کراچی کے کئی علاقوں میں برساتی پانی جمع گلیاں تالاب میں تبدیل

لیاری،گلشن معمار،اسکیم 33،گلزار ہجری اوردیگر علاقوں کی سڑکوں،میدانوں اورگلیوں میں پانی جمع ہے

لیاری،گلشن معمار،اسکیم 33،گلزار ہجری اوردیگر علاقوں کی سڑکوں،میدانوں اورگلیوں میں پانی جمع ہے

کراچی کے نشیبی علاقوں میں جمع برساتی پانی کی نکاسی کا کام چار روز بعد بھی شروع نہیں کیا جاسکا برساتی پانی کے ساتھ گٹر کا پانی گھروں میں داخل ہونے کے سبب علاقہ مکین تقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے گلی و محلوں میں جمع بارش کے پانی نے علاقہ مکینوں کو گھروں میں محصور کردیا متاثرین نے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں 4 روز قبل ہونے والی بارش کا پانی شہر کے نشیبی علاقوں میں تاحال موجود ہے، کراچی کے علاقے سرجانی ٹاون کے متعدد علاقے جن میں سیکٹر فور بی، یوسف گوٹھ، اللہ والی، رحیم گوٹھ سمیت گلشن معمار سے متصل آبادیوں جن میں احسن آباد سیکٹر ون، اللہ بخش گوٹھ، وزیر گوٹھ سمیت دیگر علاقوں میں بارش کے پانی کی نکاسی کے انتظامت نہ ہونے سے گلی محلوں میں گھٹنوں اور کہیں کمر تک پانی جمع ہوگیا ہے جس کے باعث علاقہ مکین گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

سیوریج کے ناقص انتظامات کے باعث کئی گھروں میںبرساتی پانی ابلتے ہوئے گٹروں کے آلودہ پانی کے ساتھ گھروں میں داخل ہوگیا جس کی وجہ سے علاقہ مکینوں کی معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے،سرجانی ٹاؤن سیکٹر فور بی کے گلی محلوں میں جمع پانی کے باعث ایمرجنسی صورتحال میں ایمبولینس کا علاقے میں آنا بھی مشکل ہوگیا،جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، کیچڑ اور ابلتے ہوئے گٹر کی وجہ سے آب و ہوا شدید تعفن زدہ ہے جس میں شہریوںکا سانس لینا دشوار ہوگیا، 15 روز سے علاقے میں پینے کے پانی کی بندش نے علاقہ مکینوں کو دوہرے عذاب میں مبتلا کردیا ہے،گلشن معمار سے متصل آبادی احسن آباد میں بھی برساتی پانی کی نکاسی نہ ہونے کے باعث برساتی پانی گھروں میں داخل ہوگیا ہے،علاقہ مکینوں کا عبادت گاہوں اور بچوں کا تعلیمی اداروں تک جانا مشکل ہوگیا ہے، کئی علاقہ مکین اپنی رہائش گاہ چھوڑ کر عزیز و اقارب و رشتے داروںکے گھر منتقل ہوگئے،کئی تقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے۔


علاقوں میں جمع پانی سے کیڑے مکوڑوں اور مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہوگیاجس کی وجہ سے بیماریاں پھیلنے کا بھی خدشہ ہے، سرجانی ٹاؤن کے علاقہ مکینوں کا ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بارش کے پانی کی نکاسی کے انتظامات نہ ہونے کے باعث سیوریج کا نظام بھی بری طرح متاثر ہے،15دن سے علاقے میں پانی کی بندش کا سامنا ہے، پینے کے لیے پانی پیسوں سے خریدنا پڑرہاہے،پانی کی لائنوں میںگٹرکا پانی آرہا ہے جس سے بچے بیمار پڑ رہے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں سالوں سے برساتی پانی کی نکاسی کے انتظامات نہیں ہیں ،ہر سال بارش کے بعد یہی صورتحال ہوتی ہے جبکہ پانی، بجلی اور گیس کے بھی مسائل کا سامنا ہے، ہماری پریشانی کوئی سننے والا نہیں،سندھ حکومت ہو یا پی ٹی آئی حکومت ہمارے مسائل حل کرنے میں دونوں ناکام ہیں۔

سیاسی جمعتیں صرف ووٹ لینے سامنے آتے ہیں پھر غائب ہوجاتے ہیں،بارش ہونے کے بعد چار روز گزر گئے ہیں لیکن انتظامیہ اور حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئی، بنیادی سہولت سے محروم ہیں اورکوئی پرسان حال نہیں ،اپنی مدد آپ کے تحت مسائل حل کرتے ہیں، بچے اسکول نہیں جاسکتے،مرد حضرات دفتر نہیں جا پا رہے،گندے پانی سے گزر کر جانا پڑرہا ہے، کچھ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ نماز پڑھنے کے لیے مسجد تک جانا بھی ممکن نہیں، کوئی ایمرجنسی ہوجائے تو ایمبولینس علاقے میں نہیں آتی اور خود لے جانے کے لیے بھی کئی مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔

احسن آباد کے علاقہ مکینوں کا ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بڑی عید بھی قریب آرہی ہے جس کی تیاریاں کرنے سے قاصر ہیں،قربانی کے جانور علاقے میںکھڑے کرنے کے لیے جگہ موجود نہیں،علاقہ مکینوں کا متعلقہ افسران سمیت حکومت وقت سے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بلدیاتی افسران و ذمے داران ہمارے مسائل جلد از جلد حل کریں،عید کی تیاریاں کرسکیں اورقربانی کا فریضہ انجام دے سکیں۔
Load Next Story