بھارتی سپریم کورٹ نے اجمل قصاب کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کردی
ابتدائی مراحل میں وکیل نہ ملنے سے سماعت کا عمل متاثر ہوا،وکیل قصاب،یقین ہے پاکستان فیصلے کا ضرورنوٹس لے گا،وزیر خارجہ
ابتدائی مراحل میں وکیل نہ ملنے سے سماعت کا عمل متاثر ہوا،وکیل قصاب،یقین ہے پاکستان فیصلے کا ضرورنوٹس لے گا، وزیر خارجہ. فوٹو رائٹرز
بھارت کی سپریم کورٹ نے ممبئی حملے کے واحد زندہ بچ جانے والے حملہ آور اجمل قصاب کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی ہے۔بدھ کو سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس سزائے موت دینے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں،قصاب کا سب سے پہلا اور سب سے اہم جرم یہ ہے کہ اس نے بھارت کی حکومت کے خلاف جنگ کی۔
عدالت عظمیٰ نے اجمل قصاب کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا کہ ممبئی میں ان کے خلاف مقدمے کی منصفانہ سماعت نہیں ہوئی تھی کیونکہ انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے وکیل کی خدمات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔بینچ نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کے ابتدائی مراحل میں ذیلی عدالت نے قصاب کو کئی مرتبہ وکیل کی خدمات فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی جسے انھوں نے مسترد کردیا تھا۔
سپریم کورٹ میں اجمل قصاب کی جانب سے سینئر وکیل راجو رام چندرن پیش ہوئے جن کا کہنا تھا کہ ابتدائی مراحل میں وکیل نہ ملنے سے سماعت کا عمل متاثر ہوا، اگر قصاب کو شروع سے ہی ایک وکیل کی خدمات حاصل ہوتیں تو پھر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا پھر بھی وہ اقبالی بیان دیتے؟اے ایف پی کے مطابق سپریم کورٹ سے اپیل مسترد ہونے کے بعد توقع ہے کہ اجمل قصاب بھارتی صدر پرنب مکھرجی سے رحم کی اپیل کریں گے۔
اسٹیٹ پراسیکیوٹر گوپال سبرامنیم نے صحافیوں کو بتایا کہ عدالت کے سامنے غیرجانبدارانہ طور پر ملزم کی جانب سے تمام ممکنہ نکات پیش کیے گئے تھے تاہم عدالت نے انہیں مسترد کردیا۔اجمل قصاب کے خلاف مقدمے کی کارروائی کی قیادت کرنے والے اجوال نکم کا کہنا تھا کہ جتنا جلد ہوسکے اجمل قصاب کو سزائے موت دی جائے تاکہ دہشت گردوں کو ٹھوس پیغام ملے۔تہران میں ''نام''کانفرنس کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے عدالتی فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان بھارتی عدالت کے فیصلے کا ضرور نوٹس لے گا جبکہ پاکستانی عدلیہ بھی بہت فعال ہے۔
ثناء نیوزکے مطابق ایس ایم کرشنا نے کہا کہ زرداری منموہن مذاکرات میں دہشت گردی کا مسئلہ سر فہرست ہو گا، آئندہ دور میں دہشت گردی سمیت تمام امور زیر بحث آئیں گے۔ واضح رہے کہ ذیلی عدالت میں قصاب کو مجرمانہ سازش، ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے، اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مختلف معاملات کا مجرم پایا گیا، انہیں اسلحہ ایکٹ، دھماکا خیز مادہ ایکٹ، پاسپورٹ ایکٹ، غیر ملکی ایکٹ اور ریلوے ایکٹ کے دیگر 19 معاملات میں قصوروار پایا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے گزشتہ برس اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ معاملہ اس سنگین نوعیت کے جرم کے زمرے میں آتا ہے جس میں موت کی سزا دی جاتی ہے۔قصاب نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ قصاب کی اپیل دائر ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر اس مقدمے میں قصاب کا دفاع کرنے کے لیے دو سینئر وکلا راجو رام چندرن اور گورو اگروال کو عدالت کا معاون مقرر کیا تھا۔
قصاب 26 نومبر2008 کو ممبئی پرحملے میں ایک دس رکنی فدائین گروپ کا حصہ تھے۔ ان کے باقی ساتھی پولیس کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ قصاب کوحملے کے دوران زندہ پکڑ لیا گیا تھا۔انہیں ایک تیز رفتار مقدمے کے بعد ممبئی کی ایک ذیلی عدالت موت کی سزا سناچکی ہے۔ گزشتہ فروری میں ممبئی ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کی طرف سے قصاب کو سنائی گئی موت کی سزا کی توثیق کی تھی،26 نومبر2008کو ممبئی کے مختلف مقامات پر دس مسلح افراد نے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں سوائے اجمل قصاب کے باقی تمام حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا،ان حملوں میں تقریباً 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے60 گھنٹوں سے زیادہ جاری رہنے والی اس لڑائی میں بھارت کے بڑے ہوٹلوں، ریلوے اسٹیشن اور یہودیوں کے کلچرل سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا،ممبئی کی سیشن عدالت میں اجمل قصاب پر مقدمہ چلایا تھا اور موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
