بارش میں کرنٹ لگنے سے جاں بحق افراد کے لواحقین کا ’کے الیکٹرک‘ کے خلاف احتجاج
ہمارے معصوم بچے بارش میں کھیلنے گئے تھے واپس نہیں آئے، لواحقین
ہمارے معصوم بچے بارش میں کھیلنے گئے تھے واپس نہیں آئے، لواحقین فوٹو:ٹوئٹر
بارش میں کے الیکٹرک کی نااہلی کے باعث جاں بحق 22 افراد کے لواحقین نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے باہر احتجاج کیا اور انصاف کی استدعا کی۔
لواحقین نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے باہر کے الیکٹرک کیخلاف نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا تھا ہمارے معصوم بچے بارش میں کھیلنے گئے تھے واپس نہیں آئے، عدالت سے انصاف کی بھیک مانگتے ہیں ہمیں انصاف دیا جائے۔
سماجی رہنما ظفر عباس نے کہا کہ بارش میں کے الیکٹرک کی نااہلی کے باعث لوگ مرے، کراچی والے بارش کے دوران اپنے بچوں کے جنازے اٹھا رہے تھے۔
میئر کراچی وسیم اختر اور امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم نے متاثرین سے ملاقات کی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وسیم اختر نے کہا کہ مرنے والوں کے لواحقین سے مکمل تعاون کریں گے، کے الیکٹرک کیخلاف مقدمہ درج کرانے میں مدد کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کیخلاف قانونی جنگ لڑیں گے، کے الیکٹرک کا فرانزک آڈٹ کراویا جائے۔
صدر پاکستان تحریک انصاف و پارلیمانی لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ قاتل کے الیکٹرک ایسٹ انڈیا کمپنی کا روپ دھار چکی ہے اور بے حسی کی انتہا کردی ہے، اس کی نااہلی کے یہ 22 کیسز وہ ہیں جو رپورٹ ہوئے ہیں، اس کے علاوہ الگ کیسز ہیں۔
لواحقین نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے باہر کے الیکٹرک کیخلاف نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا تھا ہمارے معصوم بچے بارش میں کھیلنے گئے تھے واپس نہیں آئے، عدالت سے انصاف کی بھیک مانگتے ہیں ہمیں انصاف دیا جائے۔
سماجی رہنما ظفر عباس نے کہا کہ بارش میں کے الیکٹرک کی نااہلی کے باعث لوگ مرے، کراچی والے بارش کے دوران اپنے بچوں کے جنازے اٹھا رہے تھے۔
میئر کراچی وسیم اختر اور امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم نے متاثرین سے ملاقات کی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وسیم اختر نے کہا کہ مرنے والوں کے لواحقین سے مکمل تعاون کریں گے، کے الیکٹرک کیخلاف مقدمہ درج کرانے میں مدد کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کیخلاف قانونی جنگ لڑیں گے، کے الیکٹرک کا فرانزک آڈٹ کراویا جائے۔
صدر پاکستان تحریک انصاف و پارلیمانی لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ قاتل کے الیکٹرک ایسٹ انڈیا کمپنی کا روپ دھار چکی ہے اور بے حسی کی انتہا کردی ہے، اس کی نااہلی کے یہ 22 کیسز وہ ہیں جو رپورٹ ہوئے ہیں، اس کے علاوہ الگ کیسز ہیں۔