وفاقی حکومت بھی کراچی میں صفائی کیلیے موثر اقدامات میں ناکام
3دن گزرنے کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے شہر میں کچرا اٹھانے کیلیے کو ئی خاطر خواہ حکمت عملی سامنے نہیں آسکی۔
وفاق نے30بڑے اور1000چھو ٹے نالوں کو10دن میں صاف کرنے کا بیڑہ اٹھایا،سڑکوں سے کچرا اٹھانے کا معاملہ غائب۔ فوٹو: فائل
وفاقی حکومت بھی کراچی میں صفائی کے لیے موثر اقدامات میں ناکام ہوگئی اور وفاقی وزیر علی زیدی کی جانب سے کراچی میں صفائی مہم آغاز سے قبل ہی متنا زع بن گئی۔
کراچی میں صفائی کے حوالے سے وفاق میدان میں آئی ہے لیکن 3دن گزرنے کے با وجود اس مہم کے کوئی اثر ات شہر میں دیکھنے کو نہیں ملے، کراچی میں کچرہ اٹھانے کا نظام تقسیم ہے ، مرکزی سڑکوں کی صفائی کی ذمے داری بلد یہ عظمی کراچی کی ہے، مرکزی نالوں کی صفائی کی ذمے داری بھی کے ایم سی کی ہے جبکہ چھو ٹے اور علاقائی نالوںکی صفائی کی ذمے داری ڈی ایم سیز کی ہے ، گلیوں محلوں کی صفائی کی ذمے داری ڈی ایم سیز کی ہے۔
اس کے علاوہ شہر میں17لینڈ کنٹرول کر نے و الے ادارے ہیں اس میں6 کنٹونمنٹ بورڈ بھی ہیں اور وہ اپنی حدود میں صفائی کے انتظامات دیکھتے ہیں ، کراچی میں یومیہ 13ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے لیکن ذرائع کے مطابق 7 سے 8 ہز ار ٹن یو میہ کچرا نہیں اٹھ پاتا جس کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں کچروں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جو کچرا شہر سے اٹھتا ہے وہ بھی لینڈ فل سائٹ تک نہیں پہنچتا۔
ہزاروں ٹن کچرا بڑے بر ساتی نالو ں میں پھینک دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے بر ساتی نالے کچروں سے بھرے ہوئے جن کی صفائی کے لیے کے ایم سی کو کروڑو ں روپے دیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود شہربرساتی نالے صاف نہیں ہو سکے بارشوں میں پانی کی نکاسی میں شدید مشکلات ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے اب وفاقی حکومت شہر میں کچرا صاف کرنے کے لیے میدان میں آئی اس عمل کو شہر کے تمام حلقوں کی جانب سے بھر پور پذیر ائی ملی لیکن وفاقی وزیر کی جانب سے کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آرہی ہے۔
کئی دہائیوں کا کچرا کس طرح10 دن میں اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ انتہائی نا ممکن کام ہے ،صفا ئی مہم کے بجا ئے وفا قی وزیر علی زید ی نے اس مہم کو بھی چند ہ مہم میں بد ل دیا وفا قی وزیر کا کہنا ہے کہ صفائی کے لیے ایک ارب 75کر وڑ روپے کی ضرورت ہے ،یہ بات انھو ں نے مہم کے دوسرے دن کہی ، اس کا مطلب یہ کہ وفا قی وزیر بغیر کسی حکمت عملی کے صفائی مہم کا آغا زکردیا۔
بلدیاتی ماہر ین کا کہنا ہے کہ کر اچی میں عاڑضی بنیاد وں پر تو کچرا اٹھایا جا سکتا ہے کہ مستقل بنیاد وں پر کچرا اٹھا نے کے لیے مربوط قسم کی حکمت عملی مر تب کر نا ہو گی ،ماہرین نے بتایا کہ کر اچی میں صفائی کی ذمے داری میئر کے پاس ہو نی چاہیے اور جومکمل طور بااختیار ہو ۔
کراچی میں صفائی کے حوالے سے وفاق میدان میں آئی ہے لیکن 3دن گزرنے کے با وجود اس مہم کے کوئی اثر ات شہر میں دیکھنے کو نہیں ملے، کراچی میں کچرہ اٹھانے کا نظام تقسیم ہے ، مرکزی سڑکوں کی صفائی کی ذمے داری بلد یہ عظمی کراچی کی ہے، مرکزی نالوں کی صفائی کی ذمے داری بھی کے ایم سی کی ہے جبکہ چھو ٹے اور علاقائی نالوںکی صفائی کی ذمے داری ڈی ایم سیز کی ہے ، گلیوں محلوں کی صفائی کی ذمے داری ڈی ایم سیز کی ہے۔
اس کے علاوہ شہر میں17لینڈ کنٹرول کر نے و الے ادارے ہیں اس میں6 کنٹونمنٹ بورڈ بھی ہیں اور وہ اپنی حدود میں صفائی کے انتظامات دیکھتے ہیں ، کراچی میں یومیہ 13ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے لیکن ذرائع کے مطابق 7 سے 8 ہز ار ٹن یو میہ کچرا نہیں اٹھ پاتا جس کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں کچروں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جو کچرا شہر سے اٹھتا ہے وہ بھی لینڈ فل سائٹ تک نہیں پہنچتا۔
ہزاروں ٹن کچرا بڑے بر ساتی نالو ں میں پھینک دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے بر ساتی نالے کچروں سے بھرے ہوئے جن کی صفائی کے لیے کے ایم سی کو کروڑو ں روپے دیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود شہربرساتی نالے صاف نہیں ہو سکے بارشوں میں پانی کی نکاسی میں شدید مشکلات ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے اب وفاقی حکومت شہر میں کچرا صاف کرنے کے لیے میدان میں آئی اس عمل کو شہر کے تمام حلقوں کی جانب سے بھر پور پذیر ائی ملی لیکن وفاقی وزیر کی جانب سے کوئی حکمت عملی سامنے نہیں آرہی ہے۔
کئی دہائیوں کا کچرا کس طرح10 دن میں اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ انتہائی نا ممکن کام ہے ،صفا ئی مہم کے بجا ئے وفا قی وزیر علی زید ی نے اس مہم کو بھی چند ہ مہم میں بد ل دیا وفا قی وزیر کا کہنا ہے کہ صفائی کے لیے ایک ارب 75کر وڑ روپے کی ضرورت ہے ،یہ بات انھو ں نے مہم کے دوسرے دن کہی ، اس کا مطلب یہ کہ وفا قی وزیر بغیر کسی حکمت عملی کے صفائی مہم کا آغا زکردیا۔
بلدیاتی ماہر ین کا کہنا ہے کہ کر اچی میں عاڑضی بنیاد وں پر تو کچرا اٹھایا جا سکتا ہے کہ مستقل بنیاد وں پر کچرا اٹھا نے کے لیے مربوط قسم کی حکمت عملی مر تب کر نا ہو گی ،ماہرین نے بتایا کہ کر اچی میں صفائی کی ذمے داری میئر کے پاس ہو نی چاہیے اور جومکمل طور بااختیار ہو ۔