آئی پی پیز کا ٹرانسمیشن کمپنی کو واجبات کی ادائیگی کیلیے خط
سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق حکومت نے آئی پی پیزکو 44ارب ادا کرنے ہیں
سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق حکومت نے آئی پی پیزکو 44ارب ادا کرنے ہیں
نجی پاور پروڈیوسرز نے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی(این ٹی ڈی سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے کمپنیوں کو ان کے واجبات کی قسط ادا کی جائے۔ پاور سیکٹر کے ذرائع کے مطابق آٹھ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز) نے این ٹی ڈی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ توہین عدالت سے بچنے کے لیے سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق واجبات کی ادائیگی کرے، حکومت کی طرف سے ضمانتوں کی عدم تکمیل اور ادائیگیاں نہ کیے جانے پر سپریم کورٹ نے آئی پی پیز کے حق میں حکومت کو ادائیگی کا پابند بنایا ہے۔
آٹھ آئی پی پیز کی جانب سے یہ خط 17 اگست کو وزارت پانی و بجلی کے ذریعے این ٹی ڈی سی کو ارسال کیا گیا تاہم ابھی تک این ٹی ڈی سی نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے نہ ہی رقم ادا کی اور نہ ہی آئی پی پیز کے خط کا جواب دینا ضروری سمجھا ہے۔ خط میں اس بات کی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے 15 اگست کے احکامات میں حکومت (پاور پرچیزر این ٹی ڈی سی) کو پابند بنایا ہے کہ وہ پاور پرچیزر ایگریمنٹ کے تحت آٹھ آئی پی پیز کو ادائیگی کرے، یہ ادائیگی سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق 44.938 ارب روپے کے علاوہ ہے جو حکومت نے آئی پی پیز کو ادا کرنے ہیں۔
حکومت کے ذمے بقایاجات کی قسطوں میں ادائیگی کا مقصد 44.938 ارب روپے کے واجبات کے حجم کو کم کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ حکومت پر عائد نئے واجبات ان بقایا جات میں شامل نہ ہوں۔ آئی پی پیز نے خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ پاور پرچیز ایگریمنٹ شق 9.5(b) کے تحت 13 جولائی 2012ء کے بعد 1.6 ارب روپے واجب الادا ہوگئے ہیں۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پی پی اے کی شق 9.6(a)(1)کے تحت پاور پرچیزر کو انوائس ملنے کے بعد ادائیگی 30 ویں دن سے پہلے ادا کرنی تھی اور اب 1.6 ارب روپے کی ادائیگی این ٹی ڈی سی پر واجب الذمہ ہوگئی ہے۔
کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ان واجبات کو فوری ادا کرنا ہوں گے اور اس میں تاخیر موجود واجبات (44.938 ارب روپے) میں اضافے کا باعث ہوگا جو کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ذرائع وزارت پانی و بجلی نے ایسے خطوط ملنے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم این ٹی ڈی سی نے آئی پی پیز کے خطوط کا جواب نہیں دیا ہے اور نہ ہی موجودہ ادائیگیوں کے واجب الذمہ رقم ادا کی ہے۔
آٹھ آئی پی پیز کی جانب سے یہ خط 17 اگست کو وزارت پانی و بجلی کے ذریعے این ٹی ڈی سی کو ارسال کیا گیا تاہم ابھی تک این ٹی ڈی سی نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے نہ ہی رقم ادا کی اور نہ ہی آئی پی پیز کے خط کا جواب دینا ضروری سمجھا ہے۔ خط میں اس بات کی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے 15 اگست کے احکامات میں حکومت (پاور پرچیزر این ٹی ڈی سی) کو پابند بنایا ہے کہ وہ پاور پرچیزر ایگریمنٹ کے تحت آٹھ آئی پی پیز کو ادائیگی کرے، یہ ادائیگی سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق 44.938 ارب روپے کے علاوہ ہے جو حکومت نے آئی پی پیز کو ادا کرنے ہیں۔
حکومت کے ذمے بقایاجات کی قسطوں میں ادائیگی کا مقصد 44.938 ارب روپے کے واجبات کے حجم کو کم کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ حکومت پر عائد نئے واجبات ان بقایا جات میں شامل نہ ہوں۔ آئی پی پیز نے خط میں موقف اختیار کیا ہے کہ پاور پرچیز ایگریمنٹ شق 9.5(b) کے تحت 13 جولائی 2012ء کے بعد 1.6 ارب روپے واجب الادا ہوگئے ہیں۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پی پی اے کی شق 9.6(a)(1)کے تحت پاور پرچیزر کو انوائس ملنے کے بعد ادائیگی 30 ویں دن سے پہلے ادا کرنی تھی اور اب 1.6 ارب روپے کی ادائیگی این ٹی ڈی سی پر واجب الذمہ ہوگئی ہے۔
کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ان واجبات کو فوری ادا کرنا ہوں گے اور اس میں تاخیر موجود واجبات (44.938 ارب روپے) میں اضافے کا باعث ہوگا جو کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ذرائع وزارت پانی و بجلی نے ایسے خطوط ملنے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم این ٹی ڈی سی نے آئی پی پیز کے خطوط کا جواب نہیں دیا ہے اور نہ ہی موجودہ ادائیگیوں کے واجب الذمہ رقم ادا کی ہے۔