منی پاکستان میں بدامنی انکشافات اور حقائق
عدلیہ کے بعد اب وفاقی حکومت نے سندھ انتظامیہ کو ہدایت اور مینڈیٹ دیا ہے کہ بدامنی میں ملوث قوتوں کا خاتمہ کرے
چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ کراچی بدامنی کیس کی سماعت کر رہا ہے۔فوٹو فائل
منی پاکستان کی صورتحال کی سنگینی پر وفاقی حکومت اور سپریم کورٹ کی طرف سے پیش کردہ انداز فکر اور رپورٹوں میں حقائق کے ساتھ انکشافات کے چشم کشا زاویے ملتے ہیں جن کی روشنی میں ارباب حکومت اور خاص طور پر قانون نافذ کرنیوالے ادارے اپنی حکمت عملی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی کوششوں کو مزید نتیجہ خیز بناسکتے ہیں۔ اس دردناک اور تلخ حقیقت سے شاید ہی کوئی انکار کرے کہ یہ حقائق کراچی کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی معمولات کے قالین میں اسٹیبلشمنٹ نے برسوں سے دبائے رکھے تھے، ماضی کی حکومتوں نے شہر کی ڈیموگرافی سے پیدا شدہ معاشی، لسانی، نسلی، قومیتی، فکری، تہذیبی اور ثقافتی تضادات کو درخور اعتنا سمجھا ہی نہیں، وقت ان مسائل کو جو زخم نما ہوتے جارہے تھے، پرورش کرتا رہا اور بالآخر ایک دن ''حادثہ'' تو ہونا تھا۔
آج منی پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں وہ ان ہی جمہوری اور آمرانہ حکومتوں کے تجاہل عارفانہ، بدانتظامی، نوکر شاہانہ بے حسی، عاقبت نااندیشی، عدم توجہی اور سیاسی و گروہی امتیاز و سیاسی مفادات و مصلحتوں کا نتیجہ ہیں۔ اس صورتحال کی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے جسے قبول کرتے ہوئے موجودہ حکومت نے جس آپریشن کا آغاز کیا ہے اور چیف جسٹس سپریم کورٹ اور لارجر بنچ کے جج حضرات کراچی بدامنی کیس کے حوالے سے جو ریمارکس دے رہے ہیں وہ درحقیقت منی پاکستان سمیت پورے ملک میں جاری طرز حکمرانی کی خامیوں کی نشاندہی کا فریضہ ہے۔ عدلیہ کے بعد اب وفاقی حکومت نے سندھ انتظامیہ کو ہدایت اور مینڈیٹ دیا ہے کہ بدامنی میں ملوث قوتوں کا خاتمہ کرے۔ یہ خوش آیند پیش قدمی ہے اسے بریک تھرو تک پہنچانے کے لیے تمام شراکت دار اپنا حصہ ڈالیں گے تب ہی کراچی میں امن قائم ہوگا۔
وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے موجودہ صورتحال یوں بیان کی ہے کہ کراچی میں پولیس اور رینجرز کے آپریشن کے بعد دہشت گرد کراچی سے بھاگنا شروع ہوگئے ہیں، 250 دہشت گرد فرار ہوکر شمالی وزیرستان چلے گئے، مفرور دہشت گردوں کو پورے پاکستان میں کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی، جب کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کراچی میں بھارت سے امریکا اور اسرائیل کا اسلحہ لانچوں کے ذریعے اسمگل کیا جارہا ہے، افغانستان سے روسی اسلحہ آرہا ہے، کیا ملکی ساحلوںکا دفاع ٹھیکے پر دیدیا گیا ہے؟ غیرقانونی اسلحہ کی برآمدگی کے لیے کرفیو بھی لگانا پڑے تو لگایا جائے، چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ کراچی بدامنی کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ بتایا گیا کہ کراچی میں رینجرز نے 400 جب کہ پولیس نے ایک ہزار ٹارگٹڈ آپریشن کیے، 15 دنوں میں ہلاکتوں کی شرح 18 سے 3 تک آ گئی۔ چوہدری نثار کے مطابق حکومت مکمل تیاری اور منصوبہ بندی سے کام کر رہی ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ آپریشن 3 مرحلوں پر مشتمل ہوگا، پہلا مرحلہ آیندہ 2 ہفتوں میں مکمل کر لیا جائے گا، تیسرا مرحلہ سب سے اہم اور فیصلہ کن ہوگا ۔ مناسب بات یہ ہوئی کہ مہاجر ری پبلکن آرمی کے شوشے کی حقیقت بھی سامنے لائی گئی۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے اس کے تانے بانے ایم کیو ایم سے نہیں کہیں اور جاتے ہیں، ایس ایم ایس اور فون کالز کے ذریعے اس آرمی نے کچھ واقعات کی ذمے داری قبول کی، اس کا ذکر سابق حکومت کی رپورٹس میں ہے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ مہاجر ریپبلکن آرمی کو کون اور کہاں سے آپریٹ کر رہا ہے۔ چوہدری نثار کی اس 'فریاد' کا جواز بھی ہے کہ ایوان ہماری مجبوریوں کا ادراک کرے، وفاق اور صوبے میں الگ الگ حکومتیں ہیں لیکن ہم مل کر کراچی میں آپریشن پر متفق ہوئے۔ ہم کراچی کی صورتحال پر سیاست نہیں کرسکتے۔ کراچی کے امن کے حوالے سے سیاست کرنا گناہ عظیم ہوگا۔ یہاں سخت آپریشن زیر بحث آتا ہے، متاثرہ سیاسی جماعتیں احتجاج کرتی ہیں کہ اس کا ہدف وہ ہیں اور کوئی بڑا ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہوا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی حکومت اور سپریم کورٹ کراچی کی روح کو لگے گہرے زخموں کا اندمال چاہتی ہیں۔ ججز کے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، کسٹم آفیسر و دیگر اہلکاروں اور سندھ پولیس چیف سے سوالات کا تسلسل بھی بدامنی سے پاک کراچی کی امنگوں اور آرزووں سے عبارت ہے۔ عدلیہ کا یہ کہنا کہ ہم دو سال سے جو کہتے آرہے ہیں وہ اقدامات آپ ابھی کررہے ہیں، کیا مذاق لگا رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اور جمہوری شراکت داروں کو کراچی کی بربادی کا ادراک کرنا چاہیے تاکہ ان عناصر کا قلع قمع ہوسکے جو شہر کو مقتل بنا چکی ہیں۔ عدلیہ کے روبرو انکشافات در انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ چیف سیکریٹری اور آئی جی نے کراچی کی صورتحال پر رپورٹ پیش کی جس کے مطابق 5 سے 16 ستمبر کے دوران جرائم میں ملوث 1357 ملزم گرفتار ہوئے جن کے قبضے سے 3 کلاشنکوف، 347 پستول اور 9 دستی بم ملے۔ چیف سیکریٹری نے بتایا کہ دہشتگردوں کے خلاف موثر کاررروائی کی جارہی ہے، آئی ایس آئی اور ایم آئی نے بھی ٹارگٹڈ آپریشن کو موثرقرار دیا، وزیراعلیٰ خود نگرانی کررہے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ تمام اضلاع میں رینجرز کو تھانے دے دیے گئے ہیں جب کہ موبائل کمپنیوں کو بھی غیر قانونی سمز بند کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز تہیہ کرلیں تو ایک گولی بھی غیرقانونی طریقے سے نہیں آسکتی، آپریشن کے لیے حکومتی اقدامات قابل ستائش ہیں مگر مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ ایک کسٹم آفیسر نے بتایا کہ کراچی میں اسلحہ افغانستان کے راستے آتا ہے، اسے بلوچستان میں کھولا اور گاڑیوں میں تھوڑا تھوڑا کرکے کراچی منتقل کیا جاتا ہے جب کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں سے بھی اسلحہ کراچی آرہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ غلط ہے، سب جانتے ہیں اسلحہ اور منشیات سمندری راستے سے بھارت، روس اور امریکا سے آتا ہے، بندرگاہوں پر بھی ایک مافیا کام کررہا ہے جو غیر قانونی اسمگلنگ کرکے شہر کو تباہ کررہا ہے۔ خدا کے واسطے اس ملک کو بچائیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ملک دشمنوں اور کراچی کی معیشت کو زمیں بوس کرنے کی خواہاں قوتوں سے نمٹنے کے لیے ملکی سیکیورٹی کے حساس معاملہ سے کراچی کی بدامنی کے معاملے کو الگ نہ سمجھا جائے۔ اس موقع پر سابق کسٹم افسر رمضان بھٹی پر مشتمل کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ حساس اداروں نے اسلحے کی اسمگلنگ کے معاملے سے انکار کیا ہے تاہم سمندری راستوں سے اسلحے کی اسمگلنگ کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جاسکتا۔ 39 سمندری راستے ہیں جہاں لانچوں کی آمدورفت ہوتی ہے، ان میں سے صرف 7 راستوں پر کسٹم کی پوسٹیں ہیں، کسٹم کے پاس وسائل کی کمی ہے۔
