جامعہ کراچی استاد پر تشدد 3 طلبہ کے یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی عائد

شیخ الجامعہ ڈاکٹرمحمد قیصرنے واقعے کے بعد فوری کارروائی کی،طلبہ کا تعلیمی ریکارڈسربمہر اورامتحانات میں شرکت سے روک دیا

عمران احمد ایوننگ پروگرام کی کلاس میں پریکٹیکل کرارہے تھے کہ طلبہ نے لیب میں داخلے سے روکنے پر تشدد کیا۔ فوٹو: فائل

جامعہ کراچی میں شعبہ طبعیات کے لیکچرر عمران احمد کو تھپڑ مارنے کا افسوس ناک واقعہ رونما ہواہے، استاد کو زدوکوب کرنے، دھمکیاں دینے کے الزام میں معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصرنے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث شعبہ انوائرمینٹل اسٹیڈیز کے طالب علم فراز شکیل، شعبہ کیمیا کے طالبعلم عمر علی اور نعمان ملک کے یونیورسٹی میں ایک ہفتے تک داخلے پر پابند عائد کردی۔

تینوں طلبہ کا اکیڈمک ریکارڈ سربمہر کرتے ہوئے ان کے امتحانات میں شرکت پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے، اس معاملے کو انظباطی کمیٹی کے سپرد کردیا گیا جو ضروری کارروائی کرکے ان تینوں طلبہ کے خلاف رپورٹ پیش کرے گی تینوں طلبہ کا تعلق جامعہ کراچی کے ایوننگ پروگرام سے ہے جن میں سے ایک طالبعلم اپنے ضمنی مضمون کی عملی کلاس لینے کے لیے شعبہ طبعیات میں آیا تھا بتایا جاتا ہے کہ شعبہ طبیعیات کے لیکچرر عمران احمد بدھ کی شام ایوننگ پروگرام کے تحت جاری کلاسز میں پریکٹیکل کرارہے تھے کہ کچھ بیرونی طالب علم لیب میں داخل ہوگئے جس پر انھوں نے اعتراض کیا جس کے رد عمل میں مذکورہ طلبہ میں سے ایک نے عمران احمد کو تھپڑ رسید کردیا۔




اس واقعے کے بعد جامعہ کراچی میں سراسیمگی پھیل گئی ، اساتذہ نے ایوننگ پروگرام میں جاری تدریسی عمل کو احتجاجاً معطل کردیا، واقعے کی اطلاع جیسے ہی شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹرمحمد قیصرکو ملی تو انھوں نے فوری کارروائی کی، تینوں طلبہ کے جامعہ کراچی میں داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کاتعلیمی ریکارڈسربمہرکرنے کے احکام جاری کردیے، طلبہ کے امتحانات میں شرکت پر پابندی عائد کردی گئی، وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر کے مطابق واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، جامعہ کراچی میں اس نوعیت کے واقعات ہرگز برداشت نہیں کیے جاسکتے، انھوں نے انضبا طی کمیٹی کوہدایت کی کہ وہ طلبہ کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

ادھر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدرپروفیسر ڈاکٹر مطاہر شیخ نے کہا ہے کہ اساتذہ پر تشدد کا واقعہ ناقابل برداشت ہے واقعہ میں ملوث طلبہ کوسزادی جائے۔ انھوں نے بتایا کہ انجمن اساتذہ کی مجلس عاملہ کا جلاس بلایا جارہا ہے جس میں آئندہ کالائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ڈاکٹر مطاہر شیخ کا کہنا تھا کہ اساتذہ سے بدسلوکی اور بڑھتے ہوئے واقعات طلبہ کی مایوسی اور ذہنی دباؤ کا نتیجہ ہیں طلبہ یونین بحال نہ ہوئی تو اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایک جمہوری حکومت پانچ سال مدت پوری کرگئی اور دوسری جمہوری حکومت قائم ہوگئی تاہم اسمبلی میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے کوئی آواز اٹھانے کے لیے تیار نہیں اور یونین کے انتخاب نہیں ہورہے جس سے طلبہ میں مایوسی بڑھ گئی ہے اور وہ تشدد کی جانب مائل ہورہے ہیں۔
Load Next Story