نئے صوبوں کیلیے قائم کمیشن کے اجلاس ان کیمرہ ہونگے

ن لیگ کابائیکاٹ جاری،کمیشن کے اختیارات پرمشاورت مکمل، کل ضابطہ کارکا اعلان ہوگا

ن لیگ کابائیکاٹ جاری،کمیشن کے اختیارات پرمشاورت مکمل، کل ضابطہ کارکا اعلان ہوگا

KARACHI:
پنجاب میں نئے صوبوں کے قیام کیلیے بنائے گئے پارلیمانی کمیشن کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں چیئر مین فرحت اللہ بابر کی صدارت میں منعقد ہوا جو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں نے شرکت نہیں کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس بند کمرے میں ہوا کریںگے تاکہ کمیشن یکسوئی سے کام کر سکے، اجلاس میں کمیشن کے دائرہ کار، اختیارات، ہیئت اور کورم کے بارے میں ابتدائی مشاورت کی گئی، کمیشن وزیر قانون اور وزارت قانون سے اپنے آئندہ اجلاس میں مشاورت کریگا جو جمعے کو صبح 10 بجے طلب کیا گیا ہے، اس کے بعد ضابطہ کار کا اعلان کیا جائیگا ، اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سول سوسائٹی اور ماہرین کو اپنی آراء پیش کرنے کیلیے باقاعدہ دعوت دی جائیگی، اجلاس میں حاجی عدیل، کامل علی آغا، صغریٰ امام، جمشید دستی، عارف عزیز شیخ اور آصف حسین نے شرکت کی۔


اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کمیشن کے چیئرمین فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پوٹھوہار صوبہ ہمارے دائرہ اختیارمیں نہیں ہے۔ کمیشن نئے صوبوں کے حوالے سے تمام فریقین کو اعتماد میں لے گا، انکا کہناتھا کہ ن لیگ کو کمیشن کے اجلاس میں شمولیت کی پھر دعوت بھیجی تھی لیکن تاحال کوئی جواب نہیںملاہے ، انکا کہنا تھا کہ کمیشن کی کارروائی ان کیمرہ ہو گی ، اجلاس کے بعد باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا جائیگا، ڈائر یکٹر پبلک ریلیشن سینیٹ الیاس چوہدری کمیشن کے ترجمان مقرر ہوئے ہیں اوروہی اعلامیہ جاری کریں گے ۔ کمیشن کے رکن حاجی عدیل نے بتایا کہ ملک میں قومی انتخابات الگ الگ بھی ہو سکتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کوئی صوبہ پہلے اور کوئی بعد میں الیکشن کروائے، انھوں نے بتایا کہ پنجاب میں صوبوں کی تقسیم پر کمیشن اپنا کا کررہا ہے ، (ن) لیگ ناجائز مخالفت کررہی ہے، کمیشن میں (ن) لیگ آئے یا نہ آئے ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، چوہدری نثار سب سے بڑے فرینڈلی اپوزیشن لیڈر ہیں،مانیٹرنگ ڈیسک اور ثناء نیوز کے مطابق جمشیددستی نے کہا کہ (ن) لیگ پنجاب اسمبلی سے منظورشدہ قرار داد کی پاسداری کرے۔

اگر اس نے بھاگنے کی کوشش کی تو آئندہ جنوبی پنجاب میںداخل بھی نہیں ہو سکے گی، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان ذہنی طور پر ڈسٹرب ہیں، اس لیے انھوں نے پنجاب میں اپنے رشتے دار چوہدری نثارکو خوش کرنے کیلیے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کی ہے ، آن لائن کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی نے بھی نئے صوبوں کے حوالے تشکیل دیے گئے کمیشن کے اجلاس میں شرکت کی خواہش ظاہر کی ہے ، فیصل کنڈی ڈیرہ اسماعیل خان کو جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبے میں شامل کیے جانے کے خواہش مند ہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story