عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ
جاپان میں 5 ہزار سے زائد لوگوں کو لُو لگنے سے اسپتال جانا پڑا
جاپان میں 5 ہزار سے زائد لوگوں کو لُو لگنے سے اسپتال جانا پڑا
یورپی یونین کے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے ماہرین کے مطابق جولائی 2019ء کے پہلے 29 دنوں میں دنیا کے کئی ملکوں میں گرمی کی لہر آئی ہوئی تھی جو 2016ء میں آنے والی گرمی کی لہر سے شدت میں زیادہ تھی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ہماری زمین کی حدت میں مزید اضافہ کی ایک نشانی ہے جس کی پہلے سے کوئی مثال موجود نہیں۔
یہ نئی معلومات مصنوعی سیاروں اور زمین پر موجود مراکز سے اکٹھی کی گئی ہیں۔ یہ اعداد و شمار کوپرنیکس کلائمیٹ سروس کی چالیس سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ ہیں۔ اس ادارے کے جون کے لیے اعداد و شمار کی عالمی سطح پر تصدیق ہو چکی ہے۔ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الحال وہ درجہ حرارت میں اس اضافے کو براہ راست آب و ہوا میں تبدیلی سے نہیں جوڑ سکتے تاہم سائنس دان یہ سمجھتے ہیں کہ انسانی سرگرمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی وجہ سے مجموعی طور پر حدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کوپر نیکس کے ڈاکٹر فریجا ویمبورگ کے مطابق یہ مہینہ بہت گرم تھا مگر میرے نزدیک یہ بڑی بات نہیں ہے بلکہ زیادہ اہم یہ ہے کہ نہ صرف یہ مہینہ بلکہ اس سے پہلے والا مہینہ بھی کافی گرم تھا۔اس حساب سے دیکھا جائے تو سن 2019ء کے تمام مہینے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ گرم رہے ہیں اور جب تک ہم گرین ہاؤس گیسوں میں کمی لانے کے لیے کچھ کریں گے نہیں تب تک گرم سے گرم تر کا رجحان یونہی جاری رہے گا۔
ویسے تو جولائی کا مہینہ ہمیشہ ہی گرم ہوتا ہے مگر اس مرتبہ یورپ، امریکا اور ارکٹک میں غیر معمولی گرمی کی لہر آئی ہوئی تھی۔ بلجیئم، نیدر لینڈز اور جرمنی میں گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے اور کئی جگہ پر پارہ 40 درجہ سینٹی گریڈ کو چھونے لگا جب کہ ایشیا اور افریقا میں یہ پارہ 50 ڈگری تک پہنچ گیا بلکہ مزید تجاوز کرگیا۔
برطانیہ میں بھی کیمبرج یونیورسٹی کے نباتاتی باغیچے میں 38.7 ڈگری سینٹی گریڈ کا نیا ریکارڈ قائم ہوا۔ امریکا کے کئی شہروں میں بھی گرمی کے پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔آرکٹک کے خطے میں کئی جنگلوں میں آگ بھڑک اٹھی جس میں روس کا کچھ حصہ بھی شامل ہے حالانکہ وہاں سارا سال ہی برف جمی رہتی ہے۔بھارت میں شدید گرمی اور پانی کی کمی ساتھ ساتھ آئے۔
جاپان میں 5 ہزار سے زائد لوگوں کو لُو لگنے سے اسپتال جانا پڑا۔کرسچن ایڈ کی ڈائریکٹر کیتھرین کریمر کہتی ہیں کہ اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج یونہی جاری رہا تو گرمی بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ امریکی ادارے نیشنل اوشیانک کے 1380 سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2016 سب سے زیادہ گرم سال تھا۔ادارے کا کہنا ہے کہ ان 136 برس کے دوران آنے والے گرم ترین برسوں میں سے 9 برس اکیسویں صدی میں آئے جب کہ صرف ایک سال 1998یعنی 20 ویں صدی میں گزرا۔
یہ نئی معلومات مصنوعی سیاروں اور زمین پر موجود مراکز سے اکٹھی کی گئی ہیں۔ یہ اعداد و شمار کوپرنیکس کلائمیٹ سروس کی چالیس سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ ہیں۔ اس ادارے کے جون کے لیے اعداد و شمار کی عالمی سطح پر تصدیق ہو چکی ہے۔ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الحال وہ درجہ حرارت میں اس اضافے کو براہ راست آب و ہوا میں تبدیلی سے نہیں جوڑ سکتے تاہم سائنس دان یہ سمجھتے ہیں کہ انسانی سرگرمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی وجہ سے مجموعی طور پر حدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کوپر نیکس کے ڈاکٹر فریجا ویمبورگ کے مطابق یہ مہینہ بہت گرم تھا مگر میرے نزدیک یہ بڑی بات نہیں ہے بلکہ زیادہ اہم یہ ہے کہ نہ صرف یہ مہینہ بلکہ اس سے پہلے والا مہینہ بھی کافی گرم تھا۔اس حساب سے دیکھا جائے تو سن 2019ء کے تمام مہینے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ گرم رہے ہیں اور جب تک ہم گرین ہاؤس گیسوں میں کمی لانے کے لیے کچھ کریں گے نہیں تب تک گرم سے گرم تر کا رجحان یونہی جاری رہے گا۔
ویسے تو جولائی کا مہینہ ہمیشہ ہی گرم ہوتا ہے مگر اس مرتبہ یورپ، امریکا اور ارکٹک میں غیر معمولی گرمی کی لہر آئی ہوئی تھی۔ بلجیئم، نیدر لینڈز اور جرمنی میں گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے اور کئی جگہ پر پارہ 40 درجہ سینٹی گریڈ کو چھونے لگا جب کہ ایشیا اور افریقا میں یہ پارہ 50 ڈگری تک پہنچ گیا بلکہ مزید تجاوز کرگیا۔
برطانیہ میں بھی کیمبرج یونیورسٹی کے نباتاتی باغیچے میں 38.7 ڈگری سینٹی گریڈ کا نیا ریکارڈ قائم ہوا۔ امریکا کے کئی شہروں میں بھی گرمی کے پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔آرکٹک کے خطے میں کئی جنگلوں میں آگ بھڑک اٹھی جس میں روس کا کچھ حصہ بھی شامل ہے حالانکہ وہاں سارا سال ہی برف جمی رہتی ہے۔بھارت میں شدید گرمی اور پانی کی کمی ساتھ ساتھ آئے۔
جاپان میں 5 ہزار سے زائد لوگوں کو لُو لگنے سے اسپتال جانا پڑا۔کرسچن ایڈ کی ڈائریکٹر کیتھرین کریمر کہتی ہیں کہ اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج یونہی جاری رہا تو گرمی بھی بڑھتی چلی جائے گی۔ امریکی ادارے نیشنل اوشیانک کے 1380 سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2016 سب سے زیادہ گرم سال تھا۔ادارے کا کہنا ہے کہ ان 136 برس کے دوران آنے والے گرم ترین برسوں میں سے 9 برس اکیسویں صدی میں آئے جب کہ صرف ایک سال 1998یعنی 20 ویں صدی میں گزرا۔