئند رہا۔
ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ شعیب ملک پہلی بار پاکستانی کرکٹ ٹیم سے ڈراپ نہیں ہوئے، میں جانتی ہوں کہ وہ اپنی جگہ دوبارہ حاصل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، حال ہی میں کیریبیئن پریمیئر لیگ میں ان کی کارکردگی شاندار رہی، وہ اب بھی دنیا بھر میں حریف کھلاڑیوں کیلیے خوف کی علامت ہیں۔ ثانیہ مرزا کو گذشتہ دنوں یو ایس اوپن کے سیمی فائنل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا،اس حوالے سے انھوں نے کہا کہ فتح اور شکست پروفیشنل کھلاڑی کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں، آپ کو جیت کے ساتھ ناکامی کو بھی قبول کرنا سیکھنا چاہیے، یو ایس اوپن میں زینگ جی اور میں نے عمدہ کھیل پیش کر کے سیمی فائنل میں رسائی پائی، فلشنگ میڈوز کے ہارڈ کورٹ میں یہ میری بہترین ڈبلز پرفارمنس تھی، اس سے میرا حوصلہ خاصا بڑھ گیا۔