بھارت کشمیر کی صورتحال سے بوکھلاہٹ کا شکار
بھارت داخلی انتشار اور عالمی دباؤ کے بڑھتے ہوئے سیناریو سے ذہنی دیوالیہ پن میں مبتلا ہوگیا ہے
بھارت داخلی انتشار اور عالمی دباؤ کے بڑھتے ہوئے سیناریو سے ذہنی دیوالیہ پن میں مبتلا ہوگیا ہے
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان اور نریندر مودی مسائل حل کر سکتے ہیں۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے معاملے پر اپنی ثالثی کی پیشکش پر قائم ہیں، ان کے خیال میں عمران خان اور مودی مسائل حل کر سکتے ہیں اور دونوں کی آپس میں اچھی بات چیت ہو گی البتہ دونوں رہنما اگر چاہیں تو ان کے درمیان مسئلہ حل کرنے کے لیے مدد کی جائے تو میں ثالثی کا کردار ادا ضرور کرنا چاہوں گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ بھارت نے اب تک مسئلہ کشمیر حل کرنے کی پیشکش قبول نہیں کی ہے، یہ مودی پر منحصر ہے جب کہ میں اس حوالے سے پاکستان سے بات کر چکا ہوں، دوسری جانب بھارت نے امریکی صدر کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو ایک بار پھر مسترد کر دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کشمیر مسئلہ کے حل کے لیے اگرچہ ثالثی کی دوبارہ پیشکش کی گئی ہے تاہم بھارت کا کہنا ہے کہ بات چیت پاکستان سے ہوگی، ٹرمپ کی دوبارہ ثالثی کی پیشکش بھارت نے نہ صرف مسترد کر دی بلکہ میڈیا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کا رویہ مقبوضہ وادی کی داخلی صورتحال کو ابتر بنانے کے لیے مزید جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔
ان ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں حالات کا رخ بگاڑنے کے لیے بھارتی سیکیورٹی فورسز لائن آف کنٹرول سمیت وادی کے مختف علاقوں میں اندھا دھند حملے کر رہی ہیں جب کہ مارٹر توپوں سے حملوں اور شہری آبادیوں میں خوف وہراس پھیلانے کی نئی لہر دوڑائی جا رہی ہے۔
دریں اثنا آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج مقبوضہ جموں وکشمیر وادی میں کلسٹربم استعمال کر رہی ہے جس کا جنیوا اور دیگر مہلک ہتھیاروں کے قوانین کے تحت استعمال قطعی ممنوع ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ممنوعہ جنگی ہتھیاروں کے بہیمانہ استعمال سے صورحال تیزی کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے، پاک فوج نے بھارت کو منہ توڑ جوب دینے کی مکمل تیاری کر لی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج سخت فرسٹریشن کا شکار ہے، اس کی بوکھلاہٹ کا معصوم بچے، خواتین اور شہری نشانہ بن رہے ہیں، ادھر مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت دانستہ وادی میں جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے ، اسے ثالثی کی امریکی تیجویز کا سفارتی سطح پر سنجیدہ جواب دینا چاہیے تاہم وہ ممنوعہ اسلحہ اور مارٹر توپوں سے معصوم کشمیریوں کی زندگی سے کھیل رہا ہے، گزشتہ دنوں نیلم وادی میں ایک شخص یعقوب حملے میں جاں بحق ہوا جب کہ 8 افراد شدید زخمی ہوئے، بچوں کی ہلاکت اور زخمیوں کی اطلاعات دیگر علاقوں سے بھی ملی ہیں۔ سفارتی محاذ پر بھارت کا معاندانہ رویہ بدستور جاری ہے ۔
ترجمان بھارتی وزارت خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے بیان میں کہا کہ انھوں نے امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کو بتایا ہے کہ کشمیر کے متنازع معاملے پر کوئی بھی بات چیت صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان ہو گی۔ دونوں رہنماؤں کی بینکاک ایشین سیکیورٹی فورم میں سائیڈ لائن ملاقات ہوئی۔ ایس جے شنکر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح امریکی ہم منصب سے واضح طور پر کہہ چکا ہوں کہ کشمیر پر کوئی بھی بات صرف پاکستان سے دوطرفہ طور پر ہو گی۔
