نیٹوکنٹینرکیسسپریم کورٹ کانیب کی انکوائری پرعدم اطمینان
لاپتہ کنٹینرزکے حوالے سے اب تک ہونے والی انکوائری کی مکمل رپورٹ آج طلب
لاپتہ کنٹینرزکے حوالے سے اب تک ہونے والی انکوائری کی مکمل رپورٹ آج طلب۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
سپریم کورٹ نے نیٹوکنٹینرزکیس میں نیب کی انکوائری اور طرز عمل پر عدم اطمینان اور برہمی کااظہارکیا ہے اور لاپتہ ہونے والے کنٹینرزکے حوالے سے اب تک ہونے والی انکوائری کی مکمل رپورٹ آج طلب کرلی ہے۔
عدالت نے قراردیا ہے کہ اربوں روپے کے اس اسکینڈل میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے میںنیب کا طرز عمل غیر سنجیدہ ہے۔عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ نیب اگر چاہے تو چندگھنٹے میں ملوث افرادگرفتار ہوسکتے ہیں۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے کہ اس اسکینڈل کے52ارب روپے وصول کرکے اگر تعلیم پر خرچ کیے جائیں تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل فوزی ظفر نے جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل بینچ کو بتایا نیب اور ایف بی آر کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے ابھی تک ایف بی آر سے تمام کنٹینرزکے کلیئرنگ سرٹیفکیٹ نہیں ملے کیونکہ ریکارڈکمپیوٹرائزڈ نہیں ہے اور سب کچھ مینوئل ہو رہا ہے اس لیے رپورٹ میں وقت لگے گا۔
انھوں نے چار مہینے کی مہلت مانگی۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ نیب کو اس معاملے میں دلچسپی نہیں،عدالت کو نیب کے اختیارکا پتہ ہے اگر اختیار پر آجائے تو ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے دوگھنٹے میں لندن جانے کا فیصلہ ہوتاہے ،لوگ بھی گرفتار ہو جاتے ہیں اور ریکارڈ بھی آجا تا ہے اس لیے عدالت کو یہ نہ بتایا جائے کہ ایف بی آر ریکارڈ نہیں دے رہا۔فاضل جج نے کہا کہ نو مہینے پہلے یہ کیس نیب کے پاس بھیجا گیا تھا اور26مئی کو رپورٹ آنی چاہیے تھی لیکن آج بھی ریکارڈ نہ ملنے کا بہانہ کیا جا رہا ہے۔رپورٹ کاغذکے پرزے کو نہیں کہتے بلکہ ایک با معنی مواد جس میںگناہ گاروںکا تعین کیا گیا ہو،عدالت نے رپورٹ اس لیے مانگی ہے کہ آخرکوئی تو ہوگا جس نے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا عدالت کو نیب کی مستعدی کا علم ہے یہ پہلا کیس نہیں جو اس ادارے کو ریفرکیا گیا ہے ،نیب عدالت کے ساتھ مذاق بندکر دے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا نیب نشتر پارک والی سیاسی دہائی نہ دے، واضح طور پر بتا دیا جائے رپورٹ کب تک آجائے گی ۔ایف بی آرکے وکیل نے بتایا کہ چیئر مین ایف بی آر نے واضح طور پرکہا کہ 52ارب کا فراڈکیا گیا ہے اور اب انکوائری کے بعد یہ تخمینہ 69ارب روپے کا ہے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا آئین میں تعلیم کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے لیے انتظام نہیںکیا گیا ہے کہ بجٹ کہاں سے آئے گا اگر یہی رقم وصول کرکے تعلیم کے لیے مختص ہوجائے تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا اٹھارہویں ترمیم آئین میں توشامل کردی گئی لیکن اتنی زحمت بھی نہیںکی گئی کہ وزارت خزانہ سے پوچھ لیا جاتا کہ تعلیم پر جو خرچ آئے گا وہ رقم کہاں سے پوری ہوگی۔فاضل جج نے کہا اقرا سرچارج کے نام پر لوگوں سے زبردستی رقم بٹور لی گئی اور وہ بھی خورد برد ہوئی،افسوس یہ ہے کہ ہاتھ مروڑکر لی گئی رقم بھی لوٹ لی گئی۔فوزی ظفر نے بتایا آٹھ کلیئرنگ ایجنٹوںکے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ،ایک لاکھ بارہ ہزارکراس بارڈر سرٹیفکیٹ ہیں جن کا جائزہ لینا ہے اس لیے وقت دیا جائے۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے یہ کسی معمولی ملزم کا کام نہیں جن کو بچانے کی کوشش ہورہی ہے اور جو لوگ انکوائری میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں ان پر ہاتھ ڈالنا چاہیے ۔عدالت نے آبزرویشن دی نیب کا طرز عمل باعث اطمینان اور تسلی بخش نہیں ،آج پھر سماعت ہوگی۔