دریں اثناء ممبئی حملوں کے متاثرین نے اجمل قصاب کی سزا برقرار رکھنے کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ یشتر متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ قصاب کو جلد از جلد پھانسی پر لٹکایا جائے،ہیما ٹھنکی نامی خاتون جو حملوں کی رات اپنے خاوند اور بیٹے کے ساتھ تاج محل ہوٹل میں کھانا کھانے گئی تھیں،کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ سن کر میں نے سکھ کا سانس لیا ہے لیکن اصل اطمینان تب ہوگا جب اسے پھانسی پر لٹکے ہوئے دیکھوں گی۔
عدالت عظمیٰ نے اجمل قصاب کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا کہ ممبئی میں ان کے خلاف مقدمے کی منصفانہ سماعت نہیں ہوئی تھی کیونکہ انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے وکیل کی خدمات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔بینچ نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کے ابتدائی مراحل میں ذیلی عدالت نے قصاب کو کئی مرتبہ وکیل کی خدمات فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی جسے انھوں نے مسترد کردیا تھا۔
سپریم کورٹ میں اجمل قصاب کی جانب سے سینئر وکیل راجو رام چندرن پیش ہوئے جن کا کہنا تھا کہ ابتدائی مراحل میں وکیل نہ ملنے سے سماعت کا عمل متاثر ہوا، اگر قصاب کو شروع سے ہی ایک وکیل کی خدمات حاصل ہوتیں تو پھر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا پھر بھی وہ اقبالی بیان دیتے؟اے ایف پی کے مطابق سپریم کورٹ سے اپیل مسترد ہونے کے بعد توقع ہے کہ اجمل قصاب بھارتی صدر پرنب مکھرجی سے رحم کی اپیل کریں گے۔
اسٹیٹ پراسیکیوٹر گوپال سبرامنیم نے صحافیوں کو بتایا کہ عدالت کے سامنے غیرجانبدارانہ طور پر ملزم کی جانب سے تمام ممکنہ نکات پیش کیے گئے تھے تاہم عدالت نے انہیں مسترد کردیا۔اجمل قصاب کے خلاف مقدمے کی کارروائی کی قیادت کرنے والے اجوال نکم کا کہنا تھا کہ جتنا جلد ہوسکے اجمل قصاب کو سزائے موت دی جائے تاکہ دہشت گردوں کو ٹھوس پیغام ملے۔تہران میں ''نام''کانفرنس کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے عدالتی فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان بھارتی عدالت کے فیصلے کا ضرور نوٹس لے گا جبکہ پاکستانی عدلیہ بھی بہت فعال ہے۔
ثناء نیوزکے مطابق ایس ایم کرشنا نے کہا کہ زرداری منموہن مذاکرات میں دہشت گردی کا مسئلہ سر فہرست ہو گا، آئندہ دور میں دہشت گردی سمیت تمام امور زیر بحث آئیں گے۔ واضح رہے کہ ذیلی عدالت میں قصاب کو مجرمانہ سازش، ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنے، اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مختلف معاملات کا مجرم پایا گیا، انہیں اسلحہ ایکٹ، دھماکا خیز مادہ ایکٹ، پاسپورٹ ایکٹ، غیر ملکی ایکٹ اور ریلوے ایکٹ کے دیگر 19 معاملات میں قصوروار پایا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے گزشتہ برس اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ معاملہ اس سنگین نوعیت کے جرم کے زمرے میں آتا ہے جس میں موت کی سزا دی جاتی ہے۔قصاب نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ قصاب کی اپیل دائر ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر اس مقدمے میں قصاب کا دفاع کرنے کے لیے دو سینئر وکلا راجو رام چندرن اور گورو اگروال کو عدالت کا معاون مقرر کیا تھا۔
قصاب 26 نومبر2008 کو ممبئی پرحملے میں ایک دس رکنی فدائین گروپ کا حصہ تھے۔ ان کے باقی ساتھی پولیس کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ قصاب کوحملے کے دوران زندہ پکڑ لیا گیا تھا۔انہیں ایک تیز رفتار مقدمے کے بعد ممبئی کی ایک ذیلی عدالت موت کی سزا سناچکی ہے۔ گزشتہ فروری میں ممبئی ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کی طرف سے قصاب کو سنائی گئی موت کی سزا کی توثیق کی تھی،26 نومبر2008کو ممبئی کے مختلف مقامات پر دس مسلح افراد نے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں سوائے اجمل قصاب کے باقی تمام حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا تھا،ان حملوں میں تقریباً 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے60 گھنٹوں سے زیادہ جاری رہنے والی اس لڑائی میں بھارت کے بڑے ہوٹلوں، ریلوے اسٹیشن اور یہودیوں کے کلچرل سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا،ممبئی کی سیشن عدالت میں اجمل قصاب پر مقدمہ چلایا تھا اور موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
دریں اثناء ممبئی حملوں کے متاثرین نے اجمل قصاب کی سزا برقرار رکھنے کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ یشتر متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ قصاب کو جلد از جلد پھانسی پر لٹکایا جائے،ہیما ٹھنکی نامی خاتون جو حملوں کی رات اپنے خاوند اور بیٹے کے ساتھ تاج محل ہوٹل میں کھانا کھانے گئی تھیں،کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ سن کر میں نے سکھ کا سانس لیا ہے لیکن اصل اطمینان تب ہوگا جب اسے پھانسی پر لٹکے ہوئے دیکھوں گی۔