آئی این پی کے مطابق نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ کہ وہ افغانستان سے جتنی جلد ہو سکے نکلنا چاہتے ہیں اور امریکا کو اس جیسی احمقانہ جنگ کا آیندہ کبھی بھی حصہ نہیں ہونا چاہیے، امید ہے کہ ایسا معاہدہ سامنے آئے گا جس سے جنگ زدہ ملک سے امریکی فوجیوں کا انخلا ممکن ہو سکے گا۔
بھارت کا یہ کہنا کہ ثالثی کے معاملہ کے تناظر میں بات چیت صرف پاکستان سے ہو گی جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا سمیت کشمیر ایشو پر بھارت کسی اور فیق کو کشمیر مسئلہ میں شریک کرنے پر راضی نہیں ہو گا جب کہ میڈیا میں یہ خبر بھی آئی ہے کہ اب سیاسی ذرائع نے دو نہیں بلکہ سہ فریقی مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے ہفتہ کو اخباری رپورٹرز کو بتایا کہ گورنر ستیا پال ملک نے یقین دلایا ہے کہ وادی میں کوئی آئینی تبدیلی زیر عمل نہیں لائی جا رہی ، آرٹیکل370 اور35 A کی مسنسوخی کا کوئی اقدام بھی نہیں ہو گا، عمر عبداللہ کے مطابق گورنر نے بتایا کہ آئین سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی ہو گی، تاہم جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ مرکزی حکومت سے اس بات کی ضمانت اور بیان کے منتظر ہونگے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو اس ضمن میں فوری یقین دہانی کرنی چاہیے، انھوں نے اپنے سیاسی رفقا پر بھی زور دیا کہ وہ پارلیمان میں قرداد پیش کریں جس میں حکومت سے یقین دہانی حاصل کی جائے کہ بھارت در پردہ آئینی شقوں میں تبدیلی یا آئینی تحدید کی کوئی کوشش نہیں کریگا ۔ لیکن میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت نے وادی کی ڈیموگرافک تبدیلی کے لیے لیے بے رحمانہ ماسٹر پلان تیار کیا ہے جس کے تحت وادی میں مزید 10 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا عمل جاری ہے۔
سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی آیندہ الیکشن سے قبل وادی کے پورے انتخابی محل وقوع کو تبدیل کرنے کے در پے ہو گی تا کہ جموں وکشمیر میں الیکشن سے پہلے آبادی میں ایسا تغیر و تبدل لایا جائے جس کا انتخابی اثر ہر احلقہ انتخاب پر پڑے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق ثالثی کی تجویز کو سبوتاژ کرنے کے لیے مودی سرکار وادی کو خون کے تالاب میں ڈبونے کا تہیہ کر چکی ہے۔
بھارت نے کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کے حوالہ سے بھی شعوری بد نیتی کا ثبوت دیا ہے، سفارتی ذرائع کے مطابق جمعہ کو قونصلر رسائی کا دن متعین تھا ، پاکستانی حکام انتظار کرتے رہے تاہم بھارت نے یہ موقع گنوا دیا جس کا سبب بھارتی اصرار اور ہٹ دھرمی تھی کہ کلبھوشن تک رسائی یا قونصلر بات چیت تنہائی میں ہو اور اس میں کسی قسم کی روک ٹوک نہ ہو، جس سے پاکستان نے بوجوہ معذرت کی، البتہ بھارت نے یہ عجیب شرط رکھی کہ رسائی عالمی انصاف عدالت کے فیصلہ کی روشنی میں ہونی چاہیے، جب کہ پاکستان نے اسی عدالتی فیصلی کی روح کے مطابق قونصلر رسائی کے فیصلہ سے بھارت کے ہائی کمشنر کو آگاہ کیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت داخلی انتشار کے باعث اور عالمی دباؤ کے بڑھتے ہوئے سیناریو سے ذہنی دیوالیہ پن میں مبتلا ہو گیا ہے، جس کا ایک مظہر اس بھارتی حکم سے ملتا ہے جس میں وادی سے تمام سیاحوں کو نکل جانے کا حکم ملا ہے، اندرون خانہ بھارتی معیشت ایک نئے بحران کے دہانے تک پہنچ چکی ہے، اس کے اپنے معاشی ماہرین اس پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں، امرناتھ یاترا کے بعد ایک اور یاترا کو بھی ملتوی کیا گیا ہے، سیکیورٹی حکام نے اس کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ بھارتی حکومت جموں و کشمیر کی صورتحال کو اپنی عاقبت نااندیشی سے تباہ کرنے کا کوئی موقع ضایع نہیں کرنا چاہتی مگر اس سے خبردار رہنے کی اس لیے ضرورت ہے کہ مودی کے پاس وقت کم