سپریم کورٹ نے نیٹوکنٹینرزکیس میں نیب کی انکوائری اور طرز عمل پر عدم اطمینان اور برہمی کااظہارکیا ہے اور لاپتہ ہونے والے کنٹینرزکے حوالے سے اب تک ہونے والی انکوائری کی مکمل رپورٹ آج طلب کرلی ہے۔
عدالت نے قراردیا ہے کہ اربوں روپے کے اس اسکینڈل میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے میںنیب کا طرز عمل غیر سنجیدہ ہے۔عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ نیب اگر چاہے تو چندگھنٹے میں ملوث افرادگرفتار ہوسکتے ہیں۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے کہ اس اسکینڈل کے52ارب روپے وصول کرکے اگر تعلیم پر خرچ کیے جائیں تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل فوزی ظفر نے جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل بینچ کو بتایا نیب اور ایف بی آر کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے ابھی تک ایف بی آر سے تمام کنٹینرزکے کلیئرنگ سرٹیفکیٹ نہیں ملے کیونکہ ریکارڈکمپیوٹرائزڈ نہیں ہے اور سب کچھ مینوئل ہو رہا ہے اس لیے رپورٹ میں وقت لگے گا۔
انھوں نے چار مہینے کی مہلت مانگی۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ نیب کو اس معاملے میں دلچسپی نہیں،عدالت کو نیب کے اختیارکا پتہ ہے اگر اختیار پر آجائے تو ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے دوگھنٹے میں لندن جانے کا فیصلہ ہوتاہے ،لوگ بھی گرفتار ہو جاتے ہیں اور ریکارڈ بھی آجا تا ہے اس لیے عدالت کو یہ نہ بتایا جائے کہ ایف بی آر ریکارڈ نہیں دے رہا۔فاضل جج نے کہا کہ نو مہینے پہلے یہ کیس نیب کے پاس بھیجا گیا تھا اور26مئی کو رپورٹ آنی چاہیے تھی لیکن آج بھی ریکارڈ نہ ملنے کا بہانہ کیا جا رہا ہے۔رپورٹ کاغذکے پرزے کو نہیں کہتے بلکہ ایک با معنی مواد جس میںگناہ گاروںکا تعین کیا گیا ہو،عدالت نے رپورٹ اس لیے مانگی ہے کہ آخرکوئی تو ہوگا جس نے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا عدالت کو نیب کی مستعدی کا علم ہے یہ پہلا کیس نہیں جو اس ادارے کو ریفرکیا گیا ہے ،نیب عدالت کے ساتھ مذاق بندکر دے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا نیب نشتر پارک والی سیاسی دہائی نہ دے، واضح طور پر بتا دیا جائے رپورٹ کب تک آجائے گی ۔ایف بی آرکے وکیل نے بتایا کہ چیئر مین ایف بی آر نے واضح طور پرکہا کہ 52ارب کا فراڈکیا گیا ہے اور اب انکوائری کے بعد یہ تخمینہ 69ارب روپے کا ہے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا آئین میں تعلیم کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے لیے انتظام نہیںکیا گیا ہے کہ بجٹ کہاں سے آئے گا اگر یہی رقم وصول کرکے تعلیم کے لیے مختص ہوجائے تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا اٹھارہویں ترمیم آئین میں توشامل کردی گئی لیکن اتنی زحمت بھی نہیںکی گئی کہ وزارت خزانہ سے پوچھ لیا جاتا کہ تعلیم پر جو خرچ آئے گا وہ رقم کہاں سے پوری ہوگی۔فاضل جج نے کہا اقرا سرچارج کے نام پر لوگوں سے زبردستی رقم بٹور لی گئی اور وہ بھی خورد برد ہوئی،افسوس یہ ہے کہ ہاتھ مروڑکر لی گئی رقم بھی لوٹ لی گئی۔فوزی ظفر نے بتایا آٹھ کلیئرنگ ایجنٹوںکے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ،ایک لاکھ بارہ ہزارکراس بارڈر سرٹیفکیٹ ہیں جن کا جائزہ لینا ہے اس لیے وقت دیا جائے۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے یہ کسی معمولی ملزم کا کام نہیں جن کو بچانے کی کوشش ہورہی ہے اور جو لوگ انکوائری میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں ان پر ہاتھ ڈالنا چاہیے ۔عدالت نے آبزرویشن دی نیب کا طرز عمل باعث اطمینان اور تسلی بخش نہیں ،آج پھر سماعت ہوگی۔