ہر جرم کی ایف آئی آر درج کی جائے ہائیکورٹ کا حکم
عدالت سے رجوع کرنے کے بعدپولیس نے چھاپے سے متعلق ایف آئی آردرج کی،خاتون.
عدالت سے رجوع کرنے کے بعدپولیس نے چھاپے سے متعلق ایف آئی آردرج کی،خاتونفوٹو: ایکسپریس
KARACHI:
ہائیکورٹ نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر پولیس اسٹیشن میں شہریوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے ہر جرم کے اندراج کو یقینی بنائیں ،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم اور جسٹس فاروق شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ ہدایت مسمات وقال بی بی کی آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کی،درخواست گزار کے مطابق 24اگست کو سی آئی ڈی پولیس نے فرنٹیئر کالونی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا ، پولیس اہلکار اسکے شوہر اور بیٹے کے بارے میں استفسار کررہے تھے جوگھر پر موجود نہیں تھے ، تاہم پولیس اہلکار سوات سے آئے ہوئے اس کے داماد محمد طاہر خان کو اپنے ساتھ لے گئے ،
درخواست گزار نے اس واقعے کی ایف آئی آر سائٹ پولیس اسٹیشن میں درج کرانے کی درخواست دی لیکن پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا، تاہم بدھ کو بینچ کو بتایا گیاکہ درخواست دائر ہونے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے،فاضل بینچ نے آبزرو کیا کہ امن وامان کی صورتحال کی تباہی کی وجوہات میں پولیس کی جانب سے ہر جرم کا اندراج نہ کرنا ہے اور غیر رسمی طور پر رپورٹ لکھ لی جاتی ہے ، عدالت عالیہ نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی وہ ہر پولیس اسٹیشن میں شہریوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے جرم کے اندراج کو یقینی بنائیں اور رپورٹ آئندہ سماعت 13ستمبر کو پیش کریں ،
اسی بینچ نے کراچی سینٹرل جیل سے رہائی کے بعد غائب ہونے والے شہری کے کوائف جاننے کے متعلق درخواست پر مدعا علیہان کو 13ستمبر کیلیے نوٹس جاری کردیے ،درخواست گزار حسن داد کے مطابق بیٹے نصیب داد کے خلاف پولیس نے دو مقدمات درج کیے تھے جیل سے باہر نکلتے ہی 15/16 افراد اسے دوبارہ اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔
ہائیکورٹ نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر پولیس اسٹیشن میں شہریوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے ہر جرم کے اندراج کو یقینی بنائیں ،چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم اور جسٹس فاروق شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ ہدایت مسمات وقال بی بی کی آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کی،درخواست گزار کے مطابق 24اگست کو سی آئی ڈی پولیس نے فرنٹیئر کالونی میں واقع ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا ، پولیس اہلکار اسکے شوہر اور بیٹے کے بارے میں استفسار کررہے تھے جوگھر پر موجود نہیں تھے ، تاہم پولیس اہلکار سوات سے آئے ہوئے اس کے داماد محمد طاہر خان کو اپنے ساتھ لے گئے ،
درخواست گزار نے اس واقعے کی ایف آئی آر سائٹ پولیس اسٹیشن میں درج کرانے کی درخواست دی لیکن پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا، تاہم بدھ کو بینچ کو بتایا گیاکہ درخواست دائر ہونے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے،فاضل بینچ نے آبزرو کیا کہ امن وامان کی صورتحال کی تباہی کی وجوہات میں پولیس کی جانب سے ہر جرم کا اندراج نہ کرنا ہے اور غیر رسمی طور پر رپورٹ لکھ لی جاتی ہے ، عدالت عالیہ نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی وہ ہر پولیس اسٹیشن میں شہریوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے جرم کے اندراج کو یقینی بنائیں اور رپورٹ آئندہ سماعت 13ستمبر کو پیش کریں ،
اسی بینچ نے کراچی سینٹرل جیل سے رہائی کے بعد غائب ہونے والے شہری کے کوائف جاننے کے متعلق درخواست پر مدعا علیہان کو 13ستمبر کیلیے نوٹس جاری کردیے ،درخواست گزار حسن داد کے مطابق بیٹے نصیب داد کے خلاف پولیس نے دو مقدمات درج کیے تھے جیل سے باہر نکلتے ہی 15/16 افراد اسے دوبارہ اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