دیگر صوبوں کے افسران کو سندھ میں تعینات نہیں کیا جاسکتا سپریم کورٹ

36 ڈیپوٹیشن افسروں اور ملازمین کو مختلف محکموں میں ضم کیا گیا، سرکاری وکیل

جان کے خطرے کے پیش نظر سندھ میں تعیناتی کا عذر مسترد، 36 ڈیپوٹیشن افسروں اور ملازمین کو مختلف محکموں میں ضم کیا گیا، سرکاری وکیل

PESHAWAR:
سپریم کورٹ کے جسٹس انورظہیر جمالی نے کہا ہے کہ عدالت قانون کی بالادستی اور شفافیت کو یقینی بناناچاہتی ہے، انصاف کے منصب پر بیٹھے ہیں کسی بھی شخصیت سے ذاتی اختلاف یا عناد نہیں، اچھے افسران شارٹ کٹ کی تلاش میں اپنا کیرئیرتباہ کرلیتے ہیں، یہاں یہ حال ہے کہ ایم اے پاس نوکریوں کے لیے دھکے کھارہے ہیں جبکہ بااثرافراد سے پوچھ کر انھیں ان کے پسندیدہ محکموں میں تعینات کیا جاتاہے، عدالت کی نظر میں کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔

جسٹس امیرہانی مسلم نے کہا کہ اگر دوسرے صوبوں کے افسران کو سندھ میں تعینات کیا جاتا رہاتو یہاں کے افسران کو ترقی کیسے ملے گی، کیا سندھ میں قابل افسران نہیں، بلوچستان کے افسر پر سندھ کا قانون کیسے لاگو ہوگا۔ فاضل بینچ نے محکمہ سروسز کی سفارشات کے بجائے وزارت قانون کے مشوروں پر افسران کی تعیناتی پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی کو غیرقانونی مشورے کون دے رہا ہے اور کیا وزیر اعلی غیر قانونی مشوروں پر بھی عمل کے پابند ہیں، سندھ سروس ایکٹ کے تحت آؤٹ آف کیڈر اور دیگر صوبوں کے افسران کو سندھ میں تعینات نہیں کیا جاسکتا۔

فاضل بینچ نے بدھ کو ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی ملازمتیں حکومت سندھ میں ضم کرنے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔ فاضل بینچ نے ڈائریکٹر فوڈسندھ طالب حسین مگسی کی ان کے اصل محکمے میں واپسی کے حکم کے خلاف دائر درخواست مستردکردی۔ بینچ نے ان کا یہ عذر مسترد کردیا کہ بلوچستان میں جان کے خطرے کے پیش نظر وہ بلوچستان میں فرائض انجام نہیں دے سکتے، وہ بلوچستان میں ای ڈی او فنانس کے عہدے پر کام کررہے تھے۔


فاضل بینچ نے ان سے استفسار کیا کہ وہ قانون کی نظیر پیش کریں کہ کس قانون کے تحت جان کے خطرے کے پیش نظر ایک صوبے کا افسر دوسرے صوبے میں تعینات کیا جاسکتا ہے اور محکمہ فنانس کا افسر محکمہ فوڈ میں ڈائریکٹر تعینات کردیا جائے۔ فاضل بینچ نے بدھ کو 4افسران غلام رسول کورائی، طالب حسین مگسی، ڈاکٹر نوشاد شیخ ، ڈی ایس پی فیصل مختار کے کیسز کا جائزہ لیا، ڈاکٹرنوشاد شیخ گورنر ہاؤس میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔

وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے، انھیں جمعرات کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ شاہ لطیف یونیورسٹی خیر پورکے ویلفیئر افسر غلام رسول کورائی کی محکمہ پولیس میں تقرری کے متعلق سیکریٹری سروسز اقبال درانی نے بینچ کو بتایا کہ ان کے محکمے نے غلام رسول کورائی کی تعیناتی کی سمری ارسال نہیںکی تھی، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عدنان کریم نے بتایاکہ انھیں وزارت قانون کے مشورے کے بعد پولیس میں تعینات کیا گیا۔

فاضل بینچ نے ان سے پوچھا کہ وزارت قانون سے کس نے مشورہ کیا، سرکاری وکیل نے بتایا کہ وزیر اعلی سندھ نے وزارت قانون سے مشورہ کیا تھا، بینچ نے استفسارکیا کہ تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ تمام غیر قانونی کام وزیر اعلی ہاؤس سے ہورہے ہیں یا انھیں غیر قانونی مشورے دیے جارہے ہیں۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے حافظ اختر انصاری نے نشاندہی کی کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ریجنل ڈائریکٹر حیدرآباد نعیم مغل نے بھی عدالت کے حکم کے باوجود اپنے عہدے کا چارج نہیں سنبھالا، فاضل بینچ نے نعیم مغل سے استفسار کیا کہ انھوں نے ابھی تک چارج کیوں نہیں چھوڑا، نعیم مغل نے عدالتی احکامات تاخیر سے ملنے کا عذر کیا، تاہم بینچ کی جانب سے توہین عدالت کی کارروائی کا عندیہ دیے جانے کے بعد وہ گھبرا گئے اورانھوں نے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے فوری طور پر اپنا عہدہ چھوڑنے کی یقین دہانی کرادی اور عدالت نے انھیں معاف کردیا۔

اس موقع پر سرکاری وکیل کی جانب سے ڈیپوٹیشن افسران کے انضمام سے متعلق 2011ء کے قانون کی منظوری کے تحت ضم کیے گئے افسران کی فہرست پیش کی گئی۔ عدالت کوبتایا گیا کہ مذکورہ قانون کے تحت 36ڈیپوٹیشن افسران اور گریڈ17سے کم کے 36ملازمین کومختلف محکموں میں ضم کیا گیا ہے۔ درخواست گزار ڈی ایس پی فیصل مختار وقاصی کے وکیل انورمنصور خان ایڈوکیٹ نے بینچ کو بتایا کہ ان کے موکل فیصل مختار وقاصی اعلی تعلیم یافتہ ہیں انھیں نیب سے مالیاتی جرائم کی تفتیش کے لیے پولیس میں تعینات کیا گیاہے تاہم جسٹسس امیرہانی مسلم نے ان سے ضابطہ فوجداری کی بعض دفعات کے بارے میں استفسارکیاتو انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اس لیے مناسب جواب نہیں دے سکتے۔ ان کے وکیل انور منصور خان نے کہا کہ ان کے موکل کو قانون میں گنجائش ہونے کے باعث تعینات کیا گیا ہے تاہم جسٹس امیرہانی مسلم نے کہا کہ قانون کی تشریح عدالت کا کام ہے ،عدالتی وقت ختم ہونے پر سماعت (آج)جمعرات کیلیے ملتوی کردی گئی۔

Recommended Stories

Load Next Story