مذکورہ بالا حقائق اور جاری آپریشن کے تناظر میں اسلحے کی بہتات کا سنگین مسئلہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اسلحہ آپریشن پر مامور ''ناوک اندازوں''کی ہمت، حکمت عملی، موثر اور شفاف سراغ رسانی اور بلا امتیاز کریک ڈائون کا مرہون منت ہے۔ اس عمل میں شراکت داروں کا تعاون اصل شرط ہے۔ بجائے آپریشن کو متنازع بنانے کے تمام سیاسی قوتون کو کراچی کی خاطر اپنے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کا ساتھ دینا چاہیے، ملک کا مفاد اسی میں ہے۔
آج منی پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں وہ ان ہی جمہوری اور آمرانہ حکومتوں کے تجاہل عارفانہ، بدانتظامی، نوکر شاہانہ بے حسی، عاقبت نااندیشی، عدم توجہی اور سیاسی و گروہی امتیاز و سیاسی مفادات و مصلحتوں کا نتیجہ ہیں۔ اس صورتحال کی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے جسے قبول کرتے ہوئے موجودہ حکومت نے جس آپریشن کا آغاز کیا ہے اور چیف جسٹس سپریم کورٹ اور لارجر بنچ کے جج حضرات کراچی بدامنی کیس کے حوالے سے جو ریمارکس دے رہے ہیں وہ درحقیقت منی پاکستان سمیت پورے ملک میں جاری طرز حکمرانی کی خامیوں کی نشاندہی کا فریضہ ہے۔ عدلیہ کے بعد اب وفاقی حکومت نے سندھ انتظامیہ کو ہدایت اور مینڈیٹ دیا ہے کہ بدامنی میں ملوث قوتوں کا خاتمہ کرے۔ یہ خوش آیند پیش قدمی ہے اسے بریک تھرو تک پہنچانے کے لیے تمام شراکت دار اپنا حصہ ڈالیں گے تب ہی کراچی میں امن قائم ہوگا۔
وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے موجودہ صورتحال یوں بیان کی ہے کہ کراچی میں پولیس اور رینجرز کے آپریشن کے بعد دہشت گرد کراچی سے بھاگنا شروع ہوگئے ہیں، 250 دہشت گرد فرار ہوکر شمالی وزیرستان چلے گئے، مفرور دہشت گردوں کو پورے پاکستان میں کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی، جب کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کراچی میں بھارت سے امریکا اور اسرائیل کا اسلحہ لانچوں کے ذریعے اسمگل کیا جارہا ہے، افغانستان سے روسی اسلحہ آرہا ہے، کیا ملکی ساحلوںکا دفاع ٹھیکے پر دیدیا گیا ہے؟ غیرقانونی اسلحہ کی برآمدگی کے لیے کرفیو بھی لگانا پڑے تو لگایا جائے، چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ کراچی بدامنی کیس کی سماعت کر رہی ہے۔ بتایا گیا کہ کراچی میں رینجرز نے 400 جب کہ پولیس نے ایک ہزار ٹارگٹڈ آپریشن کیے، 15 دنوں میں ہلاکتوں کی شرح 18 سے 3 تک آ گئی۔ چوہدری نثار کے مطابق حکومت مکمل تیاری اور منصوبہ بندی سے کام کر رہی ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ آپریشن 3 مرحلوں پر مشتمل ہوگا، پہلا مرحلہ آیندہ 2 ہفتوں میں مکمل کر لیا جائے گا، تیسرا مرحلہ سب سے اہم اور فیصلہ کن ہوگا ۔ مناسب بات یہ ہوئی کہ مہاجر ری پبلکن آرمی کے شوشے کی حقیقت بھی سامنے لائی گئی۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے اس کے تانے بانے ایم کیو ایم سے نہیں کہیں اور جاتے ہیں، ایس ایم ایس اور فون کالز کے ذریعے اس آرمی نے کچھ واقعات کی ذمے داری قبول کی، اس کا ذکر سابق حکومت کی رپورٹس میں ہے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ مہاجر ریپبلکن آرمی کو کون اور کہاں سے آپریٹ کر رہا ہے۔ چوہدری نثار کی اس 'فریاد' کا جواز بھی ہے کہ ایوان ہماری مجبوریوں کا ادراک کرے، وفاق اور صوبے میں الگ الگ حکومتیں ہیں لیکن ہم مل کر کراچی میں آپریشن پر متفق ہوئے۔ ہم کراچی کی صورتحال پر سیاست نہیں کرسکتے۔ کراچی کے امن کے حوالے سے سیاست کرنا گناہ عظیم ہوگا۔ یہاں سخت آپریشن زیر بحث آتا ہے، متاثرہ سیاسی جماعتیں احتجاج کرتی ہیں کہ اس کا ہدف وہ ہیں اور کوئی بڑا ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہوا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ وفاقی حکومت اور سپریم کورٹ کراچی کی روح کو لگے گہرے زخموں کا اندمال چاہتی ہیں۔ ججز کے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، کسٹم آفیسر و دیگر اہلکاروں اور سندھ پولیس چیف سے سوالات کا تسلسل بھی بدامنی سے پاک کراچی کی امنگوں اور آرزووں سے عبارت ہے۔ عدلیہ کا یہ کہنا کہ ہم دو سال سے جو کہتے آرہے ہیں وہ اقدامات آپ ابھی کررہے ہیں، کیا مذاق لگا رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اور جمہوری شراکت داروں کو کراچی کی بربادی کا ادراک کرنا چاہیے تاکہ ان عناصر کا قلع قمع ہوسکے جو شہر کو مقتل بنا چکی ہیں۔ عدلیہ کے روبرو انکشافات در انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ چیف سیکریٹری اور آئی جی نے کراچی کی صورتحال پر رپورٹ پیش کی جس کے مطابق 5 سے 16 ستمبر کے دوران جرائم میں ملوث 1357 ملزم گرفتار ہوئے جن کے قبضے سے 3 کلاشنکوف، 347 پستول اور 9 دستی بم ملے۔ چیف سیکریٹری نے بتایا کہ دہشتگردوں کے خلاف موثر کاررروائی کی جارہی ہے، آئی ایس آئی اور ایم آئی نے بھی ٹارگٹڈ آپریشن کو موثرقرار دیا، وزیراعلیٰ خود نگرانی کررہے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ تمام اضلاع میں رینجرز کو تھانے دے دیے گئے ہیں جب کہ موبائل کمپنیوں کو بھی غیر قانونی سمز بند کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز تہیہ کرلیں تو ایک گولی بھی غیرقانونی طریقے سے نہیں آسکتی، آپریشن کے لیے حکومتی اقدامات قابل ستائش ہیں مگر مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ ایک کسٹم آفیسر نے بتایا کہ کراچی میں اسلحہ افغانستان کے راستے آتا ہے، اسے بلوچستان میں کھولا اور گاڑیوں میں تھوڑا تھوڑا کرکے کراچی منتقل کیا جاتا ہے جب کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں سے بھی اسلحہ کراچی آرہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ غلط ہے، سب جانتے ہیں اسلحہ اور منشیات سمندری راستے سے بھارت، روس اور امریکا سے آتا ہے، بندرگاہوں پر بھی ایک مافیا کام کررہا ہے جو غیر قانونی اسمگلنگ کرکے شہر کو تباہ کررہا ہے۔ خدا کے واسطے اس ملک کو بچائیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ملک دشمنوں اور کراچی کی معیشت کو زمیں بوس کرنے کی خواہاں قوتوں سے نمٹنے کے لیے ملکی سیکیورٹی کے حساس معاملہ سے کراچی کی بدامنی کے معاملے کو الگ نہ سمجھا جائے۔ اس موقع پر سابق کسٹم افسر رمضان بھٹی پر مشتمل کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ حساس اداروں نے اسلحے کی اسمگلنگ کے معاملے سے انکار کیا ہے تاہم سمندری راستوں سے اسلحے کی اسمگلنگ کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جاسکتا۔ 39 سمندری راستے ہیں جہاں لانچوں کی آمدورفت ہوتی ہے، ان میں سے صرف 7 راستوں پر کسٹم کی پوسٹیں ہیں، کسٹم کے پاس وسائل کی کمی ہے۔
مذکورہ بالا حقائق اور جاری آپریشن کے تناظر میں اسلحے کی بہتات کا سنگین مسئلہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اسلحہ آپریشن پر مامور ''ناوک اندازوں''کی ہمت، حکمت عملی، موثر اور شفاف سراغ رسانی اور بلا امتیاز کریک ڈائون کا مرہون منت ہے۔ اس عمل میں شراکت داروں کا تعاون اصل شرط ہے۔ بجائے آپریشن کو متنازع بنانے کے تمام سیاسی قوتون کو کراچی کی خاطر اپنے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کا ساتھ دینا چاہیے، ملک کا مفاد اسی میں ہے۔