بڑے پیمانے پرکالج اساتذہ کے ’’ڈیٹلمنٹ‘‘پرتبادلے کردیے گئے
تبادلے ریجنل ڈائریکٹرکالجز پروفیسر رانی غنی نے ریٹائرمنٹ سے چندروزقبل کیے.
چند روز قبل اساتذہ کی ڈیٹلمنٹ اورغیرتدریسی عملے کی بھرتیوں کاسلسلہ بھی نہیں رک سکا ہے.
KARACHI:
کراچی کے سرکاری کالجوں کی کنٹرولنگ اتھارٹی ریجنل ڈائریکٹرکالجز نے اپنی ریٹائرمنٹ سے صرف چندروزقبل بڑے پیمانے پرکالج اساتذہ کے ''ڈیٹلمنٹ''پرتبادلے کردیے، یہ تبادلے ڈیٹیلمنٹ پر پابندی کے باوجود کیے جارہے ہیں جبکہ ریجنل ڈائریکٹرکالجز کراچی کی جانب سے ریٹائرمنٹ سے قبل سرکاری کالجوں میں غیرتدریسی اسامیوں پر بھرتیاں کیے جانے کاسلسلہ جاری ہے، ریجنل ڈائریکٹرکالجز کراچی پروفیسررانی غنی جمعہ31اگست کوریٹائرہورہی ہیں جس کے باعث صوبائی محکمہ تعلیم نے اس عہدے پر تقرری کیلیے کراچی کے مختلف سرکاری کالجوں کے پرنسپلز کے انٹرویوکاسلسلے بھی شروع کردیا ہے تاہم قابل ذکرامریہ ہے کہ یہ انٹرویومحکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران کے بجائے وزیرتعلیم کے ایک کوآرڈینیٹرکی جانب سے کیے جارہے ہیں اور اس سلسلے میں حکومت سندھ کی جانب سے کچھ عرصے قبل جاری کیے گئے اس نوٹیفکیشن کونظراندازکردیا گیا ہے جس میں حکومت سندھ کی جانب سے گورنمنٹ نیشنل کالج کے پرنسپل پروفیسروسیم عادل کوریجنل ڈائریکٹرکالجز کراچی مقررکیا گیاتھا۔
ذرائع کے مطابق حکومت سندھ کی جانب سے جاری کردہ یہ نوٹیفکیشن تاحال واپس نہیں لیا گیا ہے، اس کے علاوہ ڈائریکٹوریٹ کالجز میں ڈائریکٹر فنانس کے عہدے پر کام کرنے والے ڈاکٹر پرویز شیخ کو بھی ریجنل ڈائریکٹر مقرر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، صوبائی محکمہ تعلیم کے ایک افسرنے ''ایکسپریس''کوبتایاکہ کہ اب تک گورنمنٹ دہلی کالج کے پروفیسروکیل ہاشمی،جامعہ ملیہ کالج کے پروفیسرصبیح الحسن زیدی اوراسلامیہ آرٹس اینڈ کامرس کالج کے پرنسپل پروفیسرمشتاق حسین کے انٹرویوزکیے جاچکے ہیں، حکومت سندھ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پروفیسروسیم عادل کے بجائے دیگر پروفیسرزکے نام متعلقہ عہدے کے لیے زیرغورہیں، قابل ذکرامریہ ہے کہ ایک جانب اس عہدے پر تقرری کے لیے پروفیسرزکے انٹرویو کا سلسلہ جاری ہے۔
جبکہ دوسری جانب ریجنل ڈائریکٹرکالجز کی جانب سے ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل اساتذہ کی ڈیٹلمنٹ اورغیرتدریسی عملے کی بھرتیوں کاسلسلہ بھی نہیں رک سکا ہے، واضح رہے کہ اس سے قبل سابق سیکریٹری تعلیم صدیق میمن کراچی کے سرکاری کالجوں میں غیرتدریسی اسامیوں پرکی گئی خلاف ضابطہ بھرتیوں کی تحریری شکایت چیف سیکریٹری سندھ سے کرچکے تھے یہ بھرتیاں پروفیسررانی غنی کی جانب سے ہی کی گئی تھیں جس کے بعد حکومت سندھ کی جانب سے گورنمنٹ نیشنل کالج کے پرنسپل پروفیسروسیم عادل کورانی غنی کی جگہ ریجنل ڈائریکٹر کالجز مقررکیا گیاتھا تاہم جب پروفیسروسیم عادل چارج لینے ریجنل ڈائریکٹوریٹ کالجز پہنچے توپروفیسررانی غنی سے انھیں چارج دینے سے انکارکرتے ہوئے معاملے پر عدالت سے رجوع کرلیا تھا۔
