زرداری کو بیرون ملک جانے سے روکنے کی درخواست چیف جسٹس کو ارسال
میرا موکل 3 ماہ سے زیرحراست ہے،ضمانت پررہائی ان کاحق ہے،بگٹی قتل کیس میں سابق صدر کے وکیل کے دلائل
میرا موکل 3 ماہ سے زیرحراست ہے،ضمانت پررہائی ان کاحق ہے،بگٹی قتل کیس میں سابق صدر کے وکیل کے دلائل. فوٹو: فائل
GENEVA:
سپریم کورٹ نے نواب اکبر خان بگٹی قتل کیس میں سابق صدر جنرل(ر) پرویزمشرف کی ضمانت کی درخواست پرایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کونوٹس جاری کردیا۔
عدالت نے15دن کے اندر ایڈووکیٹ جنرل سے موقف مانگا ہے جبکہ وفاقی حکومت سے بھی جواب طلب کیا گیا ہے۔بدھ کو سابق صدرکی جانب سے دائرضمانت کی درخواست پرجسٹس ناصرالملک اورجسٹس گلزار احمد پرمشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی۔درخواست گزارکے وکیل ابراہیم ستی نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ نے اس بنیاد پرضمانت کی درخواست خارج کی تھی کہ ان کے موکل گرفتار نہیں ہوئے تھے جبکہ ہائیکورٹ کا موقف تھا کہ ملزم کوئٹہ منتقل نہیں ہوئے اس لیے ضمانت نہیں دی جا سکتی۔فاضل وکیل نے بتایا اب جبکہ ان کے موکل 3 مہینے سے زیرحراست ہیں اس لیے ضمانت پر رہائی ان کا قانونی حق ہے۔جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ اس معاملے پر ایڈووکیٹ جنرل کا موقف سننے کے بعد فیصلہ دیا جا سکے گا۔
جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سابق صدر آصف علی زرداری کو بیرون ملک جانے سے روکنے کیلیے دائر درخواست کا معاملہ بینچ کے از سر نو تشکیل کیلیے چیف جسٹس کو بھیج دیا ہے۔ شاہد اورکزئی کی درخواست پرعدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے بینچ کی تشکیل کا نکتہ اٹھایا ہے، بینچ کی تشکیل چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار ہے اس لیے یہ معاملہ واپس چیف جسٹس کو بھیجنا پڑے گا۔دریں اثنا لاہور پولیس نے لاپتہ مدثر اقبال کے بارے میں رپورٹ فاضل بنچ میں جمع کرا دی ہے، رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ مدثر اقبال خود سے کہیں غائب ہے، یہ جبری اغواکا کیس نہیں ہے ۔عدالت نے پولیس کی رپورٹ پر ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعودجنجوعہ سے جواب طلب کرلیا ہے۔
ملتان سے لاپتہ محمد زبیر اورکراچی سے لاپتہ سعید احمد کے معاملے پر بھی سماعت 2ہفتے کیلیے ملتوی کی گئی۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے عاشق حسین نامی شخص کا بیان حلفی جمع کرایا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنی حراست کے دوران محمد زبیر، محمد غوری اور سعید احمدکو اسلام آبادکی حدود میں واقع آئی ایس آئی کے حراستی مرکز میں دیکھا تھا۔آمنہ مسعود نے درخواست کی کہ سعید احمدکا معاملہ بھی زبیرکے مقدمے کے ساتھ سنا جائے۔آن لائن کے مطابق لاپتہ خیر الرحمان کیس میں عدالت نے آئی جی خیبرپختونخوا سے2 ہفتوں میں ر پورٹ طلب کرتے ہوئے ان کی بازیابی کا حکم دیا ہے۔2 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ لاپتہ افراد کا معاملہ کب تک عدالتوں میں لیکر بیٹھیں رہیں گے اب یہ معاملات حل ہونے چاہئیں۔ عدالت نے کہا لاپتہ خیر الرحمان کی بازیابی تک کیس نہیں نمٹا سکتے۔
سپریم کورٹ نے نواب اکبر خان بگٹی قتل کیس میں سابق صدر جنرل(ر) پرویزمشرف کی ضمانت کی درخواست پرایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کونوٹس جاری کردیا۔
عدالت نے15دن کے اندر ایڈووکیٹ جنرل سے موقف مانگا ہے جبکہ وفاقی حکومت سے بھی جواب طلب کیا گیا ہے۔بدھ کو سابق صدرکی جانب سے دائرضمانت کی درخواست پرجسٹس ناصرالملک اورجسٹس گلزار احمد پرمشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی۔درخواست گزارکے وکیل ابراہیم ستی نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کوئٹہ نے اس بنیاد پرضمانت کی درخواست خارج کی تھی کہ ان کے موکل گرفتار نہیں ہوئے تھے جبکہ ہائیکورٹ کا موقف تھا کہ ملزم کوئٹہ منتقل نہیں ہوئے اس لیے ضمانت نہیں دی جا سکتی۔فاضل وکیل نے بتایا اب جبکہ ان کے موکل 3 مہینے سے زیرحراست ہیں اس لیے ضمانت پر رہائی ان کا قانونی حق ہے۔جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ اس معاملے پر ایڈووکیٹ جنرل کا موقف سننے کے بعد فیصلہ دیا جا سکے گا۔
جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سابق صدر آصف علی زرداری کو بیرون ملک جانے سے روکنے کیلیے دائر درخواست کا معاملہ بینچ کے از سر نو تشکیل کیلیے چیف جسٹس کو بھیج دیا ہے۔ شاہد اورکزئی کی درخواست پرعدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے بینچ کی تشکیل کا نکتہ اٹھایا ہے، بینچ کی تشکیل چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار ہے اس لیے یہ معاملہ واپس چیف جسٹس کو بھیجنا پڑے گا۔دریں اثنا لاہور پولیس نے لاپتہ مدثر اقبال کے بارے میں رپورٹ فاضل بنچ میں جمع کرا دی ہے، رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ مدثر اقبال خود سے کہیں غائب ہے، یہ جبری اغواکا کیس نہیں ہے ۔عدالت نے پولیس کی رپورٹ پر ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعودجنجوعہ سے جواب طلب کرلیا ہے۔
ملتان سے لاپتہ محمد زبیر اورکراچی سے لاپتہ سعید احمد کے معاملے پر بھی سماعت 2ہفتے کیلیے ملتوی کی گئی۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے عاشق حسین نامی شخص کا بیان حلفی جمع کرایا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنی حراست کے دوران محمد زبیر، محمد غوری اور سعید احمدکو اسلام آبادکی حدود میں واقع آئی ایس آئی کے حراستی مرکز میں دیکھا تھا۔آمنہ مسعود نے درخواست کی کہ سعید احمدکا معاملہ بھی زبیرکے مقدمے کے ساتھ سنا جائے۔آن لائن کے مطابق لاپتہ خیر الرحمان کیس میں عدالت نے آئی جی خیبرپختونخوا سے2 ہفتوں میں ر پورٹ طلب کرتے ہوئے ان کی بازیابی کا حکم دیا ہے۔2 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ لاپتہ افراد کا معاملہ کب تک عدالتوں میں لیکر بیٹھیں رہیں گے اب یہ معاملات حل ہونے چاہئیں۔ عدالت نے کہا لاپتہ خیر الرحمان کی بازیابی تک کیس نہیں نمٹا سکتے۔