افغانستان میں طالبان نے صوبائی الیکشن کمیشن کے سربراہ کو قتل کر دیا
طالبان نے صوبائی الیکشن کمیشن کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
الیکشن کمیشن کے سربراہ امان اللہ امان صبح دفتر جانے کے لئے گھر سے نکلے تو گھات لگائے بیٹھے مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ فوٹو: فائل
شمالی افغانستان کے صوبہ قندوز میں طالبان نے صوبائی الیکشن کمیشن کے سربراہ امان اللہ امان کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
الیکشن کمیشن کے سربراہ امان اللہ امان صبح دفتر جانے کے لئے گھر سے نکلے تو گھات لگائے بیٹھے مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ بری طرح زخمی ہو گئے، انہیں طبی امداد کے لئے فوری طورپر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے،طالبان نے واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
افغانستان میں صدارتی انتخابات آئندہ سال اپریل میں ہوں گے جس کے لئے امیدواروں کی رجسٹریشن 6 اکتوبر تک کرانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں، افغان حکام کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ قتل طالبان کی جانب سے صدارتی الیکشن کو مسترد کرنے کا عندیہ ہے۔
واضح رہے کہ طالبان کے سربراہ ملا عمر نے گزشتہ ماہ صدارتی انتخابات کو وقت ضائع کرنے کے مترادف قرار دیا تھا، طالبان کے ایک سینئر کمانڈر نے بھی غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ طالبان آئندہ سال 5 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔
الیکشن کمیشن کے سربراہ امان اللہ امان صبح دفتر جانے کے لئے گھر سے نکلے تو گھات لگائے بیٹھے مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ بری طرح زخمی ہو گئے، انہیں طبی امداد کے لئے فوری طورپر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے،طالبان نے واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
افغانستان میں صدارتی انتخابات آئندہ سال اپریل میں ہوں گے جس کے لئے امیدواروں کی رجسٹریشن 6 اکتوبر تک کرانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں، افغان حکام کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ قتل طالبان کی جانب سے صدارتی الیکشن کو مسترد کرنے کا عندیہ ہے۔
واضح رہے کہ طالبان کے سربراہ ملا عمر نے گزشتہ ماہ صدارتی انتخابات کو وقت ضائع کرنے کے مترادف قرار دیا تھا، طالبان کے ایک سینئر کمانڈر نے بھی غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ طالبان آئندہ سال 5 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