کراچی کے سرکاری کالجوں کی کنٹرولنگ اتھارٹی ریجنل ڈائریکٹرکالجز نے اپنی ریٹائرمنٹ سے صرف چندروزقبل بڑے پیمانے پرکالج اساتذہ کے ''ڈیٹلمنٹ''پرتبادلے کردیے، یہ تبادلے ڈیٹیلمنٹ پر پابندی کے باوجود کیے جارہے ہیں جبکہ ریجنل ڈائریکٹرکالجز کراچی کی جانب سے ریٹائرمنٹ سے قبل سرکاری کالجوں میں غیرتدریسی اسامیوں پر بھرتیاں کیے جانے کاسلسلہ جاری ہے، ریجنل ڈائریکٹرکالجز کراچی پروفیسررانی غنی جمعہ31اگست کوریٹائرہورہی ہیں جس کے باعث صوبائی محکمہ تعلیم نے اس عہدے پر تقرری کیلیے کراچی کے مختلف سرکاری کالجوں کے پرنسپلز کے انٹرویوکاسلسلے بھی شروع کردیا ہے تاہم قابل ذکرامریہ ہے کہ یہ انٹرویومحکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران کے بجائے وزیرتعلیم کے ایک کوآرڈینیٹرکی جانب سے کیے جارہے ہیں اور اس سلسلے میں حکومت سندھ کی جانب سے کچھ عرصے قبل جاری کیے گئے اس نوٹیفکیشن کونظراندازکردیا گیا ہے جس میں حکومت سندھ کی جانب سے گورنمنٹ نیشنل کالج کے پرنسپل پروفیسروسیم عادل کوریجنل ڈائریکٹرکالجز کراچی مقررکیا گیاتھا۔
ذرائع کے مطابق حکومت سندھ کی جانب سے جاری کردہ یہ نوٹیفکیشن تاحال واپس نہیں لیا گیا ہے، اس کے علاوہ ڈائریکٹوریٹ کالجز میں ڈائریکٹر فنانس کے عہدے پر کام کرنے والے ڈاکٹر پرویز شیخ کو بھی ریجنل ڈائریکٹر مقرر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، صوبائی محکمہ تعلیم کے ایک افسرنے ''ایکسپریس''کوبتایاکہ کہ اب تک گورنمنٹ دہلی کالج کے پروفیسروکیل ہاشمی،جامعہ ملیہ کالج کے پروفیسرصبیح الحسن زیدی اوراسلامیہ آرٹس اینڈ کامرس کالج کے پرنسپل پروفیسرمشتاق حسین کے انٹرویوزکیے جاچکے ہیں، حکومت سندھ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پروفیسروسیم عادل کے بجائے دیگر پروفیسرزکے نام متعلقہ عہدے کے لیے زیرغورہیں، قابل ذکرامریہ ہے کہ ایک جانب اس عہدے پر تقرری کے لیے پروفیسرزکے انٹرویو کا سلسلہ جاری ہے۔
جبکہ دوسری جانب ریجنل ڈائریکٹرکالجز کی جانب سے ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل اساتذہ کی ڈیٹلمنٹ اورغیرتدریسی عملے کی بھرتیوں کاسلسلہ بھی نہیں رک سکا ہے، واضح رہے کہ اس سے قبل سابق سیکریٹری تعلیم صدیق میمن کراچی کے سرکاری کالجوں میں غیرتدریسی اسامیوں پرکی گئی خلاف ضابطہ بھرتیوں کی تحریری شکایت چیف سیکریٹری سندھ سے کرچکے تھے یہ بھرتیاں پروفیسررانی غنی کی جانب سے ہی کی گئی تھیں جس کے بعد حکومت سندھ کی جانب سے گورنمنٹ نیشنل کالج کے پرنسپل پروفیسروسیم عادل کورانی غنی کی جگہ ریجنل ڈائریکٹر کالجز مقررکیا گیاتھا تاہم جب پروفیسروسیم عادل چارج لینے ریجنل ڈائریکٹوریٹ کالجز پہنچے توپروفیسررانی غنی سے انھیں چارج دینے سے انکارکرتے ہوئے معاملے پر عدالت سے رجوع کرلیا تھا۔