محکمہ کسٹمز نے جعلسازی کاایک اورکیس پکڑلیا
امریکی قونصلیٹ کے جعلی لیٹرپرافغانستان میں کارگو لے جانے کی کوشش، 4 افرادگرفتار
امریکی قونصلیٹ کے جعلی لیٹرپرافغانستان میں کارگو لے جانے کی کوشش، 4 افرادگرفتار فوٹو: فائل
محکمہ کسٹمز نے کراچی کی بندرگاہ سے کمرشل کنسائنمنٹ کو افغانستان میں تعینات امریکی افواج کی رسد ظاہر کر کے نکالنے والے گروہ کا سراغ لگاکر امریکی قونصلیٹ کا جعلی اتھارٹی لیٹرجمع کرانے والی کمپنی کے مالک سمیت 4 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ امریکی قونصلیٹ کی جانب سے اتھارٹی لیٹرنمبر USC/IMP/309/13 کے جعلی ہونے کی تصدیق پر محکمہ کسٹمزمیں کھلبلی مچ گئی اورکراچی کی بندرگاہ سے نیٹو کی رسد کے کنٹینرز غائب ہونے کے تناظر میں اس واقعے کو غیرمعمولی اہمیت دی جارہی ہے۔ کسٹمزذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹو کے کنٹینرز غائب کیے جانے کی غیرمصدقہ اطلاعات کے حوالے سے جعلی دستاویزات کے ذریعے رسد کو بندرگاہ سے نکالنے کے امکانات پرغورشروع کردیا گیا ہے اور اس حوالے سے ریکارڈ کی ازسرنوجانچ کی تجویز پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ محکمہ کسٹمز کو یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ بعض بانڈڈ کیریئرز افغانستان میں تعینات امریکی افواج کی رسد کیلیے امریکن قونصلیٹ کے اتھارٹی لیٹر کا غلط استعمال کررہے ہیں جس کے بعد محکمہ کسٹمز اپریزمنٹ ویسٹ کے ڈپٹی کلکٹرعلی زمان گردیزی نے ایک مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دی۔
مانیٹرنگ ٹیم نے ایک اطلاع پر محکمہ کسٹمز میں امریکی افواج کے لیے غیرتجارتی کنٹینرز کی رسد کے لیے جمع کرائی جانے والی اتھارٹی لیٹر نمبرUSC/IMP/309/13 جس کے حوالے سے مذکورہ بانڈڈ کیریئر نے یہ ظاہر کیا تھا کہ یہ لیٹر امریکی قونصلیٹ کی جانب سے یکم جولائی2013 کو جاری کیا گیا ہے اور متعلقہ گاڑیوں کی رجسٹریشن کی جب محکمہ کسٹمز نے امریکی قونصلیٹ سے تصدیق کرائی تو قونصلیٹ نے اتھارٹی لیٹرکو جعلی اور گاڑیوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
کسٹم حکام کی جانب سے تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعدمحکمہ کسٹمز کی جانب سے ایف آئی آر نمبر MCC/MISC/57/2013/R&D(A)(W) درج کرکے ڈپٹی کلکٹرعلی زمان گردیزی کی تشکیل کردہ ٹیم نے کیماڑی میں واقع بانڈڈ کیریئر کے دفتر میسرز پاک افغان کارگو سروسز پر چھاپہ مارا جہاں سے کمپنی کے مالک شوکت گل، انکے بھائی علی گل سمیت 4 افراد کو گرفتار کرلیا۔ ذرائع نے بتایا کہ منگل کو ہی ملزمان کو کسٹم کورٹ میں پیش کرکے 7 دن کا ریمانڈ بھی لے لیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ امریکی قونصلیٹ کی جانب سے اتھارٹی لیٹرنمبر USC/IMP/309/13 کے جعلی ہونے کی تصدیق پر محکمہ کسٹمزمیں کھلبلی مچ گئی اورکراچی کی بندرگاہ سے نیٹو کی رسد کے کنٹینرز غائب ہونے کے تناظر میں اس واقعے کو غیرمعمولی اہمیت دی جارہی ہے۔ کسٹمزذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹو کے کنٹینرز غائب کیے جانے کی غیرمصدقہ اطلاعات کے حوالے سے جعلی دستاویزات کے ذریعے رسد کو بندرگاہ سے نکالنے کے امکانات پرغورشروع کردیا گیا ہے اور اس حوالے سے ریکارڈ کی ازسرنوجانچ کی تجویز پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ محکمہ کسٹمز کو یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ بعض بانڈڈ کیریئرز افغانستان میں تعینات امریکی افواج کی رسد کیلیے امریکن قونصلیٹ کے اتھارٹی لیٹر کا غلط استعمال کررہے ہیں جس کے بعد محکمہ کسٹمز اپریزمنٹ ویسٹ کے ڈپٹی کلکٹرعلی زمان گردیزی نے ایک مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دی۔
مانیٹرنگ ٹیم نے ایک اطلاع پر محکمہ کسٹمز میں امریکی افواج کے لیے غیرتجارتی کنٹینرز کی رسد کے لیے جمع کرائی جانے والی اتھارٹی لیٹر نمبرUSC/IMP/309/13 جس کے حوالے سے مذکورہ بانڈڈ کیریئر نے یہ ظاہر کیا تھا کہ یہ لیٹر امریکی قونصلیٹ کی جانب سے یکم جولائی2013 کو جاری کیا گیا ہے اور متعلقہ گاڑیوں کی رجسٹریشن کی جب محکمہ کسٹمز نے امریکی قونصلیٹ سے تصدیق کرائی تو قونصلیٹ نے اتھارٹی لیٹرکو جعلی اور گاڑیوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
کسٹم حکام کی جانب سے تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعدمحکمہ کسٹمز کی جانب سے ایف آئی آر نمبر MCC/MISC/57/2013/R&D(A)(W) درج کرکے ڈپٹی کلکٹرعلی زمان گردیزی کی تشکیل کردہ ٹیم نے کیماڑی میں واقع بانڈڈ کیریئر کے دفتر میسرز پاک افغان کارگو سروسز پر چھاپہ مارا جہاں سے کمپنی کے مالک شوکت گل، انکے بھائی علی گل سمیت 4 افراد کو گرفتار کرلیا۔ ذرائع نے بتایا کہ منگل کو ہی ملزمان کو کسٹم کورٹ میں پیش کرکے 7 دن کا ریمانڈ بھی لے لیا گیا ہے۔