اور اس کا مقابلہ ایک ایسے ہمسایہ ملک پاکستان سے ہے جسے بھارت کے سیاسی، عسکری اور تزویراتی ارادوں کی مکمل خبر بھی ہے اور اس کی ہر تدبیر کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے معاملے پر اپنی ثالثی کی پیشکش پر قائم ہیں، ان کے خیال میں عمران خان اور مودی مسائل حل کر سکتے ہیں اور دونوں کی آپس میں اچھی بات چیت ہو گی البتہ دونوں رہنما اگر چاہیں تو ان کے درمیان مسئلہ حل کرنے کے لیے مدد کی جائے تو میں ثالثی کا کردار ادا ضرور کرنا چاہوں گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ بھارت نے اب تک مسئلہ کشمیر حل کرنے کی پیشکش قبول نہیں کی ہے، یہ مودی پر منحصر ہے جب کہ میں اس حوالے سے پاکستان سے بات کر چکا ہوں، دوسری جانب بھارت نے امریکی صدر کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو ایک بار پھر مسترد کر دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کشمیر مسئلہ کے حل کے لیے اگرچہ ثالثی کی دوبارہ پیشکش کی گئی ہے تاہم بھارت کا کہنا ہے کہ بات چیت پاکستان سے ہوگی، ٹرمپ کی دوبارہ ثالثی کی پیشکش بھارت نے نہ صرف مسترد کر دی بلکہ میڈیا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کا رویہ مقبوضہ وادی کی داخلی صورتحال کو ابتر بنانے کے لیے مزید جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔
ان ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں حالات کا رخ بگاڑنے کے لیے بھارتی سیکیورٹی فورسز لائن آف کنٹرول سمیت وادی کے مختف علاقوں میں اندھا دھند حملے کر رہی ہیں جب کہ مارٹر توپوں سے حملوں اور شہری آبادیوں میں خوف وہراس پھیلانے کی نئی لہر دوڑائی جا رہی ہے۔
دریں اثنا آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج مقبوضہ جموں وکشمیر وادی میں کلسٹربم استعمال کر رہی ہے جس کا جنیوا اور دیگر مہلک ہتھیاروں کے قوانین کے تحت استعمال قطعی ممنوع ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ممنوعہ جنگی ہتھیاروں کے بہیمانہ استعمال سے صورحال تیزی کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے، پاک فوج نے بھارت کو منہ توڑ جوب دینے کی مکمل تیاری کر لی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج سخت فرسٹریشن کا شکار ہے، اس کی بوکھلاہٹ کا معصوم بچے، خواتین اور شہری نشانہ بن رہے ہیں، ادھر مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت دانستہ وادی میں جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے ، اسے ثالثی کی امریکی تیجویز کا سفارتی سطح پر سنجیدہ جواب دینا چاہیے تاہم وہ ممنوعہ اسلحہ اور مارٹر توپوں سے معصوم کشمیریوں کی زندگی سے کھیل رہا ہے، گزشتہ دنوں نیلم وادی میں ایک شخص یعقوب حملے میں جاں بحق ہوا جب کہ 8 افراد شدید زخمی ہوئے، بچوں کی ہلاکت اور زخمیوں کی اطلاعات دیگر علاقوں سے بھی ملی ہیں۔ سفارتی محاذ پر بھارت کا معاندانہ رویہ بدستور جاری ہے ۔
ترجمان بھارتی وزارت خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے بیان میں کہا کہ انھوں نے امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کو بتایا ہے کہ کشمیر کے متنازع معاملے پر کوئی بھی بات چیت صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان ہو گی۔ دونوں رہنماؤں کی بینکاک ایشین سیکیورٹی فورم میں سائیڈ لائن ملاقات ہوئی۔ ایس جے شنکر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح امریکی ہم منصب سے واضح طور پر کہہ چکا ہوں کہ کشمیر پر کوئی بھی بات صرف پاکستان سے دوطرفہ طور پر ہو گی۔
آئی این پی کے مطابق نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ کہ وہ افغانستان سے جتنی جلد ہو سکے نکلنا چاہتے ہیں اور امریکا کو اس جیسی احمقانہ جنگ کا آیندہ کبھی بھی حصہ نہیں ہونا چاہیے، امید ہے کہ ایسا معاہدہ سامنے آئے گا جس سے جنگ زدہ ملک سے امریکی فوجیوں کا انخلا ممکن ہو سکے گا۔
