لمحہ فکریہ

تحقیق اور ایجاد کی دنیا میں ہمارا کیا مقام ہے، اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

تحقیق اور ایجاد کی دنیا میں ہمارا کیا مقام ہے، اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ (فوٹو: فائل)

تازہ ترین تحقیق کے مطابق چاند پر زندگی برقرار رکھنے کے لیے زمینی مخلوق میں جن صلاحیتوں اور خصوصیات کی موجودگی ضروری ہے، ان کے بارے میں انکشاف سامنے آئے ہیں۔تحقیق کے مطابق ان میں حد درجہ کی ریڈی ایشن (ضو ریزی یا تابانی) برداشت کرنے' چلچلاتی گرمی، کائنات کے سرد ترین ماحول کو برداشت کرنے اور کئی دہائیوں تک بغیر کھائے پیے زندہ رہنے کی صلاحیت ضروری ہے نیز یہ اجسام چاند کی سطح پر کریش لینڈنگ کا صدمہ بھی برداشت کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں۔

اس امر کا تجربہ اسرائیل میں امریکا کی مدد سے اپریل کے مہینے میں کیا گیا ہے۔ جن خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے ان کے متعلق آگاہی امریکا کی خلائی سرگرمیوں کے نچوڑ کے طور پر دی گئی ہے۔ تحقیق کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسی جاندار چیزوں کا حجم انتہائی چھوٹا ہونا چاہیے یعنی ایک ملی میٹر سے بھی کم نیز ان کیڑوں کی کم سے کم آٹھ ٹانگیں ہونی چاہئیں یعنی دو دو ٹانگوں کے چار جوڑے ہونے چاہئیں۔ ان اجسام کو صرف مائیکرو اسکوپ کے ذریعے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

ہمارے کرہ الارض میں ایسے اجسام سمندر کی اتھاہ گہرائیوں' پہاڑوں کی بلند ترین چوٹیوں' سمندروں کی تہہ میں موجود سرنگوں میں بھی رہنے والے عنبریں مکوڑے جو مستقبل کے امکانی ماحول میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتے ہیں، انھیں ایک ایسی آرکائیو میں رکھا گیا ہے جس کے 3 کروڑ کے لگ بھگ صفحات ہیں لیکن ان صفحات کو بھی صرف مائیکرو اسکوپ سے دیکھا جا سکتا ہے یا انسانی ڈی این اے سے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔


یہ ایسی مخلوق ہے جو آبی گہرائیوں یا زمینی مقامات پر اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے اور 150سنٹی گریڈ کا درجہ حرارت اور 275 درجہ سنٹی گریڈ کی ٹھنڈک بھی برداشت کر سکتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آٹھ ٹانگوں والے اجسام خلا سے زندہ حالت میں زمین پر واپس آ سکیں گے جو زیرو پریشر کو بھی برداشت کرنے کے قابل ہوں گے اور سمندر کی انتہائی گہرائی کی سرنگوں میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔

بیکر یونیورسٹی کے خصوصی ماہرین میں شامل تحقیق کار ڈاکٹر ولیم ملر کے مطابق یہ اجسام شدید ترین دھماکے اور ریڈی ایشن کے جھٹکوں کو بھی بہ آسانی سہہ سکتے ہیں۔ ان اجسام زندہ رہنے کے لیے کھانے پینے اور ہوا وغیرہ کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ ترقی یافتہ دنیا جس انداز سے سائنسی علوم میں آگے بڑھ رہی ہیں، اسے دیکھتے ہوئے یہ لگتاہے کہ آنے والے پچاس برس والی دنیا،آج کی دنیا سے بالکل مختلف ہوگی۔

تحقیق اور ایجاد کی دنیا میں ہمارا کیا مقام ہے، اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ہمارے لیے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ آنے والے برسوں میں بحیثیت قوم اور ریاست ہم کہاں کھڑے ہوں گے اور کیا ہم ترقی کے اس سفر میں بالادست اقوام کے ہم سفر بن سکیں گے؟
Load Next Story