بڑے بورڈز نے کونسل کو یرغمال بنانے کی منصوبہ بندی کرلی

بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کا چھوٹے ممبران کے خلاف ویٹو پاور مانگنے پر غور

بھارت کی دیکھا دیکھی دیگر بورڈز بھی آمدنی سے بڑا حصہ طلب کریں گے۔ فوٹو: رائٹرز/فائل

بڑے بورڈز نے آئی سی سی کو یرغمال بنانے کی منصوبہ بندی کرلی، بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا چھوٹے ممبران کے خلاف ویٹو پاور مانگنے پر غور کررہے ہیں۔

بھارت کی دیکھا دیکھی مذکورہ ممالک نے بھی کونسل کی آمدنی سے بڑا حصہ مانگنے کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق کرکٹ کے تین طاقتور بورڈز بھارت، انگلینڈ اورآسٹریلیا آئی سی سی کے گرد اپنا شکنجہ مزید کستے ہوئے زیادہ دولت اور فیصلہ سازی میں پاور مانگنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

گذشتہ برس کونسل کے امور میں بہتری کیلیے تیار کی گئی وولف رپورٹ ریلیز کی گئی تھی،اس میں کرکٹ آئین کو از سرنو مرتب کرنے اور فنڈز کی ضرورت کے تحت تقسیم کی سفارش کی گئی مگر اسے بھارت نے مسترد کردیا تھا، اب یہ تین بڑے بورڈز چھوٹے ممبران کے حقوق غصب کرنے کے لیے متحد ہوچکے۔




بھارتی کرکٹ بورڈ کے ذرائع نے چند روز قبل کہا تھا کہ وہ آئی سی سی کی آمدنی میں سے بڑا حصہ مانگنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ ان کا ملک زیادہ کرکٹ کو کما کر دیتا ہے، اس کی دیکھا دیکھی انگلینڈ اور آسٹریلیا نے بھی ایسی کوششیں شروع کردی ہیں۔ آئی سی سی کا جلد ہی اگلے 8 برس کے لیے نیا نشریاتی معاہدہ ہونے والا ہے جس کی آمدنی کی تقسیم کا باقاعدہ ممبر بورڈز میں معاہدہ ہوگا۔

کرکٹ آسٹریلیا نے دعویٰ کیا کہ ان کا مقصد صرف دولت نہیں ہے، ترجمان نے کہا کہ ہم ریونیو کی تقسیم کے بارے میں کوئی بھی فیصلے سے قبل یہ جاننا چاہتا ہے کہ مستقبل کے حقوق کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں ہمارا کتنا حصہ ہوگا، ہم بڑا حصہ لینے کیلیے کوشاں نہیں کیونکہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ رقم کئی ممالک میں تقسیم ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ تینوں بورڈز نے زیادہ رقم کے ساتھ اب زیادہ اختیارات حاصل کرنے کے لیے بھی کوششیں شروع کردی ہیں، بھارت تو پہلے ہی اپنی کمرشل پاور کی بنیاد پر ہر اہم فیصلے کو ویٹو کرنا اپنا حق سمجھتا ہے، اب آسٹریلیا اور انگلینڈ بھی ویٹو پاور مانگنے کے لیے پرتول رہے ہیں۔
Load Next Story