بے نامی زون کو دفتر افرادی قوت اور مطلوبہ سامان نہیں مل سکا
ایک ماہ سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں بے نامی زونزکے افسران مشکلات کا شکار
چیئرمین ایف بی آر زونل اتھارٹیز کا اجلاس طلب کریں، چیئر پرسن بے نامی ایڈجیو ڈیکیشن اتھارٹی (فوٹو: فائل)
فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں بے نامی زون توقائم کردیا مگر اس زون کو دفتر الاٹ کیاگیا نہ ہی افرادی قوت اور دیگر دفتری سامان فراہم کیاگیا۔
ذرائع نے بتایا کہ بارہا توجہ دلانے کے باوجود ایف بی آر حکام کی جانب سے تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ بے نامی زون اسٹاف، دفتر اور ضروری سازو سامان کے بغیر ہینڈی کیپ بن کر رہ گیا ہے۔ بے نامی زون اہم شعبہ ہے اور اسے اہم مالی معاملات پر کام کرنا ہے لیکن یہ شعبہ تاحال بے یارومددگارہے۔ بے نامی ٹرانزیکشنز اور دیگر اہم معاملات دیکھنے والے اس زون کوایک ماہ گزرجانے کے باوجودکوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ بار بار مطالبات کے باوجودمطلوبہ اشیا فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ بے نامی ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی کے چیئرپرسن کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو ارسال کردہ خط میں مطالبہ کیاگیاہے کہ بے نامی زون کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے چیئرمین ایف بی آرجلد زونل اتھارٹیزکا اجلاس طلب کریں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایف بی آر نے2 روز قبل ہی بے نامی ایکٹ کی انفورسمنٹ کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اینٹی بے نامی کے قیام کابھی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اورڈائریکٹوریٹ کو 2کردار اتھارٹی اور ایڈمنسٹرٹیومیں تقسیم کیاگیاہے۔
نوٹیفکیشن میں ڈائریکٹوریٹ اینٹی بے نامی کے شعبہ اتھارٹی کی حدود کی وضاحت کی گئی ہے۔ اینٹی بے نامی ڈائریکٹوریٹ میں17تا22گریڈ افسران تعینات ہوںگے جوایڈجیوڈیکیشن کی خدمات انجام دیںگے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اینٹی بے نامی زونز میں تعینات کمشنرز ڈی جی کو رپورٹ کریں گے جبکہ ڈائریکٹرجنرل بے نامی ٹرانزیکشنزلاکے نیشنل کوآرڈینیٹرکو رپورٹ کرے گا۔ اینٹی بے نامی ڈائریکٹوریٹ ایک آزاد ادارہ ہوگاجوبے نامی زونز اورایف بی آر کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گا۔ ایف بی آر اینٹی بے نامی زونزکو فنانشل بیک اپ کی فراہمی اور صلاحیت بڑھانے میں معاونت کرے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ بارہا توجہ دلانے کے باوجود ایف بی آر حکام کی جانب سے تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ بے نامی زون اسٹاف، دفتر اور ضروری سازو سامان کے بغیر ہینڈی کیپ بن کر رہ گیا ہے۔ بے نامی زون اہم شعبہ ہے اور اسے اہم مالی معاملات پر کام کرنا ہے لیکن یہ شعبہ تاحال بے یارومددگارہے۔ بے نامی ٹرانزیکشنز اور دیگر اہم معاملات دیکھنے والے اس زون کوایک ماہ گزرجانے کے باوجودکوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ بار بار مطالبات کے باوجودمطلوبہ اشیا فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ بے نامی ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی کے چیئرپرسن کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو ارسال کردہ خط میں مطالبہ کیاگیاہے کہ بے نامی زون کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے چیئرمین ایف بی آرجلد زونل اتھارٹیزکا اجلاس طلب کریں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایف بی آر نے2 روز قبل ہی بے نامی ایکٹ کی انفورسمنٹ کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اینٹی بے نامی کے قیام کابھی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اورڈائریکٹوریٹ کو 2کردار اتھارٹی اور ایڈمنسٹرٹیومیں تقسیم کیاگیاہے۔
نوٹیفکیشن میں ڈائریکٹوریٹ اینٹی بے نامی کے شعبہ اتھارٹی کی حدود کی وضاحت کی گئی ہے۔ اینٹی بے نامی ڈائریکٹوریٹ میں17تا22گریڈ افسران تعینات ہوںگے جوایڈجیوڈیکیشن کی خدمات انجام دیںگے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اینٹی بے نامی زونز میں تعینات کمشنرز ڈی جی کو رپورٹ کریں گے جبکہ ڈائریکٹرجنرل بے نامی ٹرانزیکشنزلاکے نیشنل کوآرڈینیٹرکو رپورٹ کرے گا۔ اینٹی بے نامی ڈائریکٹوریٹ ایک آزاد ادارہ ہوگاجوبے نامی زونز اورایف بی آر کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گا۔ ایف بی آر اینٹی بے نامی زونزکو فنانشل بیک اپ کی فراہمی اور صلاحیت بڑھانے میں معاونت کرے گا۔