بھارت کا یہ کہنا کہ ثالثی کے معاملہ کے تناظر میں بات چیت صرف پاکستان سے ہو گی جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا سمیت کشمیر ایشو پر بھارت کسی اور فیق کو کشمیر مسئلہ میں شریک کرنے پر راضی نہیں ہو گا جب کہ میڈیا میں یہ خبر بھی آئی ہے کہ اب سیاسی ذرائع نے دو نہیں بلکہ سہ فریقی مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے ہفتہ کو اخباری رپورٹرز کو بتایا کہ گورنر ستیا پال ملک نے یقین دلایا ہے کہ وادی میں کوئی آئینی تبدیلی زیر عمل نہیں لائی جا رہی ، آرٹیکل370 اور35 A کی مسنسوخی کا کوئی اقدام بھی نہیں ہو گا، عمر عبداللہ کے مطابق گورنر نے بتایا کہ آئین سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی ہو گی، تاہم جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ مرکزی حکومت سے اس بات کی ضمانت اور بیان کے منتظر ہونگے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو اس ضمن میں فوری یقین دہانی کرنی چاہیے، انھوں نے اپنے سیاسی رفقا پر بھی زور دیا کہ وہ پارلیمان میں قرداد پیش کریں جس میں حکومت سے یقین دہانی حاصل کی جائے کہ بھارت در پردہ آئینی شقوں میں تبدیلی یا آئینی تحدید کی کوئی کوشش نہیں کریگا ۔ لیکن میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت نے وادی کی ڈیموگرافک تبدیلی کے لیے لیے بے رحمانہ ماسٹر پلان تیار کیا ہے جس کے تحت وادی میں مزید 10 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا عمل جاری ہے۔
سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی آیندہ الیکشن سے قبل وادی کے پورے انتخابی محل وقوع کو تبدیل کرنے کے در پے ہو گی تا کہ جموں وکشمیر میں الیکشن سے پہلے آبادی میں ایسا تغیر و تبدل لایا جائے جس کا انتخابی اثر ہر احلقہ انتخاب پر پڑے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق ثالثی کی تجویز کو سبوتاژ کرنے کے لیے مودی سرکار وادی کو خون کے تالاب میں ڈبونے کا تہیہ کر چکی ہے۔
بھارت نے کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کے حوالہ سے بھی شعوری بد نیتی کا ثبوت دیا ہے، سفارتی ذرائع کے مطابق جمعہ کو قونصلر رسائی کا دن متعین تھا ، پاکستانی حکام انتظار کرتے رہے تاہم بھارت نے یہ موقع گنوا دیا جس کا سبب بھارتی اصرار اور ہٹ دھرمی تھی کہ کلبھوشن تک رسائی یا قونصلر بات چیت تنہائی میں ہو اور اس میں کسی قسم کی روک ٹوک نہ ہو، جس سے پاکستان نے بوجوہ معذرت کی، البتہ بھارت نے یہ عجیب شرط رکھی کہ رسائی عالمی انصاف عدالت کے فیصلہ کی روشنی میں ہونی چاہیے، جب کہ پاکستان نے اسی عدالتی فیصلی کی روح کے مطابق قونصلر رسائی کے فیصلہ سے بھارت کے ہائی کمشنر کو آگاہ کیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت داخلی انتشار کے باعث اور عالمی دباؤ کے بڑھتے ہوئے سیناریو سے ذہنی دیوالیہ پن میں مبتلا ہو گیا ہے، جس کا ایک مظہر اس بھارتی حکم سے ملتا ہے جس میں وادی سے تمام سیاحوں کو نکل جانے کا حکم ملا ہے، اندرون خانہ بھارتی معیشت ایک نئے بحران کے دہانے تک پہنچ چکی ہے، اس کے اپنے معاشی ماہرین اس پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں، امرناتھ یاترا کے بعد ایک اور یاترا کو بھی ملتوی کیا گیا ہے، سیکیورٹی حکام نے اس کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ بھارتی حکومت جموں و کشمیر کی صورتحال کو اپنی عاقبت نااندیشی سے تباہ کرنے کا کوئی موقع ضایع نہیں کرنا چاہتی مگر اس سے خبردار رہنے کی اس لیے ضرورت ہے کہ مودی کے پاس وقت کم اور اس کا مقابلہ ایک ایسے ہمسایہ ملک پاکستان سے ہے جسے بھارت کے سیاسی، عسکری اور تزویراتی ارادوں کی مکمل خبر بھی ہے اور اس کی ہر تدبیر کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