ایم کیو ایم نے نئے اضلاع بنانے کی مخالفت کردی
انگریزوں کا بلدیاتی نظام افادیت کھوچکا، بیٹھے بٹھائے نئے اضلاع کا شوشہ چھوڑ دیا گیا، سرداراحمد
پی پی نئے اضلاع بنانے سے پہلے مہنگائی، بیروزگاری اوربدامنی پرقابو پائے،میڈیا سے گفتگو۔ فوٹو: فائل
WASHINGTON:
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم ) نے کراچی میں نئے اضلاع بنانے کی مخالفت کردی۔
اس ضمن میں منگل کو سندھ اسمبلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سیدسرداراحمد نے کہاکہ کراچی کوسیاسی بنیادپرتقسیم کرنا مناسب نہیں ہوگا،کراچی پہلے ہی مشکلات کاشکارہے،بیٹھے بٹھائے نئے ضلعوں کاشوشہ چھوڑا گیاہے،کراچی کے پانچ اضلاع کوایک ضلع بناکر بااختیار زونز میں تقسیم کیاجائے۔
سرداراحمد نے کہا کہ ضلعی نظام انگریزوں کا لایا ہواہے،جواپنی افادیت کھوچکا، نئے اضلاع انتظامی ضروریات کے تحت بننے چاہئیں،پیپلز پارٹی کی جانب سے کراچی میں مزید اضلاع بنانے کا جو شوشہ چھوڑا گیا ہے اس کیلیے یہ مناسب وقت نہیں اور نہ ہی کسی کے مفاد میں ہے، لیاری کو الگ ضلع بنانے سے لیاری کے مسائل حل نہیں ہونگے، ایم کیو ایم کراچی کی85فیصد نمائندہ جماعت ہے، نئے اضلاع پرایم کیو ایم کو اعتماد میں نہیں لیاگیا،یکطرفہ فیصلے ہونگے تو کراچی کے عوام قبول نہیں کریں گے، پیپلز پارٹی نئے اضلاع بنانے سے پہلے مہنگائی،بیروزگاری اور بدامنی پر قابو پائے۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم ) نے کراچی میں نئے اضلاع بنانے کی مخالفت کردی۔
اس ضمن میں منگل کو سندھ اسمبلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سیدسرداراحمد نے کہاکہ کراچی کوسیاسی بنیادپرتقسیم کرنا مناسب نہیں ہوگا،کراچی پہلے ہی مشکلات کاشکارہے،بیٹھے بٹھائے نئے ضلعوں کاشوشہ چھوڑا گیاہے،کراچی کے پانچ اضلاع کوایک ضلع بناکر بااختیار زونز میں تقسیم کیاجائے۔
سرداراحمد نے کہا کہ ضلعی نظام انگریزوں کا لایا ہواہے،جواپنی افادیت کھوچکا، نئے اضلاع انتظامی ضروریات کے تحت بننے چاہئیں،پیپلز پارٹی کی جانب سے کراچی میں مزید اضلاع بنانے کا جو شوشہ چھوڑا گیا ہے اس کیلیے یہ مناسب وقت نہیں اور نہ ہی کسی کے مفاد میں ہے، لیاری کو الگ ضلع بنانے سے لیاری کے مسائل حل نہیں ہونگے، ایم کیو ایم کراچی کی85فیصد نمائندہ جماعت ہے، نئے اضلاع پرایم کیو ایم کو اعتماد میں نہیں لیاگیا،یکطرفہ فیصلے ہونگے تو کراچی کے عوام قبول نہیں کریں گے، پیپلز پارٹی نئے اضلاع بنانے سے پہلے مہنگائی،بیروزگاری اور بدامنی پر قابو پائے۔